بھارت کا ترمیمی بل اور علامہ اقبال کا اسلامی جمہوری پاکستان
11 دسمبر 2019 2019-12-11

بھارت فی الواقع تیزی سے ہندوستان کا روپ اختیار کرتا چلا جا رہا ہے… اس سے مراد تقسیم برصغیر یا قیام پاکستان سے پہلے والا ہندوستان نہیں بلکہ وہ مملکت ہے جہاں پر ہندو مت کا راج ہو اور دوسرے مذاہب کے لوگ خاص طور پر مسلمان اگر تھوڑی تعداد میں بچ بھی جائیں تو محدب عدسے کی مدد سے نظر آئیں… ان کے کلچر یا تہذیب اور تاریخی آثار کو پوری طرح ملیا میٹ کر کے رکھ دیا جائے… حکمران جماعت بی جے پی اور اس کی مادر تنظیم آر ایس ایس (راشٹریہ سیوک سنگھ) جس نظریے کو ہندو راشٹر یا ہندو توا کا نام دیتی ہے ، اس کا مطلب ہے بالائی سیاسی نظام سے لے کر نچلی سماجی سطح تک یعنی ملک اور سماج کے پورے ڈھانچے میں ہندومت اس طرح رچا بسا نظر آئے کہ کسی بھی دوسری قوم کی مذہبی، سیاسی اور تہذیبی شناخت ختم ہو کر رہ جائے… اس تصور کے مقابلے میں آزادی کی جدوجہد کے دوران اور تقسیم برصغیر کے دنوں میں گاندھی اور نہرو نے انڈین نیشنل ازم کا جو بظاہر جمہوری و انسانی بلکہ ان لیڈروں کے الفاظ میں سیکولر جمہوریت کا تصور پیش کیا تھا جس پر بھارتی آئین کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ حرف غلط کی مانند مٹ کر رہ جائے… تازہ ترین شہریت ترمیمی بل (Citizen Amendment bill) اس سے پہلے مسمار شدہ تاریخی بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حصول اور گزشتہ 5 اگست کو مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کا علیحدہ آئینی تشخص ختم کر کے رکھ دینے جیسا اقدام سب اسی منزل تک پہنچنے کی کڑیاں ہیں… بھارت کے بچے کچھے سیکولر عناصر اس پر سیخ پا ہیں سیکولرزم کی موت پر واویلا مچا رہے ہیں۔ مظاہرے بھی ہو رہے ہیں شمال مشرقی ریاستوں میں سخت کشیدگی ہے لیکن نریندر مودی کی قیادت میں ہندو راشٹر کے خواب کی تعبیر دیکھنے کے خواہش مند برہمن زادوں نے ہندو اکثریت خصوصاً فیصلہ کن طاقت رکھنے والے شمالی بھارت کو اس طرح گرفت میں لے لیا ہے کہ ان کا بس نہیں چل رہا… تاہم بھارتی سماج کے اندر ایک نئی کشمکش جنم لے رہی ہے… علامہ اقبال نے اس کی بہت پہلے پیشین گوئی کر دی تھی… قائداعظم محمد علی جناح کے نام 28 مئی 1937ء کو لکھے گئے ایک خط میں علیحدہ مسلم ریاست کی ضرورت پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ہندوستان کے سیاسی نظام کے اندر اگر جواہر لعل نہرو کے سوشل نظریات کو سمونے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں ہندوؤں کے مابین بھی خونزیر فسادات جنم لے سکتے ہیں… سوشل جمہوریت اور برہمن ازم کے درمیان جو مسائل پیدا ہوں گے وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ان سے مختلف نہ ہوں گے جو کبھی برہمن ازم اور بدھ مت کے درمیان اٹھے تھے… میں نہیں کہہ سکتا ہندوستان میں سوشل جمہوریت کو اسی انجام سے دو چار ہونا پڑے گا جس کا سامنا بدھ مت کو کرنا پڑتا تھا یا نہیں لیکن اس بارے میں میرا ذہن بالکل صاف ہے کہ اگر ہندومت نے سوشل جمہوریت کو قبول کر لیا تو انجام کار اس سے ہندومت کی موت واقع ہو جائے گی… اس کے برعکس اگر اسلام میں سوشل جمہوریت کی کسی مناسب صورت کو اس انداز میں اپنا لیا گیا کہ اس سے اسلام کے بنیادی اصول قانون نظام متاثر نہ ہوں تو یہ حقیقت میں کوئی ایسی انقلابی بات نہ ہو گی بلکہ اسے اسلام کی اصل کی جانب رجوع قرار دیا جائے گا… چنانچہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کے لیے دور جدید کے مسائل سے عہدہ برآ ہونا زیادہ آسان نظر آتا ہے لیکن جیسا کہ میں اوپر واضح کر چکا ہوں کہ اس حل کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے ہندوستان کو تقسیم کر دیا جائے اور مسلمانوں کی واضح اکثریت کی حامل ایک یا زیادہ ریاستیں تشکیل دی جائیں… کیا آپ نہیں سمجھتے اس مطالبے کا صحیح وقت آن پہنچا ہے… آپ کی جانب سے ایسا مطالبہ جواہر لعل نہرو کے ملحدانہ سوشل ازم کا بروقت اور صحیح جواب بھی ہو گا‘‘…

حقیقت یہ ہے اگر ہم نے علامہ اقبال ؒ کے تصورات کے مطابق پاکستان کے اندر اسلامی جمہوریت کے آئیڈیل کو صحیح معنوں میں اپنا لیا ہوتا تو نہ صرف موجودہ بھارت کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کرنے اور پوری دنیا پر اس کی اوقات کو سامنے لانے کے قابل ہوتے بلکہ قائدانہ کردار ادا کر رہے ہوتے اسلامی نظم مملکت کا صحیح چہرہ بھی دنیا کو دکھا پاتے… مودی حکومت کی جانب سے موجودہ شہریت ترمیمی بل کو لوک سبھا سے منظور کرانے اور اسے ایکٹ آف پارلیمنٹ بنانے کی خاطر راجیہ سبھا میں پیش کرنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ بھارت کے اندر مسلمانوں کی مسلمانوں کی آبادی کے بڑھتے ہوئے تناسب کو کم سے کم کر کے رکھ دیا گیا… اس کے ساتھ ان کی تہذیبی اور مذہبی شناخت کا بھی خاتمہ کر دیاجائے… بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو ضم کر کے وہاں پر مسلمانوں کی واضح اکثریت کو ختم کرنے کی تدابیر اختیار کرنا اسی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے کانگریس اگرچہ مخالفت میں آواز بلند کر رہی ہے… بھارتی میڈیا کے کچھ عناصر اور دوسری این جی اوز نے بھی ان اقدامات کو ہدف تنقید بنایا ہے لیکن ہندو اکثریت کے نسل پرستانہ تکبر کے آگے ان کی کوئی حقیقت باقی رہتی محسوس نہیں ہو رہی… اگرچہ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا شمالی مشرقی ریاستوں مثلاً آسام و تری پورہ وغیرہ میں سخت اضطراب کی کیفیت ہے… 2002ء میں ریاست گجرات کا وزیراعلیٰ بنے نریندر مودی کو ابھی پانچ چھ ماہ ہوئے تھے کہ اس نے 2 ہزار سے زائد مسلمانوں کے خون کے ساتھ ہولی کھیل کر اس کام کا آغاز کر دیا تھا… اس سے دس سال قبل یعنی 1990-91ء میں اس وقت کے بی جے پی کے لیڈر لال کشن ایڈوانی نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے حق میں تحریک برپا کر کے پورے بھارت کے اندر مسلمان دشمنی کی فضا پیدا کر دی تھی… 1992ء میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد 8 سال کے اندر 2 ہزار سے زائد مسلمانوں کا قتل عام کر کے بی جے پی اور اس کی مادر تنظیم آر ایس ایس نے اپنے منشور کو کسی طرح چھپا نہیں رہنے دیا تھا کہ مسلمانوں کی آبادی کو بھی کم کرنے کی ہر ممکن سعی کرنی ہے… ان کے اندر خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنی ہے… اس کے ساتھ ان کی دینی اور تہذیبی شناخت کو ختم کر کے رکھ دیا ہے… چنانچہ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے باعث نریندر مودی کو پورے ملک کے ہندوؤں کے واحد لیڈر کے طور پر تسلیم کرنا شرو ع ہو گیا… اس کی اگلی منزل 2014ء کا چناؤ تھی… اس انتخابی مہم کی بنیاد پاکستان دشمن نعروں اور جہاں جہاں ممکن ہو ہندو مسلمان فسادات پررکھی گئی… اگرچہ لوگوں کو اقتصادی ترقی کے نعرے کا جھانسا بھی دیا گیا لیکن نریندر مودی نے وزیراعظم بننے کے بعد ان دو نعروں پر ہی فوکس جاری رکھا… ایک مسلمانوں کی تعداد کم کی جائے، ان کی تہذیبی علامات کو ختم کرنے کا کام شروع کیا جائے اور دوسرے پاکستان کا ناطقہ بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے… اس کی خاطر سندھ طاس معاہدہ تک ختم کرنے کی دھمکیاں دی گئیں…

مودی صاحب اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں… اسی کے بل بوتے پر 2019ء کے چناؤ میں پہلے سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے… چنانچہ ہندو اکثریت کے بھاری مینڈیٹ سے طاقت پکڑ کر انہوں نے پہلے ریاست جموں و کشمیر کو ہڑپ کیا… اس کا ایک بڑا مقصد پاکستان کو چڑانا اور دوسرا وہاں سے مسلمان اکثریت کو ختم کرنا تھا جس کی خاطر تیزی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں… جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا اگلا قدم رام مندر کی تعمیر کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حصول تھا اور اب شہریت ترمیمی بل کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے طور پر منظور کرانا ہے… اس بل کے تحت پاکستان ، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دیگر ہمسایہ ممالک کے اندر جہاں تہاں ہندو پائے جاتے ہیں، ان کو بھارت کے اندر آ کر بسنے کی ترغیبات دی جائیں گی… ان سے ان کے وطن مولود کے خلاف پروپیگنڈا کا کام لیا جائے گا کہ وہاں مذہبی اقلیت پر عرصۂ حیات تنگ کیا جا رہا ہے… بل میں ہندو، سکھ ، عیسائی اور پارسی جیسی ہمسایہ ممالک میں آباد اقلیتوں پر بھارت کی اقلیتوں کے افراد پر خود کو مظلوم بنا کر بھارت کی شہریت (citizenship) کے حصول کی ترغیبات دی گئی ہیں… اس کے ساتھ مسلمانوں پر داخلے کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں… جس کا فوری مقصد یہ بھی ہے کہ پاکستان ، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے ہندو جتنی تعداد میں بھی چاہیں آ کر بھارت میں بس جائیں لیکن برما (میانمار) سے وہاں کی حکومت اور اکثریت کے ہاتھوں مظلومیت کی تصویر بنے اور جہنم زار جیسے کیمپوں میں مقید روہنگیا مسلمانوں کو سرزمین بھارت پر قدم رکھنے کی اجازت نہ دی جائے… اسی لیے بھارت بھر میں بھی اس بل کو امتیازی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کا نشانہ مسلمان ہیں جن کی آبادی کے تناسب کو بھارت کے اندر تو کم کر دیا جائے اور میانمار جیسے ملک میں جہاں مسلمانوں کی زندگی کو جہنم زار میں تبدیل کر دیا گیا ہے انہیں بھارت میں داخلے پر روکا جائے… کیا بھارت کے جمہوریت پسند لوگ اور وہاں کے مسلمانوں کے سرکردہ رہنما مل کر اس بل کو روک سکیںگے… اس کے امکانات کم نظر آتے ہیں… پاکستان اگر داخلی اور خارجی طور پر طاقتور ملک ہوتا اور ہم نے 1950ء میں بھارت کے ساتھ اقلیتوں کے تحفظ کا جو لیاقت نہرو معاہدہ کیا تھا اسے بے اثر کر کے نہ رکھ دیا ہوتا تو آج شاید مظلوم و مجبور بھارتی مسلمانوں کے کچھ کام آتے… اس کے برعکس علامہ اقبال نے اسلامی جمہوریت کا جو تصور پیش کیا تھا عملاً اس کی تکذیب میں لگے ہوئے ہیں اسی بنا پر مودی کو کھلی چھٹی ہے جو چاہے کرے ہمارے حکمران بس کھوکھلے قسم کے مذمتی بیانات جاری کرنے پر اکتفا کریں گے…


ای پیپر