سعد رفیق: قید کا ایک برس
11 دسمبر 2019 2019-12-11

آج گیارہ دسمبر کو خواجہ سعد رفیق کی زندگی کا ایک سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر گیا۔آج سے ٹھیک ایک برس پہلے انہیں ہائی کورٹ سے اپنی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست واپس لینے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اُ ن پر ایک دلچسپ الزام ہے کہ وہ لاہور ائیرپورٹ کے قریب رنگ روڈ کے دوسری طرف واقع ایک ہاو¿سنگ سوسائٹی کے مالک ہیں مگر وہ اس کی تردید کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اس کے مالکان ان کے پرانے دوست ہیں اور وہ ان کے ساتھ یہاں کاروبار کرتے رہے ہیں۔ اب اگر آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں تو اس معاملے کا سیدھا سادا سا حل ہے کہ آپ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق سے ایک حلف نامہ لے لیں جیسا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس وقت لیا جب وہ ریلوے کے خسارے پر لئے گئے از خود نوٹس کی سماعت کر رہے تھے کہ بیچ میں دوسرا معاملہ بھی آگیا۔ مجھے سابق چیف جسٹس کے الفاظ یاد ہیں جو انہوں نے حلف نامہ لیتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کے وکیل بیرسٹر شاہد حامد کو کہے تھے کہ خواجہ سعد رفیق کو بتا دیں کہ اس حلف نامے کے کیانتائج ہو سکتے ہیں، انہوں نے اس کے بعد خواجہ سلمان رفیق کے ذریعے بھی ایک پیغام بھیجا تھا جو بہرحال نہ تو خوش کن تھا اور نہ ہی ان کے منصب کے تقاضوں کے مطابق۔

میرا خواجہ سعد رفیق کے ساتھ تعلق طلبا سیاست کے اس دور کا ہے جب تعلیمی اداروں میں خون کی ہولی کھیلی جاتی تھی۔ سعد رفیق اس وقت کی روایتی طلباءسیاست کے باغی سمجھے جا تے تھے جو جمعیت کا مقابلہ کرنے یعنی مقابلے میں جمعیت کے اتنے ہی بندے مارنے کی بجائے ایک ضابطہ اخلاق طے کرتے ہوئے اصولی اور نظریاتی سیاست کے علمبردار تھے جبکہ ا س وقت ارشد امین چودھری کا طوطی بولتا تھا جس کا دیال سنگھ کالج پر قبضہ تھا جبکہ ہمارے ایم اے اوکالج پر بھی صفدر جٹ اور جیدے سکھ کے پرچم لہراتے تھے، بہرحال وہ وقت گزر گیا، خون کی سیاست بہت پیچھے رہ گئی اور نظریاتی سیاست کا بول بالا ہوا۔ میرا خیال ہے کہ پکڑنے والے خواجہ سعد رفیق کو ریلوے ہی کے کسی معاملے میںپکڑنا چاہتے تھے مگر تھرڈ پارٹی آڈٹ کے باوجود ریلوے کے معاملات میں کوئی گھپلا سامنے نہ آسکا بلکہ آڈٹ کرنے والوں نے اس امر کو سراہا کہ پانچ برسوں میںریلوے کی آمدن اٹھارہ ارب روپوں سے بڑھ کر پچاس ارب روپوں تک پہنچ گئی، مسافر کم خرچے سے اپ گریڈ یعنی نئی نویلی بنائی گئی ٹرینوں کو بھی سراہتے تھے اور وقت کی پابندی کی بھی تعریف کرتے تھے۔ میرا ریل کار کے ذریعے لاہور اور راولپنڈی کے درمیان غیر معمولی سفر رہا اور صبح سات بجے والی ٹرین ٹھیک سات بجتے ہی اپنا بھونپو بجاتے ہوئے پلیٹ فارم سے کھسکنا شروع کر دیتی تھی۔ ایک سیاستدان اس کے سوا اپنے ملک کو کیا دے سکتاہے کہ اس کے ذمے جو مردہ محکمہ لگایا جائے وہ اسے زندہ کر دے۔ امانت اور دیانت کی اصل گواہی تو انکے ساتھ مکمل پانچ برس تک کام کرنے والے افسران ہی دے سکتے ہیں مگر میں نے دیکھاکہ پانچ برسوںمیںلاہور کا ایک تگڑا وفاقی وزیر ہونے کے باوجود ریلوے ہیڈکوارٹرز میں کبھی کوئی سیاسی کارکن نہیں گھسا، اس کی طرف سے ریلوے میں بھرتیاں کروانا اور ٹھیکے لینا توبہت دور کی بات تھی۔ ایک مرتبہ اپنے صوبائی حلقے میں’ ون ون ٹوٹو‘ سمجھے جانے والے لیگی ایم پی اے یٰسین سوہل نے میرے سامنے دلچسپ شکایت کی،کہا، سعد بھائی اگر ریلوے ہیڈکوارٹرمیں یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پانچ برسوںمیں اپنے حلقے کے کسی ایک کارکن کو بھی نوکری نہیں دی کہ چھوٹی اور بڑی تمام سرکاری نوکریاں میرٹ پر تمام پاکستانیوں کایکساں حق ہیں تو وہاں یہ بات کہتے رہیں مگر خدا کے لئے اپنے حلقے کی ملاقاتوں میں یہ مت کہا کریںکہ اس سے کارکن ناراض ہوتے ہیں مگر خواجہ سعد رفیق کو سمجھانا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔

خواجہ سعد رفیق اپنی محنت، امانت اور دیانت کی سابق چیف جسٹس سے شاباش لینا چاہتے تھے مگر میرے خیال میںیہ ایک سعی لاحاصل تھی اور اسے پی ٹی آئی مخالف حلقو ں میں بھی اچھا نہیں سمجھا گیا مگر جہاں اپنی کاوشوں کے بارے پرامید تھے وہاںانہیں دام میںلانے والے بھی ہمت ہارنے والے نہیں تھے کہ اگر وہ اپنے محکمے کے اربوں روپوں کے بجٹ کے کسی ہیر پھیر میں قابو نہیں آئے تو انہیں ایک مفروضے پر گرفتار کر لیا گیا اوراب اسی گرفتاری میں ایک برس گزر گیا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ نون کے رہنماوں میں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو سب سے پرانے قیدی کہا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما عبدالعلیم خان جب گرفتار ہوئے تھے تو میں نے انہی صفحات پر ان کے حق میں بھی ایک کالم لکھا تھا مگر بعد ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی کے دونوں وزرا کی گرفتاریاں محض توازن پیدا کرنے کے لئے تھیں کہ دونوں وزرا گنتی کے دنوںکے بعدہی جیل کی سلاخوں سے باہر آ گئے۔ عبدالعلیم خان کی گرفتاری کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ اب ان کے دوست بھی ان کے وزیراعلیٰ بننے کا خواب نہیں دیکھتے۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ خواجہ سعد رفیق کو کس جرم کی سزا مل رہی ہے، کیا وجہ ہے کہ نواز شریف اورمریم نواز تک ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں مگر خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نہیں ہوتے حالانکہ نواز شریف اب خود کو نظریہ کہتے ہیں۔کیا خواجہ سعد رفیق کا ”جرم“ نواز شریف اور مریم نواز سے زیادہ شدید اور سنگین ہے۔ یہ نظریہ بھی ایک شدید مرض اور ایک سنگین جرم ہوتا ہے۔اس نظرئیے کی سزا اس سے پہلے ان کے والد بھی بھگت چکے ہیں جنہیں پنجاب اسمبلی کے ساتھ سڑک پر بھٹو مرحوم کے دور میں گولی مار د ی گئی اور ان کی والدہ بھی بھگت چکی ہیں جب پرویز مشرف کے دور میں اسی طرح خواجہ سعد رفیق پابند سلاسل تھے اور وہ انتہائی تشویش ناک حالت میںشیخ زید ہسپتال لائی گئی تھیںاور پھر وہاں سے ان کی میت ہی گئی تھی۔

میں نے جس سعد رفیق کو دیکھا ہے اس کے بارے کہہ سکتا ہوںکہ وہ دیوار میں دروازہ بنانے کے حق میں تو ہوسکتے ہیں مگر وہ دیوار کو ٹکر مارنے اور گرا دینے کے جنوںمیں ہرگز مبتلا نہیں۔ دیواروںمیںدروازے صرف ایک طرف نہیںدونوں طرف رہنے والوںکو سہولت اور آسانی دیتے ہیں، جی ہاں، میں نے ’ ریلوے‘ میں دیکھا ہے کہ وہ کسی انقلاب کی بجائے اصلاحات کے حامی ہیں۔خواجہ سعد رفیق ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر ہیں اور ریلوے جیسے ادار ے کو نجکار ی کے خطرے سے نکال کر پاوں پر کھڑا کردینا ان کی انتظامی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میں نے بہت سارے انقلاب پسندوںکے مقابلے میں انہیں اسٹیبلشمنٹ کے بارے بات کرتے ہوئے بہت محتاط پایاہے بلکہ وہ اپنی فوج کے شہدا کے حوالے سے شاید ہمارے فوجی افسرا ن سے بھی زیادہ جذباتی ہوتے ہیں۔اپنی قوم کے لئے جمہوریت اور اپنی مٹی سے محبت کے عجیب مشترک مرض میںمبتلا خواجہ سعد رفیق کی زندگی کا پہلا برس نہیں جو جیل میںگزرا ہو ، وہ اس سے پہلے بھی جیلیں کاٹ چکے ہیں۔ انہوں نے جس راستے کا چناو¿ کیا ہے اس میں یہی سب کچھ ہوتاہے مگر مجھے خدشہ ہے کہ اس نام نہا دجمہوری دور میں ان کے ساتھ وہ کچھ ہوسکتاہے جو پہلے ضیا ءاو ر مشرف کی آمریت میں بھی نہیں ہوا ۔ میں واہ واہ کروانے کے لئے اس تحریر کا اختتام فیض ، فراز اور جالب کے بڑے بڑے اشعار سے کر سکتا ہوں مگرمجھے علم ہے کہ ہم سب نے آسمانوں تک بلند چنی ہوئی دیواروں میں دروازے نہیں تو کم از کم کھڑکیاں تو ضرور بنانی ہیں جہاں سے تازہ ہوا آ سکے ورنہ اتنا حبس ہے کہ بہت سارے لوگ لُو کی دُعا مانگ رہے ہیں ۔۔۔ اللہ خیر کرے۔


ای پیپر