اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں !
11 فروری 2020 2020-02-11

(نویں قسط، گزشتہ سے پیوستہ)

اپنے گزشتہ کالم میں ،میںعرض کررہا تھا 2018ءکے عام انتخابات میںکچھ اپنی چوبیس سالہ پرانی رفاقت کے باعث اور کچھ ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتوں اور چند فوجی حکمرانوں کی ڈالی ہوئی گندگی کے ردعمل میں پی ٹی آئی اور اس کے سربراہ عمران خان کے ہم اتنے دیوانے تھے اُن کے خلاف کوئی شخص کوئی بات مکمل دلیل سے بھی کرتا، ہم بغیر سوچے سمجھے اُسے رد کردیتے۔ ہمیں اُن کی خرابیاں بھی اُن کی خوبیاں نظر آتی تھیں، ہمارا مو¿قف بلکہ ہمارا ” ایمان“ یہ ہوتا تھا اُن میں لاکھ خرابیاں ہوں گی، پر موجودہ سارے سیاستدانوں سے وہ لاکھ درجے بہتر ہیں، وہ اقتدار میں نہ آتے اُن کا یہ ”بھرم“ شاید قائم رہتا، اُن کی ایک خوبی کا بہت تذکرہ بلکہ بہت چرچا ہوتا ہے، ہم بھی ابھی تک بار بار یہ کہنے اور لکھنے سے باز نہیں آرہے کہ ”اُن کے دشمن بھی یہ تسلیم کرتے ہیں وہ ”کرپٹ“ بہرحال نہیں ہیں “ ،.... کبھی کبھی خان صاحب کے ایک مخلص دوست کی حیثیت میں میں اِس ”گندی سوچ“ کا شکار ہو جاتا ہوں اگر وہ کرپٹ نہیں ہیں تو کچھ کرپٹ لوگوں کو اُنہوں نے اپنی کابینہ میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ اور ایسے لوگ ہروقت اُن کے اردگرد کیوں موجود رہتے ہیں جن پر مالی بدعنوانیوں کے کئی الزامات ہیں؟، جہاں تک ”اخلاقی کرپشن“ کا معاملہ ہے وہ اُن کے نزدیک ویسے ہی کوئی اہمیت نہیں رکھتی، ڈیڑھ برس کے اُن کے اقتدار میں ہر شعبے میں خرابیاں جس قدر بڑھتی جارہی ہیں اور یہ سلسلے تھمنے کا نام نہیں لے رہا، ہمیں اب یہ دیکھنا اور سوچنا پڑے گا اس ملک کو کرپشن نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے یا نااہلی نے ؟؟؟، لوگوں کا یہ احساس دن بدن پختہ ہوتا جارہا ہے کسی حکمران کی نااہلی کسی حکمران کی کرپشن سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے، اور نااہلی سے عوام فوری اور براہ راست متاثر ہوتے ہیں، .... اس وقت عوام کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کوئی حکومت ہی نہیں ہے، ....کسی کو احساس ہے عوام کی یہ اذیت اور نفرت کس کے کھاتے میں پڑرہی ہے؟ خان صاحب فرماتے ہیں ”آپ نے گھبرانا نہیں ہے“ .... عام تاثر یہی ہے وہ خود بھی نہیں گھبراتے۔ غلط کام کرتے ہوئے تو بالکل ہی نہیں گھبراتے، کرکٹ سے مجھے چونکہ کوئی دلچسپی نہیں، لہٰذا مجھے نہیں معلوم سوائے ایک ورلڈ کپ جیتنے کے کرکٹ میں اُن کی کیا خدمات ہیں یا بطور کپتان اور کھلاڑی اس شعبے میں اُنہوں نے کتنی اچھائیاں یا خرابیاں کیں؟ ، ممکن ہے کرکٹ میں وہ نہ گھبرائے ہوں، اپنی ٹیم کو بھی انہوں نے گھبرانے کی اجازت نہ دی ہو ، مگر سیاست اور حکومت، کرکٹ سے مختلف ہوتے ہیں، سیاست اور حکومت میں وہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتے“ وہ گھبرائے نہیں ہیں یا گھبرانے والے نہیں ہیں“، بے شمار معاملات میں وہ کھل کر گھبرائے۔اگر وہ نہ گھبراتے تو یہ فیصلہ کرلیتے کہ اقتدار میں آنے کے لیے میں سوائے عوام کے کسی اور قوت کا سہارا یا کاندھا قبول نہیں کروں گا، چاہے ساری عمر اقتدار سے دور ہی کیوں نہ رہوں، .... وہ گھبراگئے کہ اُن کی عمر زیادہ ہوتی جارہی ہے، وہ اب وزیراعظم نہ بنے کبھی نہیں بن سکیں گے، گھبراہٹ کے اِسی عالم میں اُنہوں نے ہم ایسے مخلص دوستوں کے مشورے بھی رد کردیئے اور کچھ قوتوں بلکہ اصلی قوتوں کی حمایت یا مدد قبول کرنے پر بخوشی آمادہ ہوگئے.... سچ پوچھیں ہمارا دل اُسی وقت ٹوٹ گیا تھا، .... پھر مختلف معاملات میں وہ بار بار ”یوٹرن“ لیتے رہے، یہ بھی ایک طرح کی ”گھبراہٹ“ ہی ہوتی ہے، نہ گھبرانے والا آدمی سوچ سمجھ کر فیصلے کرتا ہے، پھر اُن پر ڈٹ جاتا ہے، بے شمار معاملات کی ایک لمبی چوڑی تفصیل ہے جس سے اُن کی گھبراہٹ ظاہر ہوتی رہی، وہ اگر نہ گھبراتے تو اپنی سیاست اور حکومت کی ٹیم کے مبینہ طورپر سب سے ”باصلاحیت کھلاڑی“ اسد عمر کو اُن کے منصب بطور وزیر خزانہ کبھی نہ ہٹاتے، .... اُن کے بعد معاشی معاملات سدھارنے کے لیے جو ٹیم انہوں نے امپورٹ کی مزید گند ڈالنے کے بعد اب وہ بھی دُم دبا کر بھاگنے کی تیاریوں میں مگن ہے۔ ایک تو بلکہ بھاگ بھی گیا ہے، شبر زیدی کی قیادت میں معاشی یا بدمعاشی ٹیم کے کچھ کارکردگی نہ دکھانے پر اسد عمر کو چاہیے کسی روز اتفاق سے خان صاحب کا موڈ ذرا اچھا ہو ، اُنہیں یہ مشہور لطیفہ سنائیں ” ایک صاحب ایک وکیل کے پاس گئے، اُن سے کہا ” میرے بیٹے کو قتل کے جرم میں سیشن کورٹ نے سزائے موت سنادی ہے، آپ نے بذریعہ ہائی کورٹ اِس سزا کو معطل کروانا ہے“ .... وکیل صاحب نے کیس کی تفصیلات معلوم کرنے کے بعد ”دس ہزار روپے “ فیس مانگی، اُن صاحب نے سوچا یہ کوئی بہت ہی ”ماٹھا وکیل“ ہے جو اتنے بڑے کیس کے صرف دس ہزار روپے مانگ رہا ہے۔ .... وہ وہاں سے نکل کر ایک اور وکیل کے پاس گئے،اُس وکیل نے دس لاکھ روپے فیس مانگی ، اُن صاحب نے وکیل کو پوری فیس ایڈوانس ہی دے دی، کیونکہ وکیل صاحب نے کن سن میں انہیں بتا دیا تھا اس رقم میں جج صاحب کی فیس بھی شامل ہے، .... خیر ہائی کورٹ میں کیس لگا اور پہلے ہی روز جج صاحب نے اپیل مسترد کرکے سیشن کورٹ کے فیصلے کے مطابق سزائے موت بحال رکھی، .... فیصلہ سننے کے بعد وہ صاحب بڑے دُکھی دل سے ہائی کورٹ سے باہر آرہے تھے اُنہیں پہلے والا وکیل مل گیا، اُس نے پوچھا ” کیا بنا آپ کے کیس کا ؟۔ وہ صاحب بولے ” ہماری اپیل مسترد ہوگئی ہے“ .... وکیل نے پوچھا ”آپ نے وکیل کو فیس کتنی دی؟ اُنہوں نے بتایا ” ہم نے دس لاکھ فیس دی اس کے باوجود کیس ہار گئے“ .... وکیل صاحب بولے ” یہی کام میں نے آپ کو پانچ ہزار میں کروادینا تھا “ .... ہمارے محترم وزیراعظم خان صاحب گھبرانے اور اسدعمر کو ہٹانے کے بعد ملکی معیشت درست کرنے کے لیے جو معاشی ٹیم بھاری تنخواہوں اور مراعات پر لے کر آئے، اب تک جو کارکردگی اس ٹیم نے دکھائی، جس کا اچھا خاصا نقصان ہوا، عوام کا بھرکس نکل گیا تو یہی کام بے چارے اسد عمر نے کم پیسوں میں ہی کردینا تھا، .... سو خان صاحب کی خدمت میں گزارش ہے کچھ معاملات میں وہ خود گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں تو تھوڑا بہت گھبرانے کی اجازت عوام کو بھی دے دیں، کیونکہ عوام کو سوائے گھبرانے کی اجازت دینے کے اور تو کچھ وہ دے نہیں سکتے، .... 2018ءمیں جب اُنہیں کمزور سے مینڈیٹ سے نوازا گیا، میں نے کینیڈا سے فون پر اُنہیں مبارک دی، اُن کی خدمت میں عرض کیا ” قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی جتنی نشستیں پی ٹی آئی نے جیتی ہیں، کمزور سے اس مینڈیٹ سے آپ کے وہ خواب ہرگز پورے نہ ہوں گے جو اس ملک کی بہتری کے لیے سالہا سال سے آپ عوام کو دکھاتے رہے ہیں، میرا آپ کو مشورہ یہ ہے ایک غلیظ سسٹم میں کود کر کچھ نہ کرسکنے سے ہزار درجے بہتر ہے ایک اُمید کی صورت میں آپ قائم رہیں۔ (جاری ہے)


ای پیپر