دانشوری .... تعلیم کی کیا ضرورت...؟
11 دسمبر 2019 2019-12-11

میں قائل ہونے والا ہوں فیس بک کے دانشوروں اور ٹک ٹاک کے اداکاروں سے مجھے کوئی نہ روکے ... کیونکہ ... میرا گرچہ تعلق تو پچھلی نسل سے ہے مگر میں زندہ تو نئی نسل کے ساتھ ہوں ... مجھے لگتا ہے ... ’’ بلیک ہول ‘‘ کے بارے میں بھی یہ نئی نسل جستجو کرے گی اور شاید تحقیق کی سب سے اہم ’’ بلیک ہول ‘‘ پر بھی یہ نئی نسل بہت کچھ دریافت کر لے ؟!! ہمارے دوست استاد کمر کمانی فرماتے ہیں کہ پچھلی صدی کی سب سے بڑی ایجاد ’’ برگر اور شوارما‘‘ تھے کہ جن سے عورتوں کے حقوق کی علمبردار تنظیموںنے خوشی کا اظہار کیا تھا کہ عورت کو آٹھ دس گھنٹے چولہے کے آگے بیٹھنے سے چھٹکارا ملا یا پھر استاد کمرکمانی کے بقول وہ خود بھی صدی کی بڑی دریافتوں میں سے ایک تھے ...؟؟

’’ بلیک ہول ‘‘ اِک تو حقیقت ہے ... Force of Gravity اور ایسی ہی سائنسی معاملات پر ماڈرن دنیا کے سائنسدان محو ہیں....ریسرچ جاری ہے ... شاید فیس بک سے کوئی آئن سٹائن کوئی لوئی پاسچر یا پھر ہمارے دور کا سب سے بڑا سائنسدان سٹیفن ہا کنگ(جن کا حال ہی میں انتقال ہوا اور جو معذور تھے ) آجائے اور دنیا دنگ رھ جائے کہ یہ نئی نسل کہاں سے کہاں چلی گئی .... بات تو مزے کی ہے لیکن ایجادات اتفا قاّ بھی تو ہوتی ہی ہیں...؟!!

چند فیس بک دانشوروں سے ملتے جلتے میرے فرمودات آپ بھی ملاحظہ کریں ( ہنسنا اور رونا ... دونوں منع ہیں؟)کہ ہم بھی پندرہ سال سے فیس بک کے ساتھ جڑے بیٹھے ہیں کوئی ایجاد کوئی دریافت بھلا نہیں کر سکتے؟!!تو پھر ملاحظہ کریں....

(1) ہوا بھرنے سے پہلے غبارہ بے جان ہوتا ہے ... یہ انسان ہے جو ایک بڑی سی پھوک (فُوک) سے اِ س میں ہوا یعنی جان ڈال دیتا ہے ؟ انسانی پھوک کس قدر جلدی ایک پھوک سے بے جان کو جاندار بنا دیتی ہے !!

(2) بہت اچھا اداکار بننے کے لئے ... چوبیس گھنٹے ٹک ٹاک پے جمے رہنا بے حد ضروری ہے ... ؟؟امّی کے چھتر اور ابو کی گالیاں ہر دور میں ہیرو ... اداکار بننے کی خواہش رکھنے والوں کا تعقب کرتی رہتی ہیں؟!!

) 3) بہت بڑا دانشور بننے کے لیئے ضروری ہے بندہ اخبار کا فلمی صفحہ اور فیس بک پر 23 گھنٹے ’’ آن ‘‘ رہے ... ایک گھنٹہ کے حوالے سے بتا دوں کہ دو گھنٹہ بندہ لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے ’’ ضائع‘‘ بھی تو کرتا ہے ... میں تو اپنی بات کروں گا . .. کہ لاہور کے علامہ اقبال ٹائون میں اِس سخت سردی میں بھی تین گھنٹے ’’ اللہ کے فضل سے لوڈ شیڈنگ جاری ہے اور ہم بخیرو خوبی اِس سرد موسم میں بھی لوڈ شیڈنگ سے استفادہ کر رہے ہیں... بڑے بچے لوڈ شیڈنگ کے دوران موقع سے فائدہ اٹھا کر چھوٹے بچوں کی جیبوں سے مونگ پھلی نکالتے ہیں اور اندھیرے میں ہی چٹ کر جاتے ہیں۔بڑے اِسی اندھیرے میں کیا کیا کر جاتے ہیں یا اُن سے کیا کچھ سرزد ہو جاتا ہے آپ خود غور کریں ؟!! ہر منفی چیز کے فوائد بھی ہوتے ہیں ... ایٹم مثبت کاموں کے لیئے بھی استعمال ہو سکتا ہے اور ایٹم بم ہیرو شیما کے دو لاکھ انسانوں کو موت کی نیند بھی سلا سکتا ہے ۔

فیس بک پر سب سے زیادہ پاپولر ... شاعری ہے .. میں نے ایک شاعرسے پوچھا ... ’’حضور آپ نے کس سے اصلاح لی‘‘؟؟یا آپ کے استاد کون ہیں... ؟؟ پچھلے دور میں بڑے شعراء نے عرصہ دراز تک اپنی شاعری میں جان پیدا کرنے کے لیئے اساتذہ سے اصلاح لی اُن کے قدموں میں بیٹھے خدمت کی اور پھر کہیں نام کمایا عزت پائی ...

غصے میں بولے ... میں آپ اپنا استاد . .. مجھ سے بڑا شاعرکوئی ہو تو استاد مانوں؟ حال ہی میں کراچی میں... کے ادبی پروگرام میں علی زریون ... چھا گیا تو لوگوں نے خاص طور پرفیس بک کے شعراء نے اُس کے خلاف محاذ بنا لیا ... (بڑے لوگ بڑا مذاق ... یعنی ہم اچھی شاعری نہیں کر سکتے اچھے شعراء کی ٹانگ تو کھینچ سکتے ہیں؟)

حالانکہ یہ مشاعرے کے شاعر جلد پاپولر ہو جاتے ہیں (اِس میں بُرا منانے کی کیا بات ہے ؟)

فرحت عباس شاہ ، عباس تابش ،انورمسعود امجد اسلام امجد بنیادی طور پر مشاعروں کے شاعر ہیں...

ماسٹر کمر کمانی اپنے نام کے ساتھ ماسٹر لکھنا نہ جانے کیوں پسند کرتا ہے کیونکہ چند دن پہلے خود ہی موصوف نے بتایا کہ میں تو کبھی بھی کسی بھی سکول میں ماسٹر نہیں رہا پھر نہ جانے ماسٹر میرے نام کا حصہ کیسے بن گیا ویسے میں اپنے نام کے ساتھ ماسٹر لکھنا پسند کرتا ہوں ( ماسٹر کمر کمانی نے سینہ تان کر کہا) ہاں البتہ میں نے اگر کبھی شہر بدلی کی تو نئے شہر میں اپنے نام کے ساتھ ماسٹر کی بجائے ڈاکٹر لکھنا پسند کروں گا ماسٹر جی یہ آپ کی یا کسی بھی انسان کی مرضی ہے کہ وہ جو چاہے اپنے نام سے پہلے یا بعد میں لگائے اور پھر وہ نام کا حصہ بن جائے ارے بیوقوف آدمی تم کیبل نہیں دیکھتے سوری ماسٹر جی ہمارے گھر میں کیبل نہیں ہے میں نے بڑا سا منہ بنا کر جواب دیا تو ماسٹر کمر کمانی سر پکر کر بیٹھ گئے پھر بولے اوئے آدمی ٹی وی بھی ہے کہ نہیں ... جی ہاں جی ہاں ماسٹر جی وہ ہے مگر تصویر آتی ہے آواز نہیں مگر یہ تو بتائیںآپ یہ مجھے آدمی آدمی کہہ کر کیوں بلا رہے ہیں میں نے غصے سے پوچھا تو گویا ہوئے ...

اوئے بیوقوف آدمی غصہ نہ کر جبر کر کیونکہ کچھ دنوں سے میں تمہیں پہلے کی طرح اوئے لڑکے کہہ کر بلانا چاہ رہا تھا مگر تمہاری پوری کاریگری کے باوجود یہ جو تمہاری قلموں سے کوئی کوئی سفید بال جھانک رہا ہے اُس سے اب میں تمہیںلڑکا تو کہنے سے رہا میاں اللہ کو جان دینی ہے بندے کو سچ بولنا چاہیے اور یہ جو جناب نے ستر سال سے اپنے نام کے ساتھ ماسٹر کا اضافی چارج سمبھالا ہوا ہے یہاں سچ بولنے کی ضرورت نہیںاور یہ جو نئے شہر منتقل ہونے کا سوچ رہے ہو اور وہاں نئے نام یعنی ڈاکٹر کمرکمانی کہلوانا پسند کرنے والے ہو یہ سچ نہیں کیا یہ سچی مچی ہے کھیسانی ہنسی سننے لگے تو ہنسی اور کھانسی کا ملاپ ہو گیا کچھ نہیں سمجھ آرہا تھا کہ ماسٹر عرف ڈاکٹر کمرکمانی کھانس رہا ہے ہنس رہا ہے یا شرمندگی کے مارے رو رہا ہے خیر پھر واپس اپنی گفتگو کی طرف چلا گیا اور ارشاد ہوا میاں یہ جو کیبل پر تین تین چار چار منٹ کے اشتہار چل رہے ہیں کہ ڈاکٹراور حکیم فلاں سے کینسر، شوگر، دل، یرقان، کمزوری، معذوری ،سیاسی مجبوری گویا ہر مرض کے شافی علاج کے لیے آج ہی تشریف لائیں پھر فرمایا ارے آدمی یہ ڈاکٹر حکیم صاحبان ساتھ میں گولڈ میڈل ضرور لکھ رہے ہیں کیا کوئی ادارہ ہے جو ان سے پوچھے حضور کیا صرف میٹرک کی ڈگری کسی نہ کسی طرح حاصل کر لینے کے بعد آپ ڈاکٹر بھی بن گئے حکیم بھی بن گئے طیب بھی بن گئے گولڈ میڈلیسٹ بھی ہو گئے یہ سب کیا ہے کہاں سے آیا کیسے ہوا اور عمر خیر سے آپ کی صرف ۷۲ سال ہے اور تین سال بعد آپ نے خود ہی آندھی سے بورڈ جب گرے گا اور نیا بورڈ لکھوانے کی ضرورت محسوس ہو گی تو لکھ لینا ہے کہ قبلہ بڑے ڈاکٹر اور حکیم صاحب گولڈ میڈلسٹ وغیرہ وغیرہ اور پھر وغیرہ ماسٹر کمر کمانی کے اس لمبے وضاحتی بیان کے بعد میرے پاس کوئی وضاحت نہ تھی ۔


ای پیپر