معاشرت ہی بچ پائے!!
11 فروری 2019 2019-02-11

ایک طویل عرصے کے بعد وکالت کے پیشہ سے منسلک دوستوں ملک شکیل الرحمن خان، شیخ اعجاز الرحمن صدیق انجم، میاں محمد افضل، چوہدری اختر حسن ارشد رو¿ف ، ندیم گورایہ، سردار احتشام الحق سے ٹیلیفونک گپ شپ ہوئی جس کا سبب جناب عرفان قادر پرلکھے گئے میرے کالم کو میری طرف سے اپنی فیس بک ٹائم لائن پر عرفان قادر کے وکالت کے لائسنس کی عدالت عظمیٰ کی طرف سے انتہائی خوش آئندہ اور باوقار انداز میں بحال کرنے پر دوبارہ اپ لوڈ کرنا تھا ۔ عرفان قادر کے کالم کو دوبارہ ٹائم لائن پر اپ لوڈ کرنا، وکالت کا لائسنس بحال ہونا دوستی کے بینک بیلنس میں رکھے متذکرہ بالا دوستوںکا بیلنس شیٹ پر نظر ڈالنا اس قدر خوش کن تھا کہ میری آنکھیں خوشی کے آنسوو¿ں میں بھیگی رہیں گزرے لمحے مجھ پر ایک ایسے مریض کی طرح اثر کر گئے جیسے دوران آپریشن اس کو تکلیف کا احساس نہ ہو ملک میں جاری ہر شخص کی حیثیت کا ہر لحاظ سے جو آپریشن جاری ہے پرانے دوستوں سے رابطہ نے انستھیزیا کا کام کیا مگر یہ بھی زیادہ دیر قائم نہ رہا معمول کی زندگی اور ٹی وی آن کرتے ہی بے لوث دوستوں کا تصوراتی نشہ ہرن ہو گیا ایک مزدور اور چوہدری کا منو بھائی کے ایک کالم میں سنایا گیا واقعہ یاد آ گیا کہ چوہدری کی گندم کی بوریاں مزدور سیڑھیوں سے اوپر چڑھا رہا تھا۔ بارش کا سا موسم تھا شام کا اندھیرا بڑھنے لگا چوہدری نے جیب سے ماچس نکالی جس میں ایک ہی تیلی تھی جو گیلی سی تھی اس نے روشنی کے لیے جلائی وہ جلتے ہی روشنی تو ہوئی مگر فوراً بجھنے کی وجہ سے اندھیرا دوگناہو گیا۔ روشنی سے یکدم بہت زیادہ اندھیرے کے بعد مزدور کی زبان سے بے احتیار نکلا چوہدری جی تسی تے ساڈا ہنیرا وی گوایا جے“ چوہدری صاحب آپ نے تو میرا اندھیرا بھی گنوا دیا یعنی کم اندھیرے میں جو نظر آ رہا تھا وہ لمحے بھر کی روشنی کے بعد اندھیرا گہرا کر گئی۔ دوستوں گپ شپ ایسے ہی میرا اندھیرا بھی گنوا گئیں۔ ٹی وی پر نجومی قسم کے تجزیہ کار اور حکمرانوں کے نمائندے نظر آ گئے شیخ رشید، ضیاءالحسن چوہان، فواد چوہدری قوم پر رحم کرو پی ٹی آئی کا رہنما تو قوم بنانے کی بات کرتا تھا آپ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی معاشرت اور ماحول کا بیڑہ غرق کر رکھا ہے۔ دو تین دہائیاں پہلے جب سٹیج ڈرامے اور تھیٹر اپنے عروج پر تھے ذومعنی فقرے اور اخلاق سے گری ہوئی باتیں کرنے پر انتظامیہ ، فنکاروں پر بلکہ ڈرامے پر ہی پابندی لگا دی۔ ہدایت کار پر پابندی لگا دیا کرتی تھی۔ بہرحال جو صورت حال سیاست دانوں نے پیدا کر رکھی ہے، اس سے کہیں کم اخلاق یافتہ صورت حال پر انتظامیہ ڈرامہ بند کروا دیا

کرتی تھی میں سوچتا ہوں ان کو کون بند کرے گا۔ مجھے یورپ ، امریکہ اور مدینہ کی تاریخ کے حوالے دینے والے عمران خان پر حیرت ہوئی کہ وزیراعظم ہو کر ملکی تباہی کا سبب وہ NRO کو قرار دے رہا ہے جو زرداری اور نواز شریف سے تعلق رکھتے تھے حالانکہ زرداری کا NRO تو افتخار محمد چوہدری نے فارغ کر دیا تھا اور اطلاعاً عرض ہے ایک بھٹو مارنے کے بعد آج تک فنایا نہیں گیا۔ نوا زشریف جو پنجاب اور اور اشرافیہ کا راہنما تھا کو مارنے کا کوئی متحمل نہ تھا ایسے NRO ڈکٹیٹروں کو خود کرنے پڑتے ہیں کہ حکومت کر سکیں۔ وطن عزیز کی بربادی میں ایوب خان کے ایبڈو، یحییٰ خان، ضیاءکے پورے دور اور مشرف کا ذکر نہ کرنا تاریخی ظلم ہو گا ۔ تاریخ کی تصیح کے بغیر مستقبل میں قدم نہیں رکھا جا سکتا۔ ویسے یہ واو¿ڈا ، فیاض الحسن چوہان، شیخ رشید فواد جیسے لوگ جتنا زور دے رہے ہیں کہ NRO نہیں ملے گا، ڈھیل اور ڈیل نہ ہو گی لگتا ہے زرداری اور خاص طور پر چلتے لمحے کا سب سے بڑا سیاسی راہنما میاں نواز شریف ڈھیل ڈیل اور این آر او لینے کے موڈ میں نہیں ہے جس کے غصے میں یہ دن رات ایک ہی بات کیے جا رہے ہیں علیم خان دھرلیے گئے ہیں ادھر تو پھر قطری کا خط آ گیا تھا ادھر علیم خان کے ابا جی کو باہر سے کروڑوں روپے بھیجنے والے کا کچھ اتہ پتہ نہیں ہے علیم خان کو اگر کلین چٹ مل بھی گئی تو پوری دنیا میں کوئی یقین نہیں کرے گا۔ اگر خدانخواستہ کلین چٹ نہ ملی تو مخالفین کہیں گے کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے یہ سبھی ایسے ہی ہیں ان میں سے ”جیڑا پنوں اوہی لال اے“ ان میں جوتربوز توڑیں گے سرخ نکلے گا۔ بہرحال یہ سیاسی نہیں اصول حکمرانی کے طور طریقے ہیں وزیر داخلہ کو ملکی تباہی کی تاریخ کو مسخ نہیں کرنا چاہیے۔ جنرل نیازی سے رشتے داری الگ معاملہ ہے جبکہ تاریخ میں جو اس دور کا تعین ہے کیا گیا ہے اسے صرف نہیں کیا جا سکتا۔ میرے دوست ملک شکیل خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اسلام آباد نے ماضی کے دریچوں میں سے میرے تصوراتی کلپس دیکھ کر ریمارکس دئیے

AsifAnyat have been my college,university law college and Gojranwala bar fellow.i felt pleasure to see him composing Articles .,especially recalling his classmates.He joined G service and none comes out it except superannuation.He was a witty,well dressed and having refine instinct.yesternigt,he spoke me over a fone and we shared shattered memories.i pray for his health and appreciate his literary creatures and see it more flourshing

پڑھ کر میری آنکھیں بھر آئیں اور ایک واقعہ جو چند سال پہلے فیس بک پر شیئر کیا تھا یاد آ یا کہ کوئی شخص کسی سائیکیٹرسٹ کے پاس گیا۔ سائیکیٹرسٹ نے اس سے ایڈریس پوچھا کیونکہ بعض اوقات محل وقوع ذہنی دباو¿ کا سبب ہوا کرتے ہیں اس نے ایڈریس بتایا تو ڈاکٹر کہنے لگاآپ کو کچھ نہیں صرف Panic disorder ہے ۔ آپ کے پڑوس میں ہی انتہائی witty آدمی رہتا ہے آپ اس کی محفل میں جایا کریں گپ شپ کریں آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے اس مریض نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب وہ شخص میں ہی آصف عنایت بٹ ہوں میرے بھائی شکیل خان اور اب وہ دن بیتے جب میاں جی کوتوال تھے۔

وطن عزیز پر اجتماعی اور افرادی طور پر ایسے حالات وار دہوئے اور مسلسل ہوئے کہ ہر شخص آکسیجن سے تنگ پڑ گیا۔

آرمینیا کے ایک شاعر نے کہا کہ قدرت نے جب کسی غریب کو خوش کرنا ہو تو صبح اس کا گدھا گم کر دیتی ہے اور شام کو ڈھنڈوا دیتی ہے غریب اپنے ہی گدھے کو دوبارہ پا کر خوش ہوتا ہے وہی گدھا جو صبح اس کا تھا گم گیا شام مل گیا یوں غریب کی قسمت جاگ گئی اور شاید گدھے کی قیمت کے برابر وہ لوگوں کو خوشی میں مٹھائیاں کھلاتا پھرے۔ وطن عزیز کے عوام حالیہ منی بجٹ کے بعد یہی حالت ہے ۔ حالیہ حکومت بجٹ میں یوٹرن حکومت ہے کوئی پاگل ہی ان کو نا اہل حکومت کہے گا یہ باقاعدہ ایک پھپھے کٹنی حکومت ہے جو حکومت میں اپوزیشن کی طرح روتی ہے، مدینہ کی ریاست کی دعویدار حکومت کا حقیقی اختیار کس کے پاس ہے کسی کو علم نہیں البتہ مطلق العنانیت کا کھرا بنی گالا سے ہوتا ہوا نو گو ایریا سے جا ملتا ہے۔ موجودہ حکومت کی ڈھٹائی کی حیرت انگیز طور پر اسی دور کی یاد دلاتی ہے وہ ہے ڈھٹائی میں نے اپنے مشاہدے میں اس سے زیادہ ڈھٹائی کو بطور پالیسی اپنائے ہوئے کسی حکومت کو نہیں دیکھا ۔عدالتی اشتہاری ہوتے ہوئے سپریم کورٹ سے ریلیف اور وزیراعظم کو نا اہل قرار دلوائے ہوئے نہ دیکھا تھا اگر نیب کا ملزم اے پی سی کا چیئرمین ہوتا تو کیا ۔یہ اقتدار استروں کی مالا ہے جو ڈیلیور کر گئے وہ عظیم کام کر گئے مگر موجودہ دور میں سیاست اور روایتی ہو گئے معاشرت ہی بچ پائے ۔


ای پیپر