مُفلسی ہے روگ ایسا
11 فروری 2020 2020-02-11

قانون قدرت ہے ، اور جس کی حقانیت وسچائی تاریخ عالم وانسانیت میں بھری پڑی ہے ، کہ ہرانسان، ہر قوم وملک کوعروج کے بعد زوال اس کا مقدر بنادیا گیا ہے ، خواہ اس بات کو دور قبل مسیح سے شروع کریں، یا حالیہ چین میں وبائی مرض کے تناظر میں جانچیں، نتیجہ اُسی سچ پہ جاکر ختم ہوگا، اس حوالے سے ہم سے غلطی یہ سرزد ہو جاتی ہے ، کہ ہم اسے اپنے دنیاوی ماہ وسال کے حوالے سے ماپنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ اللہ سبحانہ‘ و تعالیٰ کے ہاں، ان کا پیمانہ بالکل الگ سے ہے ۔

ہمارے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تقریباً ڈھائی ہزار سال بعد قبولیت کی معراج پہ پہنچی، اور حضور عروج آدمیت کے لیے مبعوث فرمائے گئے، اور ان کا لوہا، اور اسلام کی حقانیت کا ڈنکا ان شاءاللہ قیامت تک اسی طرح بجتا رہے گاکہ جو باطل قوتوں اور کفروالحاد کی نیندیں اڑانے کے لیے کافی ہے ، ہمارا آج کا موضوع چونکہ چین پہ پڑی قدرتی افتاد کے بارے میں ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کسی بھی انسان پہ یا ملک پہ پڑی مصیبت و آزمائش کو محض من جانب اللہ نہ سمجھا جائے، وہ اس کی خود اپنی غلطیوں اور کرتوتوں کا نتیجہ ہوتا ہے ، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بات جو میرے ذہن میں آئی ہے ، کہ کچھ عرصہ قبل امریکہ کی ایک فلم جس کا نام CONTAGION”کنٹجن“تھا، ریلیز کی گئی تھی، اسے محض اتفاق سمجھا جائے یا امریکہ کی طرف سے سو، سوسالہ منصوبہ جات کا نتیجہ قرار دیا جائے کہ جس پہ امریکہ کی حکومتیں تبدیل ہو جانے کے باوجود بھی ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا۔ اس فلم میں بظاہر امریکہ کو دکھایا گیا تھا، مگر ہوبہو سانس کی تکلیف والی وبائی بیماری سے تباہی دکھائی گئی تھی، اس طرب پوشیدہ ومخفی کو اشعار کا رنگ دیتے ہوئے سید مظفر شاہ کہتے ہیں :

میری دھرتی پر چڑھائی پھر سے اغیار کی

کوئی پورس ہی نہیں، جو سکندر روک لے

ہوچکا معدوم اب وہ رشتہ¿ جان وجنون

اے فقہیہ شہر اب تو سارے پتھر روک لے

اس فلم میں بالکل چین کی حالیہ وبائی بیماری کی صحیح عکاسی کی گئی تھی، اور اس طرح فٹ پاتھوں پر انسان مرے پڑے تھے، اور ہرایک شخص نے چہرے پہ ماسک لگایا ہواتھا، یہ فلم 2011ءمیں امریکہ میں ریلیز کی گئی تھی۔

قارئین آپ کو پتہ ہے ، کہ چین کی ایک سال کی برآمد 3ٹریلین ڈالرز ہے ،بلکہ تھی میں نے کوشش کی، کہ اس رقم کو روپوں کے حساب سے بتاﺅں، مگر میں، معذرت خواہ ہوں، کہ جب میں نے اس کو روپوﺅں میں منتقل کرنا چاہا، تو کمپیوٹر جواب دے گیا، اور اس میں اتنے صفر آہی نہیں سکتے تھے اب جب کہ دنیا کے تمام ملکوں نے چین کی اشیاءکا بائیکاٹ کردیا، دوبارہ اس تجارت کو بحال کرنا ناممکن نہیں، تو مشکل ضرور ہے ، ویسے آپس کی بات ہے ، امریکہ تو ایک ”سوئی“ بھی نہیں بناسکتا، اور وہ چین کا دست نگرہے، یہ بھلا ٹرمپ جیسے قومیت پسند کو کیسے برداشت ہوتا کافی عرصہ پہلے چین نے ایک ایسی مربوط ومضبوط منصوبہ بندی کی تھی جس پہ وہ سختی سے کاربند رہا، کہ کسی بھی طرح اپنی معیشت کو تجارتی لحاظ سے اتنا مضبوط کرلیا جائے ، کہ وہ پوری دنیا کی تجارت پہ قبضہ کرلے، اس حوالے سے اُس نے ایک ہی چیز کی درجہ بندی کرکے مختلف قیمتیں مقرر کردیں، ایک چیز کی قیمت اگر ہزار یا پانچ سو تھی تو وہی چیز سوروپے میں بھی مل جاتی ہے ، یہی وجہ ہے ، کہ چین نے دنیا بھر کی انڈسٹری کو تالے لگوادیئے تھے حتیٰ کہ بھارت کو بھی بے بس کردیا تھا، جس کو اپنی سستی اشیاءپہ ناز تھا، خاص طورپر بھارت کی دست کاری کی انڈسٹری ، جوکسی زمانے میں کینیڈا سے لے کر سعودیہ اور عرب ممالک میں اپنے جھنڈے گاڑے ہوئی تھی، سارے مزدوروں اور ہنرمندوں کو بے کار کردیا تھا، اور وہ پیسے پیسے کو محتاج ہوگئے تھے، اور یہ صورت حال صرف ہندوستان جیسی اربوں انسانوں کے ملک کا نہیں، دنیا بھر کے ممالک کے ہنرمند بے روزگار ہوگئے تھے پاکستان کی موجودہ حکومت نے جب دنیا بھر کے جاپان سے لے کر امریکہ تک تمام ممالک نے کروناوائرس کی وجہ سے چین کے ساتھ اپنی ایئر لائنز بند کردیں، مگر عمران احمد نیازی صاحب نے چین سے رابطہ بحال کرنے اور پی آئی اے کی اور دوسری پاکستانی ایئرلائنز کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کرکے رسول پاک ، ریاست مدینہ کے اصل بانی معاذ اللہ حکم عدولی کرنے کے مرتکب ہوگئے ہیں، کیونکہ رسول پاک کی حدیث پاک ہے ، کہ جہاں وبائی مرض پھوٹ پڑے مثلاً اگر تمہیں زمین کے کسی حصے سے خبر ملے، کہ وہاں وباءپھوٹ پڑی ہے ، تو وہاں نہ جاﺅ، لیکن اگر تم اس جگہ پہ ہو، تو اس علاقے سے باہر مت جاﺅ، دوسری حدیث مبارکہ یہ ہے ، کہ اس بیماری کی وجہ سے جگہ چھوڑ کر بھاگنا ایسا ہے ، جیسے جنگ سے بھاگا ہواکوئی شخص، اور اگر اس کی وفات ہو جائے، تو اس کو صبر کرنے کے صلے میں شہادت کا درجہ ملتا ہے ۔ مختصر یہ کہ چین کی برآمدات آسمان کو چھورہی تھیں، حتیٰ کہ وہ مصنوعی سبزیاں پھل اور گوشت بھی بنار ہا تھا، کیا ان حالات میں اب یہ ممکن ہے کہ وہ دوبارہ اپنے پاﺅں پہ کھڑا ہوسکے، کیونکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چین کی بنی ہوئی ہرچیز پہ کرونا کا اثر ہوسکتا ہے ، مثلاً سبزی، کپڑے، اور جوتے، اب پاکستان میں ہی دیکھ لیں، کہ یہاں کے غرباءاور مساکین بھی اتنے محتاط ہوگئے ہیں، کہ انہوں نے چین کی بنی ہوئی مصنوعات کی خریداری بند کردی ہے ، اور امیر کو غریب بنانے پہ تل گئے ہیں۔

مفلسی ہے روگ ایسا

مستقل رویوں کو !

کس قدر بدلتا ہے

اب خدامعلوم یہ سلسلہ تجارت کب کھلے، کیونکہ ہرانسان کو جان سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے ، کیونکہ جان ہے ، تو جہان ہے ، بقول سید مظفر علی شاہ

سدا محو تماشا ہوں

مرے اندر سجی محفل


ای پیپر