” یہی کمپنی چلے گی“
11 فروری 2019 2019-02-11

کہاںجناب سہیل وڑائچ اور کہاں میں، میرے پاس وہ صلاحیت نہیں جو میرے بڑے بھائی کے پاس ہے، وہ مجھ سے کہیں زیادہ معاملہ فہم ہیں اور مجھے بزرگانہ انداز میں سمجھاتے بھی ہیں کہ میری زندگی کے بہت سارے فیصلے غلط ہیں جن کی وجہ سے میں پیچھے رہ گیا ہوں ورنہ میں بہت آگے بھی جا سکتا تھا، میں ان کا ممنون ہوں کہ وہ محبت کا اظہار کرتے ہیں اور مجھے کبھی کبھار سراہتے بھی ہیں ۔ مجھے سب سے پہلے تو اس کالم کے عنوان کا جواز دینا ہے کہ چوٹی کے صحافی کی سنیارٹی اور اہلیت کے مقابلے میں مجھے بھی رائے رکھنے کا حق ہے اور ان کی یہ اعلیٰ ظرفی ہے کہ وہ اس حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ سہیل بھائی کی خبر سے اسی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا جیسے جناب عارف نظامی کی خبر کو غلط نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے نواز شریف کی رخصتی کی خبر اپنے انداز میں بہت پہلے دے دی تھی۔ عارف نظامی صاحب کی خبریں بھی کمال ہوتی ہیں، انہوں نے ایک مرتبہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کی رخصتی کی ایسی خبر دی کہ ایوان صدر سے اٹھاون ٹو بی کے تحت حکومت توڑنے کے اعلان کی پریس کانفرنس تک کا وقت تک بتا دیا، سنا ہے کہ شہید بی بی اس شہ سرخی کو پڑھ کر تصدیق کرنے کی کوشش کرتی رہیں، سہیل بھائی نے نواز شریف کے جانے کے بارے بہت پہلے بتا دیا تھا۔

فروری شروع ہو چکا، خبر کے مطابق مارچ میں جناب عثمان بُزدار کی رخصتی ممکن ہے یا ہو سکتا ہے کہ کچھ وقت آگے پیچھے ہوجائے۔ میں گزشتہ روزتحریک انصاف کے سیکرٹریٹ میں پارٹی کے پرجوش کارکنوں کے ساتھ موجود تھا۔بہت سارے دوست سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے کارکن جناب عثمان بُزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کے فیصلے پر نالاں ہیں مگر یقین کیجئے کہ مجھے کوئی کارکن ایسا نہیں ملا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جناب عمران خان کی چوائس غلط ہو ہی نہیں سکتی ۔ میں نے انہیں یہ بھی کہا کہ شہباز شریف کے مقابلے میں عثمان بزدار ایسے ہی ہے جیسے سمارٹ فون کے مقابلے میں تیتی دس لے لیا گیا ہو۔ بہت گوری چٹی، لائیٹ براو¿ن آئی بالز کے باہر پرفیروزی رنگ کا تیز چمکدار آئی لائنر لگائے خوب صورت خاتون نے مجھے بتایا کہ تیتی دس کسی بھی سمارٹ فون سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور اس کی بیٹری بہت دیر تک چلتی ہے اور ان کے پاس بھی وہی ہے۔ ایک دوسری معروف خاتون کارکن نے میری طرف سے مہنگائی کے سوال پر منہ توڑ جواب دیا، کہا، اس وقت چکن کی قیمت دیکھیں کتنی کم ہے اور یہ عمران خان کی وجہ سے ہے کہ لوگ روسٹ کھا رہے ہیں ورنہ جب ” اُن“ کا چکن ہوتا تھا تو کتنا مہنگا ہوتا تھا۔ انہوں نے مزید دلیل دی کہ دیکھیں آلو کتنا سستا ہے ورنہ سے اسی روپے کلو ہوجاتا تھا اور اب یہ پانچ ، دس روپے کلو مل رہا ہے، لوگ روسٹ کے ساتھ ساتھ چپس اور فنگر فرائز کھا اور موجیں مار رہے ہیں۔مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ ادویات مہنگی ہونے کے ذمے دار نواز شریف اور شہباز شریف ہیں جو خزانہ خالی چھوڑ گئے تھے۔ یقین کریں مجھے پچھلے کئی ماہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تکلیف دہ احساس سے ان کارکنوں کے درمیان نجات ملی،سچ بات ہے کہ اگر آپ چاہیں تو برف سے گرمی اور آگ سے سردی کا احساس لے سکتے ہیں۔

اوپر بیان کئے گئے میرے پورے پیرا گراف کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ جو لوگ اس کمپنی کے ساتھ سٹیک ہولڈر ہیں وہ کس طرح سوچ رہے ہیں۔ وہ دفاعی بجٹ کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ کے کم ہونے کو مسئلہ نہیں سمجھتے کہ مسئلہ اس کے الٹ ہونے سے ہوتاہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر عمران خان کرتار پور بارڈر کھولتا اور انڈیا سے دوستی کی بات کرتا ہے تووہ اس لئے بہتر ہے کہ وہ مودی کے ساتھ مل کر کاروبار تو نہیں کر رہا اور اس کی فیکٹریوں سے انڈین جاسوس تو نہیں نکل رہے۔ آپ ان سے یہ مکالمہ نہیں کر سکتے کہ جب آلو کے پیداواری اخراجات سولہ روپے کلو ہوں اور وہ کسان سے دو، چار روپے کلو اٹھا لئے جائیں توکاشتکار کی کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے۔ آپ انڈیا سے تعلقات کی بحث میں گنڈا پوری دلائل کا مقابلہ نہیں کر سکتے جن کے مطابق فوج کی تحویل میں موجود کل بھوشن کو نواز شریف محفوظ راستہ دے چکا ہے۔ مطلب یہ کہ کمپنی والے اس کی کارکردگی سے سو فیصد مطمئن ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو تھوڑے سے نمبر مروت اور میرٹ میں کم کر دیتے ہیں مگر ان کے خیال میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے قرضے لینے میں کوئی برائی نہیں بلکہ یہ جناب اسد عمر کی مہارت ہے کہ انہوں نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے دوست ممالک کی مدد سے ماضی کی حکومتوں کے پیداکردہ مسائل کو حل کیا ہے۔

مان لیجئے کہ ہم دھڑے باز لوگ ہیں اور حکومت کے حامی دھڑے میں مہنگائی، بے روزگاری اور لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل موجود نہیں ہیں، یہ صرف پٹواریوں کے پروپیگنڈے کا درجہ رکھتے ہیں۔ کبھی شہر کے پوش ایریاز میں جا کے دیکھئے کہ جہاں فیصلہ کرنے والوں کی اکثریت رہتی ہے وہ سمجھتی ہے کہ تبدیلی آ چکی ہے۔ وہ عبدالعلیم خان کی کرپشن میں گرفتاری کوبرائی اور بدنامی والی بات نہیں سمجھتے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جناب علیم خان نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے کر شہباز شریف کو طمانچہ رسید کیا ہے جو گرفتاری کے باوجود پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چیئرمینی سے چمٹے ہوئے ہیں۔ مجھے کہنے دیجئے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ فیصلہ ساز علاقوں میں رہنے والوں کی بھاری اکثریت بھی ایسا ہی سوچتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ معاشی بحران عارضی ہے اور نواز شریف اور زرداری کی غلطیوں کی وجہ سے ہے لہٰذا وہ اس امر بارے کیسے سوچ سکتے ہیں کہ انہی ذمہ داروں کو واپس لایا جائے۔وہ کمپنی کو بھان متی کا کنبہ نہیں بلکہ احمد فراز کے شعرکے اس مصرعے کے عین مطابق سمجھتے ہیں کہ ’ نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میںملیں‘۔

میں اور جناب سہیل وڑائچ کی خبر کی نفی کروں، میری ایک مرتبہ پھر توبہ مگر اتنا ضرور عرض کروں گا کہ عین ممکن ہے کمپنی اپنے سیلز مین بدل لے مگر کمپنی ہی بدل جائے یہ ممکن نہیں۔ اس کمپنی میں ملازمت کے لئے جناب شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی درخواستیں کب سے پینڈنگ پڑی ہوئی ہیں مگرایک ساتھ دو، دو کمپنیوں میں نوکری کرنا چاہتے ہیں جو قواعد کی رو سے ممکن نہیں۔ علم معاشیات کی رو سے جو کمپنیاں مستقبل کے تقاضوں کو چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے شاندار مردوں کے ساتھ کام کرتی ہیں وہ کبھی مارکیٹ سے آو¿ٹ نہیں ہوتیں اور ہمارے پاس اس کمپنی کا عشروں پر مبنی بہترین ریکارڈ موجود ہے ، ہاں، کچھ ادوار میں شئیرز کی قیمت معمولی گرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کمپنی ہی فلاپ ہو گئی ہے۔ میرااپنے بڑے بھائی سے اختلاف یہی ہے کہ نچلے درجے کے ملازمین کی تبدیلی یا برطرفی کمپنی کے موسٹ ڈائیورجنٹ ہونے کی دلیل ہے جو اس کی ایمرجنگ کے پے بیلی ٹیز کو مزید بڑھاتی ہے۔


ای پیپر