بھارت میں ایک اورپاکستان!
11 فروری 2020 (00:20) 2020-02-11

”سب بت اُٹھوائے جائیں گے، بس نام رہے گا اللہ کا“

آئی ایس کاظم

1969ءمیں نہرو کی بیٹی کی مطلق العنان طبیعت کے باعث حکمران جماعت کانگریس تقسیم ہو گئی جس سے کانگریس ملک کی مرکزی حیثیت، مرکزی سیاست اور مرکزی اثرورسوخ سے نکل گئی۔ 15اگست 1947ءسے 1969ءتک پنڈت جواہر لال نہرو کا نظریہ اتفاق یعنی ہندو مسلم مل کر رہنے کا نظریہ کسی حد تک اثرورسوخ رکھتا تھا، بے شک یہ دکھاوے کی حد تک ہی تھا لیکن کانگریس جماعت کی تقسیم نے کانگریس کو مرکزی سیاست سے الگ کر کے ملکی یکجہتی کی بنیاد کو کمزور کردیا اور کٹربنیاد پرستوں کو موقع فراہم کیا جو آرایس ایس کی صورت میں بڑی دیر سے تاڑ لگائے بیٹھے تھے جن میں سے بعد میں شہرت کمانے والوں میں ایل کے ایڈوانی، مُرلی منوہر جوشی، اٹل بہاری واجپائی اور نریندر مودی شامل ہیں۔

مودی نے 1967ءمیں اپنا گھر چھوڑ دیا اور دوسال تک ملک کے مختلف ”آشرموں“ میں سوامیوں، گروﺅں، پنڈتوں، یوگیوں، سنتوں، بھگتوں، سادھوﺅں اور جوگیوں سے ملتا رہا۔ ان سے آشیرباد لیتا رہا۔ 1970ءکے شروع میں یہ ویدنگر واپس ہوا اور جلد ہی احمدآباد جا کر ”گجرات سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن“ کے بس اڈے پر اپنے چچا کے ساتھ مل کر چائے فروخت کرنے کے کام پر لگ گیا۔ اس سے پہلے یہ ویدنگر سٹیشن پر اپنے باپ کے ساتھ چائے بیچتا تھا۔ احمد آباد میں یہ پھر سے لکشمن راﺅ انعامدار (وکیل صاحب) سے ملا جو کہ R.S.S کے ہیڈکوارٹر ”ہجویزکھوّن“ سے منسلک تھا۔

1971ءکی پاک بھارت جنگ کے بعد مودی نے چائے فروشی کا کام چھوڑ دیا اور ہمہ وقت آرایس ایس کا پرچارک بن گیا یعنی آٹھ سال کی عمر سے جو سلسلہ چلا تھا وہ اب تک رُکنے کا نام نہیں لے رہا۔ 26جون 1975ءمیں جب اندرا گاندھی نے مارشل لاءلگایا تو مودی کے لیے تو جیسے ”بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا“ والا حساب ہو گیا۔ مودی کو RSS کے لیے اپنے جوہر دکھانے کا موقع میسر آیا کیونکہ اب وہ سمبھاگ پرچارک (ریجنل آرگنائزر) سے پرچارک انچارج بن چکا تھا اور R.S.S کے سٹوڈنٹ ونگ H.B.V.P (اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد) کا انچارج بھی بن چکا تھا۔ پھر آرایس ایس کے اس ہونہار بالکے نے گورنمنٹ کے خلاف پمفلٹ چھپوا کر دہلی اور ملحقہ علاقوں میں بانٹنے شروع کر دیئے تھے، مختصراً اس کی تمام جدوجہد کو دیکھتے ہوئے 1985ءمیں R.S.S نے اسے BJP کے حوالے کردیا۔

1988ءمیں یہ بھاجپا (BJP) کا آرگنائزنگ سیکرٹری (گجرات یونٹ) مقرر ہوا۔ 1990ءمیں لال کشن ایڈوانی کے ساتھ ایودھیا رتھ یاترا کی۔ 1991ءمیں اس نے مرلی منوہرجوشی کے ساتھ مل کر ایکتا یاترا کی۔ 2001-02ءمیں گجرات کا وزیراعلیٰ بننے کے بعد تو مودی کا حال ”انھے ہتھ بٹیر“ (اندھے کے ہاتھ میں بٹیرا) والا ہو گیا۔ اقتدار میں آتے ہی وہ آرایس ایس کا پُرانا بالکا اُس کے اندر جاگ اُٹھا اور اس نے آتے ہی گجرات فسادات کی آڑ لے کر مسلمانوں کا قتل عام کیا۔

27فروری 2002ءگودھرا ریلوے سٹیشن سے شروع ہونے والا واقعہ بھلائے نہیں بھولتا۔ کیشوبھائی پٹیل کی سیاسی ساکھ کھو جانے سے منظرعام پر آنے والا مودی اب RSS کا کٹربنیادپرست جنونی قاتل ثابت ہورہا تھا جو کہ RSS کے ایجنڈے کو ہر حال میں مکمل کرنے کیلئے پر تول رہا ہے جس میں صرف ہندوتوا ہی نظر آئے۔ خصوصاً مسلمانوں کا یہ ازلی دُشمن مسلمانوں کی جان ومال کے درپے ہے اور اب حال ہی میں مسلمان مخالف شہریت بِل پاس کر کے مسلمانوں کے تابوت میں آخری ٹھونک دی ہے۔ اس متنازعہ شہریت بِل کے خلاف صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندوﺅں کے علاوہ باقی سب طبقہ فکر کے لوگ شامل ہو چکے ہیں کیونکہ وہ سمجھ چکے ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں کا کوئی مستقبل نہیں بلکہ بعض فیصلوں پر تو ہندو بھی حیران ہورہے ہیں اور سکھ بھی یہ سمجھ چکے ہیں کہ ہندوستان میں ان کا مستقبل تاریک ہے لہٰذا وہ اپنے الگ وطن خالصتان کا مطالبہ کررہے ہیں اور اب تو یہ حال ہے کہ 26جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کو سکھ یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔

”پنجابی سکھ سنگھ“ کے سربراہ گوپال سنگھ چاﺅلہ نے کہا ہے کہ ”بھارتی حکومت کی جمہوریت کا جنازہ پوری دُنیا دیکھ رہی ہے۔ دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک میں کئی روز سے اس کے اپنے ہی شہری سڑکوں پر ہیں جو وہاں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے غیرانسانی اور امتیازی سلوک کا بھانڈا پھوڑ رہے ہیں۔ بھارت میں مسلمان، سکھ، دلت، آدی واسی اور عیسائیوں سمیت کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں۔

بین الاقوامی ادارے سپیکٹیٹر انڈیکس کے مطابق بھارت دُنیا بھر میں رہنے کے لیے پانچواں خطرناک ترین ملک ہے۔ انڈیکس نے انسانی حقوق کی پامالی، بچوں اور خواتین سے زیادتی کے واقعات اور عام آدمی کے استحصال کے واقعات کو انڈیکس میں شامل کیا ہے۔ سروے کے مطابق بھارت میں شہریوں کے حقوق غصب کرنے، بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنا اور آزادیِ اظہار پر پابندی ان تمام باتوں کو زیرنظر رکھتے ہوئے انڈیکس نے بھارت کو پانچویں نمبر رکھا ہے۔ کیوں رکھا ہے اس کی بڑی واضح صورتحال اب سامنے آچکی ہے۔ مودی سرکار نے دہلی میں بھی مقبوضہ کشمیر کی طرز کا قانون لاگو کردیا ہے جس کے تحت کسی بھی شہری کو کسی بھی شخص کو ایک سال تک بغیر الزام زیرحراست رکھا جاسکتا ہے۔

سال میں 365دن ہوتے ہیں جبکہ جیل میں یا قید میں ایک دن گزارنا بھی امرمحال ہے۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے اس قانون یعنی این ایس اے (نیشنل سکیورٹی ایکٹ) کی 90دن کے لیے منظوری دے دی ہے اور یہ ایکٹ 18اپریل تک نافذالعمل رہے گا یعنی ان 90دنوں میں اگر کسی شہری کو گرفتار کیا جاتا ہے تو 90دن گزرنے کے بعد بھی جب (اگر) یہ قانون لاگو نہیں رہے گا تب بھی وہ شخص/ شہری ایک سال تک زیرحراست رہے گا۔ دُنیا بھر میں کون سا ایسا ملک ہے جو اس طرز کا نایاب کالا قانون بنائے سوائے بھارت کے۔ بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ گرفتار شخص کو وکیل کرنے کی سہولت بھی میسر نہ ہو گی اور گرفتاری کے ڈیڑھ ہفتے بعد تک بھی زیرحراست شخص کو سکیورٹی ادارے الزام کی نوعیت بتانے کے پابند نہ ہونگے اور اس پر دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ تو معمول کا معاملہ ہے یعنی اُن کے لیے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے اور یہ قانون بھارت نے متنازعہ قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لیے تخلیق کیا ہے جبکہ بھارت کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اس قانون پر بڑی تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے انسانیت سے گری ہوئی حرکت قرار دیا ہے۔ اس قانون کا اطلاق دہلی پر ہی کیوں کیا گیا، اس کی خاص وجہ دہلی کے ”شاہین باغ کا دھرنا“ ہے۔ کئی روز سے جاری اس دھرنے کو ختم کرانے کی دہلی انتظامیہ نے پوری تیاری کرلی ہے اور اس قانون کی آڑ میں لوگوں کو قبل ازوقت ہی ڈرایا جارہا ہے۔

اس دھرنے اور احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں مرد وخواتین شامل ہیں اور اس شاہین باغ میں دھرنے کے خلاف تحریری شکایت بھی جمع کرا دی گئی ہے جس کی آڑ لے کر پولیس زبردستی یہ دھرنا ختم کرائے گی اور لوگوں کو اس کالے قانون کے تحت گرفتار بھی کرے گی جیسا کہ لکھنو¿ میں پولیس نے مظاہرین پر دھاوا بول کر ان کے کمبل، تکیے اور دیگر کھانے پینے کا سامان چھین لیا ہے۔ آگرہ، کانپور، لکھنو¿، علی گڑھ اور ملک کے بہت سے حصوں میں مظاہرے جاری ہیں۔ دہلی کے ساتھ ایک خاص مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگلے ماہ فروری میں وہاں ”اسمبلی انتخابات“ ہونے والے ہیں اور دہلی میں ”عآپ“ (عام آدمی پارٹی) پہلے بھی مودی حکومت کو ہرا چکی ہے لہٰذا اب مودی حکومت وہاں پر پہلے ہی حالات کو کنٹرول کرنا چاہ رہی ہے۔ بھارت بھر میں جاری احتجاج میں طلبہ جو کردار ادا کررہے ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں بلکہ اس میں ہندو طلبہ بھی برابر کے شریک ہیں اور وہ اس متنازعہ قانون کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کی نوجوان صدر ”آئشی گھوش“ کو مظاہرے کے دوران لوہے کا سریا لگنے سے اُن کی کھوپڑی تقریباً چٹخ ہی گئی تھی، وہ اب بھی زیرعلاج ہیں اور ”دپیکا پاڈوکون“ جواہر لال یونیورسٹی پہنچیں اور انہوں نے پورے ادب واحترام سے ہاتھ جوڑ کر آئشی گھوش کو نمستے/ پرنام کیا۔ انڈسٹری کی صف اوّل کی اس اداکارہ کا یوں خراج عقیدت پیش کرنا خالی ازعلت نہیں جبکہ دپیکا کی نئی فلم ”چھپاک“ بھی ریلیز ہونے والی ہے جس کا آرایس ایس بائیکاٹ کررہی ہے۔ فلم انڈسٹری کے سٹارز سونم کپور، عالیہ بھٹ، تاپسی پنو، سوارا بھاسکر، ریچاچڈھا، فرحان اختر، انوراگ کیشپ، انوبھوسنہا اور ذیشان ایوب بھی احتجاج کرنے والوں کے ساتھ دل سے ساتھ نبھا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بھارت کا منفی چہرہ دُنیا کے سامنے نہ آئے۔ دپیکا کے اس دورے سے سنیل شیٹھی، ورون دھون اور سنی لیون نے بھی اپنی خاموشی توڑ دی ہے اور وہ اس موضوع پر اظہارخیال کرنے لگے ہیں جبکہ آرایس ایس کے غنڈوں نے اپنے ہی ملک کی سٹار کے خلاف گھٹیاترین زبان استعمال کرنا شروع کردی ہے اور دپیکا کو حکومت سے جڑی اشتہاری مہمات سے بھی ہٹایا جارہا ہے اور فیض احمد فیض کی نظم کے دو مصرعوں پر تو بھارتی اور بھی پھڑک اُٹھے ہیں۔

کانپور میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کے مسلم اور ہندو طلبہ مظاہرے میں شریک تھے کہ ایک طالب علم نے فیض کی نظم پڑھی مگر جب وہ اس مصرعے پر پہنچا ”سب بت اُٹھوائے جائیں گے۔ بس نام رہے گا اللہ کا“ تو ایک ہندو پروفیسر سے برداشت نہ ہوسکا اور بھارتی حکومت کی پھُرتیاں کہ اُس نے اس پر بھی ایک کمیٹی بٹھا دی جس پر بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹیجو نے فیصلے پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ مختصر یہ کہ بھارت میں ”ہاہاکار“ مچی ہوئی ہے اور مسلم ہی نہیں بلکہ تمام اقلیتیں اب بھارت میں خود کو غیرمحفوظ تصور کررہی ہیں اور آرایس ایس کا سربراہ موہن بھگوت علی الاعلان کہہ رہا ہے کہ ” بھارت صرف ہندوﺅں کا ہے“۔ اُس کا یہ بیانیہ بھارت میں بسنے والے 20 سے 22کروڑ مسلمانوں کو دعوت دے رہا ہے کہ ایک اور 14اگست تمہاری منتظر ہے۔

٭٭٭


ای پیپر