The country's economy has been hit hard since the first lockdown
11 دسمبر 2020 (11:04) 2020-12-11

پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر نے سر اٹھا لیا ہے۔ ہمیں کورونا کی دوسری لہر سے بچنے کے لئے چوکنا رہنا چاہئے تا کہ دوبارہ پہلے جیسا لاک ڈاؤن لگانا نہ پڑے۔ ملک کی معیشت پہلے لاک ڈاؤن سے ہی اتنی بُری طرح متاثر ہو چکی ہے کہ اس میں دوسرا لاک ڈاؤن برداشت کرنے کی سکت نہیں بچی ہے۔ احتیاطی اقدامات کے ساتھ ساتھ ہمیں زندگی کی گاڑی کو بھی کھینچنا ہے۔ تجارتی مقامات اور صنعتوں کو کھلا رکھنا معیشت کی ضرورت ہے مگر معیشت کی یہ ضرورت پوری کرنے کے لئے وبا کے خطرے سے مضبوط دفاع کی شرط بھی پوری کرنا ہو گی۔ چھوٹے کاروباری افراد پہلے لاک ڈاؤن کے اثر سے باہر نہیں آئے ہیں اور معیشت کو پہلے لاک ڈاؤن کی تباہ کاریوں کی ہی تلافی کرنے میں برسوں لگ جائیں گے۔ کورونا سے نمٹنا یقیناً ضروری ہے لیکن لاک ڈاؤن کے بغیر احتیاط کے ساتھ تا کہ روزگار کے مواقع متاثر نہ ہوں اور معاشی سرگرمیاں برقرار رہیں تعطل کا شکار نہ ہوں۔

کورونا کی لہر پر جو کسی حد تک قابو پایا گیا تھا اسی کورونا کی دوسری لہر طوفان بلا خیز بن کر پھر ایک بار شہروں کو اپنے ساتھ بہا لے جانے کے لئے سر کشی پر آمادہ ہے۔ ہمارے ہاں بد احتیاطی شروع کر دی گئی ہے جب کہ عالمی ادارہ صحت نے پہلے بھی کئی بارا نتباہ کیا ہے کہ کورونا کی لہر دوبارہ سے آنے کا خطرہ بدرجہ اتم موجود ہے لیکن اس کی ہر تنبیہ کو نظر انداز کیا گیا۔ ایسا ہی ہوا اور ملک میں ایک بار پھر سے مریضوں کا گراف بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔ جس پر اب حکومت اور شعبہ صحت کے ہاتھ پاؤں پھولنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کورونا کسی کو بخش نہیں رہا ہے، اس سے نا صرف عام لوگ متاثر ہو رہے ہیں بلکہ کئی بڑی سیاسی شخصیات اس وبا کے حملے سے بچ نہیں پائی ہیں تو بیچارے غریب کیا کریں گے جن کے وسائل بھی کم ہیں امیر تو مہنگے سے مہنگا علاج افورڈ کر سکتے ہیں۔ ملک بھر میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک بار پھر سے 50000 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور اگر وبا اسی طرح بڑھتی رہی تو لاکھوں لوگ دوبارہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائیں گے۔ یقیناً حالات قابو سے باہر ہیں، ادھر اس کی کوئی مؤثر دوا یا ویکسین کی ایجاد ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔ مستند دوا کی ایجاد برسوں نہیں تو خود ماہرین کے بقول مہینوں دور ضرور ہے۔ متعدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ایسے سنجیدہ حالات میں گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت دینا ایک سیاسی، معاشی یا ایک معاشرتی فیصلہ تو ہو سکتا ہے لیکن طبی نقطہ نظر سے یہ درست فیصلہ نہیں ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے طلب اور رسد دونوں ہی متاثر ہوئے ہیں۔ ایسے میں خسارہ میں چلنے والے کاروباری ادارے بند ہوئے ہیں اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ وہیں اب ان کی کمائی کا بڑا حصہ مہلک بیماری سے نمٹنے میں بھی جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ جو سماجی، معاشرتی و نفسیاتی اور روز مرہ کی زندگی سے وابستہ سوال ہیں ان کا جواب ملنا کافی مشکل ہے۔ بہر کیف ان سب حالات کے تناظر میں ہمیں محتاط قدم بڑھانا ہوں گے۔ حوصلے کے ساتھ بیماری اور دیگر حالات سے نبرد آزما ہونا ہے۔

صوبائی سطح پر کوئی ضلع یا علاقہ نہیں جہاں پھیلاؤ میں کمی آئی ہو بلکہ اضافہ ہی دیکھا گیا ہے۔ اس لئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ نہ تو وہ پی ڈی ایم کو جلسوں کی اجازت دے گی اور نہ ہی روکے گی، مگر منتظمین کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔ اپوزیشن بضد ہے کہ کورونا ہوتا ہے تو ہوتا رہے ہمیں بس جلسہ کرنا ہے۔ لگتا ہے اپوزیشن کو اپنے سیاسی مفادات زیادہ عزیز ہیں لوگوں کی جان پیاری نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اس معاملے میں دوہرا معیار قائم کئے ہوئے ہے سندھ میں مراد علی شاہ لاک ڈاؤن کا اعلان کر رہے ہیں اور لاہور میں جلسے کے انعقاد پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے قومی سطح پر ہمارے سیاست دان کوئی اتفاق رائے یا متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے میں یکسر ناکام رہے ہیں بلکہ اس بیماری کی آڑ میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش جاری ہے۔ اپوزیشن مہنگائی کو بنیاد بنا کر احتجاجی تحریک چلا رہی ہے، میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے کسی سال بھی نہیں سنا کہ مہنگائی کم ہوئی ہے بلکہ ہر سال بجٹ سے پہلے اور سارا سال مہنگائی کا ہی رونا ہوتا ہے۔ اس لئے کوورنا کے پیشِ نظر اپوزیشن کو چاہئے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے وہ اپنا پروگرام اور ایجنڈا کچھ دنوں کے لئے منسوخ کر دیا جائے۔

ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر نے شدت اختیار کر لی اور اس میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ متاثرین اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ بیماری کے پھیلاؤ میں وائرس کے حملوں کا اتنا عمل دخل نہیں جتنا پاکستان کے عوام کی عدم آگہی اور سیاستدانوں کی ہٹ دھرمی شامل ہے۔ کیا پاکستان میں کبھی جلسوں سے بھی کچھ ہوا ہے حکومت بھلا ایک جلسہ کرنے سے اپنی اقتدار چھوڑ دے گی۔ مسلم لیگ (ن) بھول رہی ہے کہ اس نے پی ٹی آئی کے 126 دن کے دھرنے پر کیا حکومت چھوڑ دی تھی۔ مریم کہہ رہی ہیں کہ لاہور کا جلسہ حکومت کو گرا دے گا لیکن سوچنے کی بات ہے کیسے گرائے گا۔ عمران خان نے رائے ونڈ میں اتنا بڑا اجتماع کیا تھا کیا حکومت گر گئی تھی۔ استعفے دینے کے لئے جلسے کرنے کی کیا ضرورت ہے دے دیں اور حکومت کو گرا دیں۔ لڑائی تو اپوزیشن اور حکومت کی ہے بیچارے عوام کو کیوں مرنے دیا جا رہا ہے۔ آج کی سیاسی جماعتیں لگتا ہے کہ عوامی مسائل سے مبرا ہیں اور ان کو عوامی مسائل کا درست انداز میں ادارک ہی نہیں ہے۔ عوام کو امن چاہئے، سکون چاہئے، بنیادی سہولیات چاہئیں لیکن بد قسمتی سے ہماری سیاست میں عوامی خدمت بہت پیچھے رہ گئی ہے جب کہ ذاتی مفادات اوپر آ گئے ہیں۔ پی ڈی ایم کہہ رہی ہے کہ آسمان ٹوٹ پڑے یا طوفان آ جائے لاہور میں جلسہ تو ہم ضرور کریں گے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ جلسوں میں کیا رکھا ہے کہ ان کی کامیابی سے حکومت کے مخالفین کو کیا فائدہ ہو گا۔ اگر لیڈرز لاپروائی کریں گے تو ان کے فالوورز کو غلط میسیج جائے گا۔ وبا کی شدت، احتیاطی تدابیر سے غفلت اور طبی سہولتوں کی یہ کسمپرسی بد قسمتی سے کسی بڑے بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر اس امڈتے ہوئے خطرے سے خود کو بچانا ہے تو بغیر وقت ضائع کئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر آگاہی اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہو گا۔ تجارتی مقامات اور صنعتوں کو کھلا رکھنا معیشت کی ضرورت ہے مگر معیشت کی یہ ضرورت پوری کرنے کے لئے وبا کے خطرے سے مضبوط دفاع کی شرط بھی پوری کرنا ہو گی۔ وبا کی پہلی لہر کے دوران ہم اس خطرے سے بچ نکلے اور اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ حکومت نے بروقت اور مناسب اقدامات کئے تھے۔ اب کی بار حکومت اور اپوزیشن کے رویے کی وجہ سے یہ بھی مشکل لگ رہا ہے۔


ای پیپر