دنگل کا دوسرا راﺅنڈ
11 فروری 2019 2019-02-11

وزیراعظم عمران خان نے خاموشی توڑدی کوئی این آر او نہیں آرہا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اب کسی قسم کی رعایت کسی کرپٹ آدمی کو نہیں دیں گے، لٹیروں کیلئے این آراو ملک سے غداری ہوگی۔وزیراعظم کا یہ بیان سیاسی حوالے سے پالیسی بیان کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے پارلیمنٹ کے حوالے سے بھی کچھ کہہ دیا ہے کہ ہم نے اس پر بھی پارلیمنٹ چلانے کی کوشش کی لیکن جتنی کوشش کرنی تھی وہ کرلی،جتنا اسمبلی میں شور مچ رہا ہے، ہم کوشش کررہے ہیں اسمبلی ٹھیک طرح چلے۔اسمبلی کے بارے میں ان خیالات کا اظہار کیا اسمبلی کی اہمیت کو کم کرنے کی بات ہے؟ یا اسمبلی ان سے نہیں چل رہی؟

پہلے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اشارہ دیا کہ شہباز شریف خوداستعفیٰ دیں ورنہ بذریعہ ووٹ ہٹائینگے۔ اب وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ ایسا کبھی نہیںہوا کہ جیل سے ایک آدمی اٹھ کر آئے اور پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین بن جائے اور پھر وہ ہی نیب کو طلب کرلے، کہیں بھی کسی جمہوریت میں کوئی یہ تصور نہیں کرسکتا۔ اب باتیں کھل رہی ہیں ۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی سربراہی کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کچھ وعدے کئے گئے تھے۔ فواد چوہدری کہتے ہیں کہ جو وعدے کیے اس کی خلاف ورزی کی۔ ن لیگ کے رہنما رانا ثناءاللہ کہتے ہیں کہ شہباز شریف کیخلاف کوئی بھی اقدام کیا گیا تو حکومت سے طے کی گئی چیزیں ختم اور اپوزیشن اپنے لائحہ عمل میں آزاد ہوگی، حکومت کو جمہوری روایات کا پاس نہیں تو ہم سے بھی توقع نہ کرے۔کیا شہباز شریف کوپبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا سربراہ منتخب کرنے کے وعدے کو ڈیل کا نام دیا جائے؟ عام خیال یہ ہے کہ حکومت سیاسی خواہ مالی حوالے سے سخت دباﺅ میں تھی، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا پڑا تھا۔ورنہ حکومت دلی طور پر شہباز شریف کو یہ عہدہ دینا نہیں چاہ رہی تھی۔ جس کا برملا اظہار شیخ رشید کے بیانات سے ہوتا ہے۔ اب جب وہ دباﺅ سے باہر نکل آئی ہے تو یہ فیصلہ واپس لینا چاہتی ہے۔

وزراءکے لب و لہجے سے لگتا ہے کہ حکومت نہ صرف پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین شپ کے عہدے سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو ہٹانا چاہتی ہے۔ بلکہ بعض اپوزیشن رہنماﺅں کو بھی گرفتار کرنا چاہتی ہے۔ حکومت پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کے خلاف ریفرنس کو آخری شکل دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اپوزیشن اور حکمران جماعت تحریک انصاف کے درمیان دنگل کا ایک اور راﺅنڈ شروع ہونے والا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کی کڑی تنقید پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی ترجمان و سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ عمران خان کی مرضی اور منشاءکی غلام نہیں،نہ ہی ان کی دھونس سے چل سکتی ہے، عمران خان ڈیل ڈھیل نہ کریں، علیمہ خان سے این آر او ہوچکا۔ اپوزیشن حکومت کی تڑیوں سے ڈرنے والی نہیں، نیب عمران صاحب کو گرفتار کرے، سلیکٹڈ وزیراعظم کے نعرے سننے پڑینگے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری ایک بار پھر سرگرم ہو گئے ہیں۔سندھ کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کا لہجہ ابھی بھی ترش ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اب دوسرا بنگلہ دیش نہیں بننے دینگے، یہ بیوقوف ہیں، انکی ٹانگیں ویسے ہی ڈگمگا جاتی ہیں، مخالفین کے ساتھ پاکستان کے وسائل کی جنگ لڑ رہے ہیں، اپنے حق کیلئے لڑیں گے۔یہ جنگ سندھ کی نہیں بلکہ پورے ملک کی ہے اور اس جنگ میں ہمارے ساتھ پشتون، بلوچی اور پنجاب ہمارے ساتھ ہے۔انہوں نے سندھ سے بعض وفاقی اداروں کے ہیڈکوارٹرز کی اسلام آباد منتقلی کی مخالفت کی اور کہا کہ سوفاق پہلے ہماری جامعات لے گیا، اب ایوی ایشن کا ہیڈکوارٹر بھی لےجایاجا رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جھگڑا مجھ سے صرف 18 ویں آئینی ترمیم پر ڈاکہ مارنے کیلئے ہے وہ کراچی سے سول ایوی ایشن کا مرکز ختم کر کے اسلام آباد لے جا رہے ہیں تاکہ نئے دفاتر بناکر کمیشن کمایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکمران بے وقوف ہیں اور انہیں ملک چلانا نہیں آ رہا ہے۔پیپلزپارٹی یہ موقف اختیار کئے ہوئے ہے کہ آصف زرداری پر لندن اور سوئس عدالتوں میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوا ہے۔ جب بھی آصف علی زرداری پر الزام تراشی کی ہے اس کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔

وزیراعظم سے لیکر وزراءتک کو بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ ”کسی کو این آر اونہیں ملے گا ۔“ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ میاں شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنایا جانا، میاں نواز شریف کو ان کی خواہش کے مطابق لاہور کی جیل میں منتقل کیا جانا،سلمان شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت دینا یہ سب ڈیل کے مظاہر نہیں ؟۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی مرضی کے بغیر ہوا؟۔یہ درست ہے کہ د عمران خان یا ان کے ساتھیوں کے بس میں ہوتا توڈیل نہیں ہوتی۔ اب صورتحال واضح ہو گئی ہے۔ یہ ڈیل عمران خان سے نہیں مانگی جا رہی تھی ، اور جو ریلیف ملا وہ بھی وزیراعظم کی طرف سے نہیں تھا۔ شیخ رشید کے بیانات وزیراعظم یا ان کی ٹیم کی اصل نمائندہ پالیسی تھے۔ اصل صورتحال تب تبدیل ہوئی جب حکومت نے افغان مذاکرات میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا۔ ٹرمپ نے وزیراعظم سے ملنے کا عندیہ دیا۔ اب حکومت کا دوبارہ مغرب کی طرف رخ ہے۔مالی بحران کے حوالے سے چین یا بعض اسلامی برادر ملکوں سے ٹھوس مدد نہ مل سکی۔ٹھوس ان معنوں میں کہ دو عرب ممالک نے جو رقم اسٹیٹ بینک میں جمع کرائی ہے اس پر شرح بھی تین فیصد ہے جو آئی ایم ایف کی شرح کے برابر ہی ہے۔ ایسے میں آئی ایم ایف سے پھر مذاکرات شروع ہو گئے۔ یہ بھی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ وزیراعظم خود آئی ایم ایف کی سربراہ سے براہ راست ملنے چلے گئے۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات میں پاکستان کو بیل آﺅٹ پیکیج پر بات چیت ہوئی۔ پاکستان اور آئی ایم ایف معیشت کی بحالی کے لئے معاشی اصلاحات پر متفق ہو گئے ہیں۔معیشت کی بحالی کے لئے پورا ماحول چاہئے۔اسلام آباد کے ایک سنیئر ریٹائرڈ بیوروکریٹ کے مطابق اگر عمران خان اپنے لئے راستہ صاف چاہتے ہیں تو دوسروں کو بھی یہ راستہ دینا پڑے گا۔ وزیراعظم عمران خان سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے معاملات کرنے کے بعد اب حالات مکمل طور پر ان کے قابو میںہیں۔ وہ صورتحال کومزید ٹکراﺅ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ جواباً اپوزیشن نے بھی ویسی ہی حکمت عملی بنائی ہوئی ہے۔


ای پیپر