طریقہ واردات
11 دسمبر 2019 2019-12-11

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب اور امور داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر بھی کمال آدمی ہیں۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی عدالت میں کیس دائر کیے بغیر ہی محض پریس کانفرنس کے ذریعے ہی شریف فیملی اور آصف زرداری کے خلاف بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی لین دین کے الزامات کو نہ صرف ثابت کر دیتے ہیں بلکہ اپنا فیصلہ بھی صادر فرما دیتے ہیں۔ ان کا ایک اور کمال بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہ جس نمبر کی عینک استعمال کرتے ہیں اس میں صرف حزب مخالف کی اور خاص طور پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی کرپشن اور منی لانڈرنگ ہی نظر آتی ہے ۔ ان کو اپنے اردگرد بیٹھے حکومتی لوگ دودھ کے دھلے نظر آتے ہیں۔ ان کو کرپشن کے دھبے محض مخصوص سیاستدانوں کے لباس پر ہی نظر آتے ہیں جبکہ حکومت میں بیٹھے لوگوں کے اجلے اور چمکیلے لباسوں سے ان کی آنکھیں چندیا جاتی ہیں لہٰذا ان کی توجہ کا مرکز شریف فیملی اور آصف زرداری ہی رہتے ہیں۔ ابھی چند دن پہلے وہ پریس کانفرنس کرنے آئے تو عمومی خیال یہی تھا کہ وہ انگلینڈ سے واپس آنے والے 248 ملین ڈالر پر اپنی کوششوں کے بارے میں بتائیں گے اور اس کا کریڈٹ لیں گے مگر انہوں نے تو ساری پریس کانفرنس ہی شہباز شریف اور ان کے خاندان کے بارے میں کی۔ 280 ملین ڈالر کا ذکر انہوں نے سرسری طور پر کیا۔ ممکن ہے ان کے الزامات میں جان ہو مگر بہتر تو یہی ہے کہ وہ یہ سارے ثبوت نیب کو دیں اور میڈیا ٹرائل کرنے کی بجائے نیب کے ساتھ مل کر عدالتوں میں ان الزامات کو ثابت کرنے میں اپنی توانائیاں خرچ کریں مگر ان کے ذمے شاید یہی کام ہے کہ انہوں نے مسلسل عوام کو یہ بتاتے رہناہے کہ زرداری اور شریف خاندان نے اس ملک کو لوٹا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی حکومتوں اور رہنماؤں نے اس ملک کو لوٹ مار کر کے کھوکھلا کیا ہے جبکہ حکومتوں میں رہنے والے سدا بہار سیاستدان جو کہ ہر عام انتخابات سے پہلے سیاسی وفاداریاں بدلنے میں شہرت رکھتے ہیں۔ ان پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں مگر وہ اپنی باری آنے ہی نہیں دیتے۔ وہ حکومت سے باہر نکلیں تو ان کا احتساب ہو۔ وہ بدعنوانوں کی جماعتوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کی حکومتوں کا حصہ بنتے ہیں۔ وزارتوں کا لطف اٹھاتے ہیں جس کو چھوڑتے ہیں اس کو بدعنوان کہتے ہیں اور جس حکومت میں ہوتے ہیں اس کی تعریفیں کرتے ہیں۔ ان سیاستدانوں نے اس راز کو پا لیا ہے کہ کبھی طاقتوروں کو ناراض نہیں کرنا۔ مقتدرا کے مزاج اور موڈ کے مطابق سیاست کرنی ہے۔ سیاست میں کسی مخصوص نظریے، اصول اور سیاسی وفاداری کا روگ نہیں پالنا۔ سیاسی نظریہ اور اصول ان کو بوجھ لگتا ہے اس لیے یہ اس قسم کے بوجھ سے آزاد رہنا ہی پسند کرتے ہیں۔

بات ہو رہی تھی۔ بیرسٹر شہزاد اکبر کی پریس کانفرنسوں، مخصوص عینک اور ان کے احتسابی شرلاک ہومز کے کردار کی۔ جب ہر طرف یو کے سے آنے والے 280 ملین ڈالر کی دھوم تھی تو وہ اس وقت بھی شریف فیملی پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے تھے مگر ملک ریاض کی لندن میں موجود جائیدادوں اور ان کی طرف سے U.K کی نیشنل کرائمز ایجنسی (NCA) کو دیئے گئے پیسوں کے حوالے سے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ خاموشی صرف بیرسٹر شہزاد اکبر کی حد تک نہیں ہے بلکہ پاکستان میں کرپشن، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی لین دین کے خلاف جہادکرنے والے اینکرز، تجزیہ نگار اور دفاعی ماہرین بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جنہیں شریف خاندان اور آصف زرداری کے خلاف الزامات کو دہراتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ان کے جذبات ملک ریاض والے معاملے پر اتنے ٹھنڈے ہیں کہ لگتا ہے کہ وہ آئس لینڈ یا قطب شمالی میں چھٹیاں گزار رہے ہوں۔

ملک ریاض والے معاملے پر میڈیا کے بڑے حصے کی خاموشی یہ ثابت کرتی ہے کہ صرف فوج اور خفیہ ایجنسیاں ہی حساس نہیں ہوتیں بلکہ طاقتور افراد جو کہ اربوں روپے کی دولت رکھتے ہیں۔ ان پر بات کرنا بھی حساس نوعیت کا معاملہ ہوتا ہے۔ مقتدر قوتوں کے معاملات تو اس لیے حساس ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ قومی سلامتی کے تقاضے منسلک ہوتے ہین مگر بحریہ ٹاؤن جیسے اداروں کے ساتھ کونسی قومی سلامتی منسلک ہے جو بڑے جغادری اینکرز اور تجزیہ نگار خاموش ہیں۔ وہ کونسی حساسیت ہے جس نے بیرسٹر شہزاد اکبر کو منی لانڈرنگ کے اس کلاسک کیس پر پریس کانفرنس کرنے اور ڈاکو منٹ لہرانے سے روکا ہوا ہے۔ نہ تو فواد چوہدری اور نہ ہی فردوس عاشق اعوان کو وقت ملا کہ وہ اس معاملے پر ہمیں اپنے زریں خیالات سے نوازیں۔ سب سے حیران کن خاموشی شیخ رشید نے اختیار کر رکھی ہے۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے یہ فرمایا ہے کہ شہباز شریف، نواز شریف اور آصف زرداری کا طریقہ واردات ایک ہی ہے ۔ انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ انہوں نے شہباز شریف سے 18 سوالات اس لیے پوچھے ہیں کیونکہ ان کی دولت میں 10 سالوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ بیرسٹر صاحب یہ ثابت کرنا چاہتے ہیںکہ اس ملک میں صرف آصف زرداری، شریف فیملی اور اسحاق ڈار وغیرہ نے منی لانڈرنگ کے ذریعے دولت ملک سے باہر بھیجی اور پھر کچھ دولت واپس لائے۔ مگر ابھی تک کسی بھی دوسرے ملک میں یہ بات ثابت نہیں کر سکے کہ جو بھی اثاثے انہوں نے بیرون ملک بنائے ہیں وہ لوٹی ہوئی دولت سے حاصل کیے ہیں ۔ ان کے خلاف احتساب عدالتوں میں ریفرنس چل رہے ہیں۔ نواز شریف کو احتساب عدالت سے سزا سنائی گئی مگر ان کا ایک ڈالر بھی باہر سے واپس نہیں آیا کیونکہ وہ اپنے اثاثوں کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے ۔

بیرسٹر شہزاد صاحب یہ طریقہ واردات پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا ہے ۔ اگر آپ تعصب کی عینک تھوڑی دیر کے لیے اتار دیں تو آپ کو واضح طور پر دکھائی دے گا کہ یہ طریقہ واردات بڑے کاروباری افراد۔ امیر ترین افراد اور دولت مند استعمال کرتے آئے ہیں۔ منی لانڈرنگ کے ذریعے صرف چوری کا پیشہ ہی باہر نہیں جاتا بلکہ وہ سرمایہ بھی باہر جاتا ہے جو ٹیکس چوری اور ناجائز منافعوں سے کمایا جاتا ہے ۔ دوسرا اس ملک میں وہ کونسا امیر ترین فرد یا خاندان ہے جس کی دولت میں ہر سال اضافہ نہیں ہوتا۔آپ اس معیار کو طے کیجئے اور پھر ہر اس فرد اور ادارے کے بارے میں تحقیقات کی جائیں جن کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ جنہوں نے بیرون ملک جائیدادیں خریدی ہیں۔ کیا بیرسٹر صاحب یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ پناما پیپرز میں آنے والے 400 سے زائد افراد میں سے شریف خاندان کے علاوہ کسی اور کے خلاف تحقیقات ہوئیں یا کوئی کارروائی ہوئی۔

پاکستانی اشرافیہ نے بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں چھوٹ ملنے والے قانون کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔ اشرافیہ نے مختلف ذرائع سے اپنا سرمایہ بیرون ملک بھجوایا۔ کچھ نے باہر اپنے اثاثے بنائے۔ کاروباری سرمایہ کاری کی۔ جبکہ کافی زیادہ سرمایہ واپس پاکستان آیا۔ انکم ٹیکس قوانین میں ملنے والی چھوٹ کے تحت بیرون ملک سے آنے والے پیسے کے بارے میں پوچھا نہیں جا سکتا تھا ۔ اس سہولت کا پاکستانی اشرافیہ اور حکمران طبقات نے بھر پور فائدہ اٹھایا۔اس معاملے میں صرف سیاستدان شامل نہیں ہیں بلکہ اشرافیہ کے تمام حصے شامل ہیں۔

آپ اگر سنجیدہ ہیں کہ تو آزاد ماہرین پر مشتمل طاقتور کمیشن بنایا جائے تاکہ پتا چل سکے کہ یہ طریقہ واردات کس کس نے استعمال کیا ہے ۔ یہ بھی پتا چل جائے گاکہ اس ملک میں کس کس کی دولت میں 1980 ء کے بعد سے غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ کون کیا تھا اور پھر چند دہائیوں میں وہ کیا بن گیا ۔ کس طرح ریاست کاروبار اور سیاست کا گٹھ جوڑ بنا۔ کس طرح قوانین کے ذریعے اشرافیہ نے خود کو فائدہ پہنچایا اور ریاست نے کیسے ان کی مدد کی۔ اب اگر ملک ریاض کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات نہیں ہوتیں تو یہ تاثر مزید گہرا ہو گا کہ احتساب کا عمل یکطرفہ اور سیاسی مقاصد لیے ہوئے ہے۔ غیر قانونی کام جس نے بھی کیا ہے اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے مگر یکطرفہ احتساب سیاسی انتقام ہی نظر آئے گا۔

اس ملک میں طاقتور صرف شریف خاندان اور آصف زرداری ہی نہیں رہے یا ابھی بھی ہیں۔ ان کے علاوہ بھی طاقتوروں کی بڑی تعداد موجود ہے ۔ ان میں سے کچھ تو ایسے بھی ہیں جن کا نام لینا بھی جرم ہے ۔ ایسے طاقتور بھی ہیں جن کا ذکر آتے ہیں ہماری آزاد اور طاقتور میڈیا کو سانپ سونگھ جاتا ہے ۔ خبروں اور پروگراموں سے ان کا نام بھی غائب کر دیا جاتا ہے ۔ نیب اور احتسابی شرلاک، ہومز بھی چپ سادھنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھتے ہیں۔ یہ طریقہ واردات چند خاندانوں یا افراد کا نہیں ہے بلکہ پوری اشرافیہ اور حکمران طبقات کا ہے ۔ سب تو نہیں مگر اکثریت اس طریقہ واردات کو استعمال کرتی آئی ہے ۔


ای پیپر