اشارے
11 فروری 2019 2019-02-11

نہ جانے پس پردہ دیکھنے کا فن بہ درجہ اتم پاکستانی معاشرے میں کیوں پنپتا جارہا ہے۔ سیدھے سیدھے معاملات کے پیچھے بھی سازش، بیرونی طاقت،NRO، ڈیل اور ڈھیل جیسے الفاظ کا استعمال کرکے اندازے اور ٹامک ٹوئیاںمارنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ اصل اصل نہیں نقل لگناشروع ہوجاتا ہے۔ وطیرہ یہ ہے جھوٹ کو اتنی توانائی اور کھنکھتے گلے کے ساتھ بولا جائے کہ سچ کا گمان نہیں یقین ہونے لگے۔ سیاستدان تو سیاستدان ہمارے پورے معاشرے میں یہ بیماری مکمل طور پر سرائیت کرچکی ہے۔صرف چند ہفتوں کی بات کروں تو عین سماجی بیماری کے مطابق خبر سے زیادہ خبر کے رجحان کی طرف دیکھنے کی کوشش کی۔ یقین جانیے پلے کچھ بھی نہیںپڑا۔ شک کی عینک کے موٹے شیشے لگا کر دیکھنے پر یوں محسوس ہوا کہ کچھ توہے جس کی پردہ داری ہے۔ پانچ دن سروسز اسپتال میں مکمل چیک اَپ کرانے کے بعد میاں صاحب کا یہ اصرار کہ مجھے جیل جانا ہے، عدلیہ پر طعن و تشنیع کرنے کے ایک سال بعد نواز شریف صاحب کہتے ہیں کہ وہ حکومت سے کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کرنا چاہتے وہ اب اپنا انصاف عدالت سے لینے پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے وکیل خواجہ حارث نے صحت کی خرابی اور شدید علالت کوبنیاد بنا کر اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے 'مجرم' موکل کی ضمانت پررہائی کی درخواست دے رکھی ہے۔ انسانی بنیادوں پر فیصلہ بھی جلد از جلدچاہ رہے ہیں۔

میاں شہباز شریف کا ذکر کریں تو وہ کہتے ہیں کیسا NRO کیسی ڈیل PTI کی حکومت تو NRO دینے کی پوزیشن میں ہی نہیں ہے۔ چلیں مان بھی لیا حکومت ڈیل یا ڈھیل کی پوزیشن میں نہیں ہے تو شہباز شریف کا نیب کے زیر حراست ہونے کے دوران پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا چیئرمین بننا اور اسمبلی میں بلا ناغہ حاضری۔ DG ایف آئی اے کو بلا کر یہ پوچھنا کہ کیا میں مطلوب ہوں؟ ایساان آنکھوں نے ماضی میں کبھی نہیں دیکھا۔

آصف علی زرداری کو ہی لے لیجیئے NRO تو دور کی بات وہ تو اسمبلی ہی چلتی ہوئی نہیں دیکھ رہے۔ یہاں تک کہ دوبارہ الیکشن کا مطالبہ تک کرڈالا ہے۔میڈیا کے سامنے حکومت اور اداروں کو ہوش کرو ہوش کرو کہتے ہوئے جعلی اکاو¿نٹس کے کیس میں اپنے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور بیٹے بلاول بھٹو کانام بھی ECL سے نکلوا بیٹھے۔

خورشید شاہ صاحب کو یقین ہے کہ تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف جلد ہی طبی بنیادوں پر ضمانت کرواکے ملک سے باہر چلے جائیں گے۔ چودھری منظور کو بھی دوست کے ذریعے یہی دکھائی دے رہا ہے۔خواجہ برادران کا مزید ریمانڈ نہ ملنا بلکہ جوڈیشل ہو کر جیل منتقل ہوناخارج از امکان نہیں کہ اب ضمانت پر رہا ہونا ٹھہر گیا ہے۔ اور تو اورآمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں PTI کے سینئر وزیر علیم خان جنہیںجہانگیر خان ترین کی نااہلی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی دوسری بڑی ATMمشین بھی کہا جاتا ہے نیب کے شکنجے میں کَس لیے گئے ہیں۔ ان کے اوپر ایک دو نہیں 35 آف شور کمپنیاں بیرون ممالک میں ناجائز طریقے سے کروڑوں روپوںکے فلیٹس بنانے کا الزام ہے۔ لیکن پنجاب کے ''Active وزیراعلیٰ کہلانے والے علیم خان اب کچھ عرصہ نیب کی تفتیش بھگتیں گے۔ن لیگی حلقے کہتے ہیں کہ یہ بیلنس اریسٹ ہے جس کا فائدہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ہوگا۔ یعنی احتساب سب کا نعرہ لگانے والی حکومت نے اپنی صفوں میں بھی احتساب کا عمل شروع کیا ہوا ہے۔یعنی اب مخالفین پر حکومت کے اوپر یکطرفہ احتساب کی پھبتی کسنے کا جوازختم ہوجائے گا۔ لیکن اسی سچ جھوٹ کے کلچر میں شک کا بیج بونے والے یہ کہہ کر بے اعتبار کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ علیم خان کی گرفتاری بھی گریٹ گیم کا حصہ ہے۔ دراصل الزامات کلیئر کروا کر علیم خان کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

نیب ڈائریکٹر عرفان منگی کا پلی بارگین کو جائز قرار دینا بھی کچھ اشارے دے رہا ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہے 18 ترمیم جس پر کوئی حملہ آور ہی نہیں اس کو سندھ پر حملہ قرار دینے والے آصف علی زرداری صاحب کو شاید یہ معلوم پڑگیا ہے کہ جعلی اکاو¿نٹس کیس میں ان کا مدعا کمزور ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ روانگی سے قبل بلاول بھٹو اندرون سندھ کے گوٹھ گوٹھ میں جلسے کرکے اپنے والد، پھوپھی اور ان کے حلقہ احباب کے متوقع گرفتاریوں کے سلسلے میں سندھ کی معصوم عوام کو اعتماد میں لے رہے ہیں۔ کیونکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہوں یا وزیر اطلاعات فواد چودھری وہ حکومت کا یہ موقف دے چکے ہیں کہ 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کاحکومت کے پاس کوئی پلان نہیں ہے۔تین دفعہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کی طبیعت واقعی اتنی علیل ہے کہ ان کا اسپتال میں علاج لازم ہے۔ اگر ڈیل کرنی تھی تو وہ بیمار بیوی کوچھوڑ کر بیٹی کے ہمراہ پاکستان کیوں آتے؟۔

پارلیمانی روایت کے مطابق اپوزیشن لیڈر پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا چیئرمین ہوتا ہے تو شہباز شریف بن گئے۔ رہی بات پارلیمان میں آکر خطاب کی توپروڈوکشن آرڈر اسپیکر نے جاری کیے تھے۔ کونسی قیامت آگئی کہ خواجہ برادران اپنے بھرپور جسمانی ریمانڈ کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر چلے گئے۔ نیب کا کیس تگڑا ہوگا تو فرد جرم عائد ہوجائے گی۔ علیم خان نے چیئرمین نیب کواپنے معاملے کے حل کے لیے خود خط لکھا اور یہ کہا اتنے سالوں سے میرا کیس پینڈینگ ہے براہ مہربانی جلد از جلد فیصلہ کردیں اور وہ اپنی منشا کے عین مطابق گرفتاری اور ریمانڈ بھگت رہے ہیں۔ شاید گرفتاری کے بعد کہتے ہوں بندہ میڈیا کے سامنے مذاق بھی نہیں کرسکتا نہیں نیب serious ہے۔

کالم لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ ہر خبر کے پس منظر میں سازش تلاش نہ کی جائے تو بہتر ہے۔ ورنہ شک کی عادت آگ کی طرح سب نگل جائے گی۔ افواہ سازی کے بجائے انتظار کرلینا بہتر ہے۔ ایک انتظار ہی تو ہے جو ہم پچھلے ستر سالوں سے کررہے ہیں۔


ای پیپر