فوٹو بشکریہ فیس بک

حکومت کو نجی سکولز تحویل میں لینے کا حکم دے دیتے ہیں: جسٹس گلزار احمد
11 فروری 2019 (15:18) 2019-02-11

اسلام آباد: جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ نجی سکولز نے تعلیم کو کاروبار بنا دیا، سکول، انڈسٹری یا پیسہ بنانے کا شعبہ نہیں، کیوں ناں نجی سکولوں سے نمٹ لیں، سپریم کورٹ برہم۔

عدالتی فیصلے پر اسلام آباد کے 2 نجی سکولز نے چیف جسٹس کو توہین آمیز خط لکھا جس میں تضحیک آمیز زبان استعمال کی گئی، نجی سکولوں سے کیوں ناں نمٹ لیں، نجی سکول فیس کیس میں جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہوئے کہا کہ حکومت کو نجی سکولز تحویل میں لینے کا حکم دے دیتے ہیں۔

اس پر نجی سکول کے وکیل نے وضاحت کی کہ عدالت کی تضحیک کا کوئی ارادہ نہیں تھا عدالتی فیصلے پر عمل کرکے فیس کم کر دی ہے۔ سپریم کورٹ وضاحت سے مطمئن نہ ہوئی اور دونوں نجی سکولز سے تحریری جواب طلب کرلیا۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ نجی سکولوں کی انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ بھی نہیں۔ نجی سکولوں سے بچے کتنی ہی بیماریاں لے کر نکلتے ہیں۔ نجی سکول والے والدین سے نجی زندگی سے متعلق تضحیک آمیز سوالات کرتے ہیں۔ والدین بے چارے روتے ہوئے سکول سے نکلتے ہیں۔ والدین سے پوچھا جاتا ہے کہ کتنی تنخواہ ہے، کب سوتے ہیں، کب اٹھتے ہیں، سکول والوں کا یہ پوچھنے کا کیا کام ہے؟ والدین بچوں کو لے کر سیر کرانے کہاں جاتے ہیں ، یہ پوچھنے کا اختیار نجی سکولوں کو کس نے دیا؟

جسٹس گلزار احمد نے مزید ریمارکس دیے کہ سب سے زیادہ فیس لینے والے سکول کو مشہور اور اچھا سمجھا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں سرکاری سکولوں کی کارکردگی زیادہ بہتر ہے۔

عدالت نے نجی سکولوں میں فیسوں کی کمی سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔


ای پیپر