افغانستان میں مصالحتی عمل
11 فروری 2019 2019-02-11

آج کل سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا پر افغانستان میں جاری مصالحتی عمل پر حکومت پاکستان کے کردار کے بڑے چرچے ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ امریکی صڈر ٹرمپ وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے بہت متاثر ہیں۔ اس کے جواز میں امریکی سینیٹ کے انتہا پسند اور جنگجو شہریت کے حامل امریکی رکن سینیٹ لنڈے گراہم کی پاکستان آمد پر ( ان کے بیان کے مطابق ) ڈولنڈ ٹرمپ عمران خان سے ملاقات کے خواہاں ہیں تاکہ انہیں افغانستان کی گھتی سلجھانے میں عقدہ کشائی کریں ۔ ایسے مغرور، بد دماغ اور تلون طبع سر براہ مملکت یعنی ڈونلڈ ٹرمپ سے ایسے اخلاق کی خبر پر بیچارے غلامانہ ذہنیت کے حامل پاکستانی پھولے نہیں سماتے حتیٰ کہ زرداری ٹولہ بشمول بے بی، بلاول جو عمران خان سے حسد اور احساس کمتری کی بناءپر ان کو طالبان خان کہا کرتے تھے مگر اب اس طرح چپ سادھ لی ہے۔ کہاں تو زرداری انہیں جعلی خان کہا کرتے تھے اور سیاست سیکھنے کا مشورہ دیا کرتے تھے جو اب بھی کبھی کبھی دے دیتے ہیں ۔ نیز انہیں اپنی زبان میں نو سیکھیا ( بروزن نو دو لتیا) کہہ کر اپنی ” نا اہلی “ کا گویا انتقام لیتے ہیں جب خورشید شاہ انہیں مربیانہ انداز میں کبھی کبھی ڈانٹ دیتے ہیں۔ کاش کہ وہ امریکی صدر کی شان میں بھی ایسا کہنے کی جرا¿ت کرتے کہ وہ نا تجربہ کار اور سیاست سے نابلد ہیں لیکن اب عمران خان سے موئدبانہ رجوع کرتے ہیں ۔

ادھر شریف برادران کا بھی یہی حال ہے۔ کہاں تو نواز شریف سعودی عرب کے فرماں روا اور قطری شہزادے سے قربت کا تاثر دیتے رہے ہیں لیکن اب وہ بھی خاموش ہیں۔ وہ جلالت الملک اور خلیجی شہزادوں کا بے پناہ احترام کرتے ہیں۔

جہاں تک حزب اختلاف کے سیاسی کردار کا تعلق ہے تو زراری اور نواز ٹولے کے افراد اہم امور پر رائے زنی کرنے کے بجائے اٹھارویں ترمیم کا وظیفہ پڑھتے رہتے ہیں جیسے دستور پاکستان میں یہی ایک شق رہ گئی ہے۔ ادھر تحریک انصاف بھی بھان متی کا کنبہ نظر آتی ہے کیونکہ اس میں ہر دور کے مرغانِ باد نما شامل ہو کر اپنی اپنی راگنی الاپ رہے ہیں صرف عمران خان، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود ، اسد عمر ، عارف علوی، عمران اسماعیل، شیریں مزاری ، شیخ رشید اور چند ایک سنجیدہ افراد اصول کی بات کرتے ہیں اسی لیے ان کی خامیوں کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی افغان مصالحتی عمل میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستانی وزیر اعظم سے کردار ادا کرنے کے لیے اپنا ذاتی ایلچی بھیجنے کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب تک امریکی صدور ماضی کے کسی پاکستانی وزیر اعظم کو درخود اعتنار نہیں سمجھتے تھے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے فرعون صفت اور بار عونت سربراہ کی جانب سے عمران خان سے رجوع کرنا جبکہ وہ پاکستان پر منافقت اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتا رہاہے اور اس کی فوجی امداد منقطع کر چکا تھا۔ بڑے اچھنبے کی بات ہے ۔ حکومت پاکستان تو پہلے ہی سے اپنے تئیں اپنا مصالحتی کردار ادا کرتی رہی ہے لیکن اب عمران خان نے صاف کہہ دیا ہے کہ اب ہم دوسروں کی جنگ نہیں لڑیں گے اور حکومت پاکستان اب جو بھی اقدام کرے گی وہ اسکے قومی مفاد کے تابع ہو گا ۔ کاش کہ سابق رہنما بھی ایسا جرت مندانہ اعلان کرتے!

امریکہ کا خصوصی ایلچی افغان نژاد زلمے خلیل زاد تو پہلے بھی پاکستان آ چکا ہے لیکن اس بار اس کی آمد کو بڑی اہمیت دی گئی اور وزیر اعظم عمران خان نے بڑی دلچسپی اور خندہ پیشانی سے اسے خوش آمدید کہا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو افغان مصالحتی عمل میں مثبت اور موثر کردار ادا کرنے کی ہدایت کی۔ یہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ امریکی اور طالبان وفود باہم ملے۔ اس ضمن میں ملاغتی برادر جو کہ پاکستان میں قید تھے انہیں عمران خان حکومت نے رہا کیا اور ساتھ ہی سعودی عرب ، قطر اور ابوذہبی کے فرماں رواﺅں کو ساتھ ملا کر امن مہم کا آغاز کیا لیکن طالبان کے وفد کو مجبور نہیں کیا کہ وہ اشرف غنی سے پہلے ملاقات کریں اور امریکیوں کی ملاقات بہت کامیاب رہی۔ امریکہ نے بالآخر مجبور ہو کر طالبان کا یہ مطالبہ مان

لیا ہے کہ وہ مکمل فوجی انخلاء( اٹھارہ ماہ میں ) کرے اور طالبان کی بستیوں بمباری نہ کرے اور نہ انکی نقل و حرکت سے تعرض نہ کرے۔ ہر چند کہ امریکہ کے لیے یہ بڑی نا خوشگوار بات تھی کہ وہ افغان قوم کی نسل کشی کا ارادہ ترک کر دے کیونکہ ماضی میں وہ ایک ہزار اور پانچ سو پونڈ کے ڈیزی کٹر بم اور کیمیائی ہتھیار افغان بستیوں ، مساجد ، مدارس، کھیت کھلیان ار کاریزوں پر برساتا رہا ہے۔ لیکن پھر بھی انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکا کیونکہ طالبان سخت جان، جفاکش اور با غیرت قوم ہیں۔ وہ ہمیشہ سے چھاپہ مار جنگ کے عادی رہے ہیں اور ان کو بڑی طاقتیں مثلاً برطانیہ، روس اور امریکہ اور ناٹو سمیت ان کے چالیس حوارین اپنی ڈیڑھ لاکھ قابض فوج کے با وجود افغان قوم کو شکست نہ دے سکیں۔ امریکہ نے افغانستان میں کاﺅنٹر سٹی حکمت حزبی کے تحت جنگ لڑی جس میں کسی ملک پر قبضہ کرنے کے لیے غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا تا ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق جنگی جرائم میں شمار ہوتا ہے لیکن امریکہ نہ تو بین الاقوامی قانون کو مانتا ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کے منشور کو ۔ حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ عالمی عدالت انصاف ( ICT ) اور بین الاقوامی ترزیراتی عدالت ( ICC ) کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔

اُدھر طالبان نے بھی کھلے دل سے یقین دھانی کروائی کہ وہ اپنی سر زمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے یعنی القائدہ اور داعش کو پاس نہیں بھٹکنے دیں گے۔ اس سارے عمل میں پاکستان کا کردار مرکزی اہمیت رکھتا ہے تاہم افغانستان کی پٹھو اشرف غنی انتظامیہ نے طالبان کو اس شرط پر مذاکرات کی دعوت دی ہے کہ وہ اپنے عوام کی حمایت کریں نہ کہ غیر ملکی حکومت کی۔ اس تجویز میں تضاد واضع ہے کہ وہ امریکی اور غیر ملکی افواج کو وقت کی ضرورت سمجھتے ہوئے ان کے افغانستان میں قیام کے حامی ہیں۔

طالبان بھی روس اور ایران سے رابطے رکھے ہوئے ہیں جبکہ اشرف غنی اور امریکہ نے بھارت سے خام لوہے کی کان کنی کے لیے ایک معاہدہ کیا ہے تاکہ وہ جنوبی افغانستان سے لے کرایران کی بندر گاہ چاہ بہار تک ریلوے لائن بچھا دے اور ساتھ ہی ایک شاہراہ بھی بنا دے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ بھارت کو ایران سے در آمد اور بر آمد کے سلسلے میں پاکستان کی سر زمین سے گزرنا نہ پڑے۔ علاوہ ازیں اس کا اثر گوادر بندر گاہ پر بھی پڑ سکتا ہے جو چین اور پاکستان کے سی پیک معاہدے سے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اس وقت اشرف غنی کا ٹولہ جنوبی ویتنام کی کٹھ پتلی انتظامیہ سے مشابہت رکھتا ہے جسے امریکہ نے ویتنام سے معاہدے کی صورت میں آزادی کی ضمانت دی تھی لیکن شمالی ویتنام کی انقلابی حکومت نے اس معاہدے کو چاک کر کے جنوبی ویتنام کو 1975 ءمیں آزاد کروا کر ختم کر لیا۔ جہاں تک ویتنام کے حریت پسندوں کا تعلق ہے تو انہوں نے اپنی قیادت اور سوویت روس کی فوجی اور سفارتی مدد سے امریکہ کے لیے کسی بڑی طاقت کی شکست دی۔ ہر قوم اپنی آزادی کی جنگ خود لڑتی ہے لیکن اس کے لیے کسی بڑی طاقت کی پشت پناہی ضروری ہوتی ہے۔ ویتنامی حریت پسندوں نے سوویت روس کے فراہم کردہ سیم ( SAM ) مزائیل سے ایک دن میں امریکہ کے چالیس B52 بمبار طیارے گرا دیئے۔

دو حہ مذاکرات کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اس کے دو دن بعد ہی ماسکو افغان سوسائٹی برائے روس کی جانب سے افغانستان کے با اثر سیاستدانوں کو ماسکو مدعو کیا گیا لیکن اشرف غنی اور اس کی پارٹی کے کسی فرد کو نہیں پوچھا گیا۔ اس کے برعکس سابق صدر حامد کرزئی اور سوویت مخالف مجاہد عطا محمد نور اور حنیف استمبر ( جو جولائی میں افغانستان کے صدارتی انتخاب میں اشرف غنی کے خلاف لڑیں گے) کو مدعو کیاگیا ہے۔ اس پر اشرف غنی نے جل کر کہا کہ یہ تو افغانستان کے مفاد کے خلاف اقدام ہے۔ ( ڈان 4 فروری 2019 ء)

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ روس کی جانب سے یہ اشرف غنی کے خلاف اقدام ہے۔ اس سے پاکستان کے وزیر خارجہ کے اتفاق کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس اجلاس کو اشرف غنی کی کاٹ کے لیے ضروری سمجھتے ہیں ۔ ادھر ایران نے بھی طالبان سے سلسلہ جنبانی شروع کر دیا ہے جبکہ وہ ماضی میں شمالی اتحاد کا بڑا حامی رہا ہے اور شیعہ ملیشیا کی بھی پشت پناہی کرتا رہا ہے۔

یہ منظر افغانستان کے سیاسی حل کے لیے بڑا سازگار ہے کیونکہ اب طالبان ، امریکہ اور افغانستان میں اشرف غنی کے مخالف دھڑے آپس میں مذاکرات کر سکتے ہیں۔ اس میں امریکہ روس کے علاوہ عوامی جمہوریہ چین جو اب تک غیر جانبدار رہا ہے اور تاجکستان ، ازبکستان اور پاکستان کے درمیان مثبت اور تعمیری مذاکرات کا سلسلہ نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔

افغانستان میں جو بھی سیاسی حل ہو وہ زمینی حقائق کے مطابق ہو بھی امن پائیدار ہو سکتا ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اس کی پختون آبادی افغانستان کی پختون آبادی سے زیادہ ہے جبکہ کراچی میں 50 لاکھ پختون آبادی کے باعث یہ دنیا کا سب سے بڑا پختون شہر ہے۔ علاوہ ازیں افواج پاکستان میں پختون افسران اور جوانوں کی تعداد 32 فیصد ہے اور ان کی ہمدردیاں واضح طور پر پختونوں کے ساتھ ہیں اور ان کی رشتہ داریاں اور قبائلی نظام مشترک ہونے کی وجہ سے ان کو طالبان کی مدد سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔ اس وجہ سے افغانستان کے 1747 ءمیں قیام کے بعد سے مسلسل پختون آبادی اس کو ہستانی ملک کے طول و عرض میں حکمران رہی ہے لیکن ساتھ ہی وہاں کے چھتیس فیصد تاجک اور نو فیصد ازبک کے علاوہ شیعہ مسالک کے ہزارہ قبائل آباد ہیں لہٰذا افغانستان کے مسئلہ کا قابل عمل سیاسی حل کثیر الاقوامی وفاق میں ہے جس میں ہر قومیت کو بقدر تناسب آبادی نمائندگی کی ضمانت ہونی چاہیے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرار دادوں میں یہ ہی کہا گیا ہے یہ بھی ضروری ہے کہ یہ زمینی حقیقت بھی مد نظر رکھی جائے کہ افغانستان نا وابستہ اقوام (NAM ) کی تنظیم کا بنیادی رکن رہا ہے او اس کا تشخص خالص اسلامی ہے۔ اقوام متحدہ کی مذکورہ بالا قرار دادوں میں افغانستان میں ایک مخلوط نمائندہ حکومت پر اصرار کیا گیا ہے جو اسلامی ہو اور ناوابستہ بھی۔


ای پیپر