فوٹو بشکریہ فیس بک

علیم خان کے بعد اگلی گرفتاری چودھری پرویز الٰہی کی ہوگی: رانا ثناءاللہ
11 فروری 2019 (15:54) 2019-02-11

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹایا گیا تو پھر پارلیمنٹ نہیں چل سکے گی۔

نیب کے ہاتھوں اگلی گرفتاری چودھری پرویز الٰہی سمیت پنجاب کے دیگر تین لوگوں کی ہو گی، علیم خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے اندر مایوسی پھیل رہی ہے علیم خان کی گرفتاری عمران خان کا فیصلہ ہے وزراء جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی کے بھی فون ٹیپ ہو رہے ہیں،”پنڈی کا شیطان“ گرفتاری سے بچ جائے گا اور وہ اکیلا ہی عمران خان کے ساتھ کھڑا ہو گا، پتا نہیں وہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے؟

سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ علیم خان سمیت پنجاب سے تین لوگ اور ہیں جنہیں نیب نے گرفتار کرنا ہے ان تینوں افراد کا تعلق لاہور سے ہے، ایک سول انٹیلی جنس ایجنسی جو براہ راست وزیر اعظم کو رپورٹ کرتی ہے وہ ایجنسی ان کے فون ٹیپ کر رہی تھی اور ان کی نگرانی ہو رہی تھی جب اپوزیشن کے 50 لوگ ہوں گے تو پھر حکومت کے پانچ لوگوں کو بھی گرفتار کرنا پڑے گا۔

پی ٹی آئی کے اندر ایک مایوسی کا عنصر اب احتجاج میں بدل رہا ہے، تحریک انصاف کے 25 سے 30 ایم پی اے ایسے ہیں جن سے میرے بھی رابطے ہوئے ہیں ان لوگوں سے وعدہ ہوا ہے کہ جب حمزہ شہباز ملک میں واپس آتے ہیں تو ان کے ساتھ بیٹھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری گرفتاری چودھری پرویز الٰہی کی ہے جبکہ اسی کے ساتھ پرویز خٹک اور عاطف خان کا بھی نام ہے صرف ایک آدمی جو ”پنڈی کا شیطان“ ہے وہ اس کے ساتھ رہ جائے گا پتا نہیں اس کے پاس کس کا ایجنڈا ہے؟

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 25 تیس ایم پی اے ہیں جن سے رابطہ ہوا ہے ان میں سے کچھ وہ ہیں جو آزاد منتخب ہوئے تھے جبکہ کچھ تو باقاعدہ طور پر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں یہ سب بہت زیادہ پریشان ہیں۔


ای پیپر