Source : Naibaat Mag

 حضرت عبد اﷲ بن مسعودؓ کے قبول اسلام کا نہایت دلچسپ واقعہ
11 دسمبر 2018 (23:55) 2018-12-11

حافظ محمد عمر:

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اسلام قبول کرنے والے اوّلین اصحاب رسول میں سے ہیں۔ امام بغوی نے آپ ؓکا یہ قول نقل کیا ہے کہ” میں اسلام لانے والوں میں چھٹا شخص ہوں،، آپ ؓ کے قبول اسلام کا واقعہ نہایت دلچسپ ہے۔ آپ ؓ عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرا رہے تھے کہ ادھر سے حضور اکرم حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے ہمراہ گزرے حضورنے دودھ طلب فرمایا۔ حضرت ابن مسعودؓ نے عرض کیا۔ مجھے امانت دار بنایا گیا ہے کہ بکریاں چراﺅں اور ان کی حفاظت کروں، دودھ پلانے کا مجاز نہیں ہوں۔ حضور نے بکریوں میں سے ایک ایسی بکری تلاش کی جو ابھی دودھ دینے کے قابل نہیں ہوئی تھی۔ آپ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور اور اسے دوہا۔ یوں حضور اور حضرت صدیق اکبرؓ نے دودھ نوش جاں فرمایا۔ یہ ماجرا دیکھ کر عبداللہ بن مسعودؓ نے حضور سے عرض کی یہ دعا مجھے بھی سکھا دیں۔ آپ نے ابن مسعودؓ کے سر پر دست شفقت پھیرا اور فرمایا: ”تم خود علم سکھانے والے پیارے بچے ہو“ (یعنی تم استاد بنو گے)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سرکار دو عالم کے قریبی اور پسندیدہ ساتھیوں میں سے تھے۔ آپ ؓ سفر و حضر میں حضورکے ساتھ رہے۔ حضور نے ان سے فرما رکھا تھا کہ ” تمہیں میرے گھر میں حاضر ہونے کے لئے اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔ پردہ اٹھا کر اندر آ جایا کرو اور ہماری باتیں سنا کرو،، حضور اکرم کی کچھ خاص خدمتیں ابن مسعود سے متعلق تھیں۔ مثلاً جوتا مبارک اٹھانا، مسواک کو اپنے اپنے پاس رکھنا، آپکے آگے چلنا، نہاتے وقت پردہ کرانا،خواب سے بیدار کرنا وغیر۔

(الاستیعاب)

ابتدائے اسلام میں جب اپنے اسلام کا اظہار نہایت مشکل تھا، آپ ؓ وہ پہلے مسلمان تھے جنہوں نے بیت اللہ شریف کے پاس کھڑے ہو کر مستانہ وار سورة الرحمٰن کی بآواز بلند تلاوت کی اور کفار مکہ کا ظلم برداشت کیا (ابن ہشام)

حضور اکرم نے فرمایا: قرآن مجید کو ان چار افراد سے حاصل کرو سب سے پہلے عبداللہ ابن مسعودؓ کا نام ذکر فرمایا: بعد ازاں ابی بن کعبؓ، سالم مولیٰؓ اور معاذ بن جبل ؓ کے اسمائے گرامی لئے۔ (بخاری و مسلم )

حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کے عادات و اطوار میں عبداللہ بن مسعودؓ سے مشابہت رکھنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ رسول اللہکے قریبی اصحابؓ کی نظر میں عبداللہ بن مسعودؓ درجات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں۔ (بخاری بتغیر الفاظ)

الاکمال فی اسماءالرجال میں ہے، رسول اللہ نے فرمایا: ”میں اپنی امت کے واسطے وہ پسند کرتا ہوں جو ابن مسعودؓ اس کے واسطے پسند کریں اور امت کے واسطے اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں جسے ابن مسعودؓ ناپسند کریں،، اس فرمان عظمت نشان کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا سب سے پہلا اجتہاد جو نظر آتا ہے وہ خلافت صدیق اکبرؓ کے بارے میں میں ہے۔ حضور اکرم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کے بارے میں ابن مسعودؓ نے ان خوبصورت الفاظ میں اجتہاد کیا کہ ”ہم اپنے دنیاوی معاملات کے لئے اسی شخصیت کو پسند کرتے ہیں جسے رسول اللہ نے ہمارے دینی امور کے لئے پسند فرمایا ہے۔،، یعنی جس ہستی کو حضور نے نماز کی امامت کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ اسی کو ہم خلافت کے لئے پسندکرتے ہیں۔

رسول اکرم کی دعاکی برکت سے آپ ؓصحابہ کے درمیان بڑے عالموں میں شمار کئے جاتے تھے۔ اللہ تعالی نے آپ ؓکو اس قدر علم کی دولت سے نوازا تھا کہ اس پر جتنا بھی رشک کیا جائے کم ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ خود بیان فرماتے ہیں کہ: قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ قرآن شریف کی ہر سورت کے بارے میں مجھے علم ہے کہ وہ کب نازل ہوئی۔ اور قرآن شریف کی ہر ہر آیت کے بارے میں مجھے علم ہے کہ وہ کب نازل ہوئی اور کس چیز کے متعلق نازل ہوئی۔ اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ اللہ کی کتاب کو جاننے والا ہے اور اونٹوں پر سفر کر کے اس کے پاس جانا ممکن ہوتا تو میں سفر کر کے اس کے پاس جاتا۔({ صحیح مسلم)

حضرت مسروقؒ کہتے ہیں کہ: ہم حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ کے پاس جاتے اور ان سے گفتگو کرتے۔ ابن نمیر کہتے ہیں : ایک دن ہم نے ان کے پاس حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو انہوں نے فر مایا کہ: تم نے مجھ سے اس شخص کا ذکر کیا ہے جس سے میں اس وقت سے بے پناہ محبت کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اللہ سے ایک حدیث سنی ہے۔ ({ صحیح مسلم)۔ آپ ؓکی عظمت اور شان کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ: حضرت علی ؓکرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فر مایا ک: اگر میں بغیر مشورہ کے کسی اور کو امیر بناتا تو اُمِ عبد کے بیٹے یعنی عبد اللہ بن مسعود ؓکو بناتا۔

رسول کریم کے بدترین دشمن ابوجہل کی گردن کاٹنے کا شرف بھی عبداللہ بن مسعود ؓ کو حاصل ہوا۔ دو ننھے بچے معاذؓ اور معوذؓ نے جب اپنی تلواروں سے ابوجہل کو گھائل کر دیا تو حضرت ابن مسعودؓ کا اس طرف سے گزر ہوا۔ حضرت ابن مسعودؓ کے پاس کارآمد تلوار نہ تھی۔ انہوں نے ابوجہل کی تلوار اٹھا لی۔ ابوجہل کی نظر ان پر پڑی تو وہ ان کے ارادے کو بھانپ گیا۔ اس نے کہا: اے حقیر بھیڑیں چرانے والے! تو نے مشکل کام کو ہاتھ ڈالا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ نے اس کے ساتھ ہی اس کی گردن کاٹ دی اور اس کا سر اور تلوار دونوں کو لا کر رسول کریم کے قدموں میں ڈال دیا۔ رسول اللہ نے وہ تلوار آپ ؓ ہی کو عنایت فرما دی۔

حضرت ابن مسعودؓ کا قد چھوٹا تھا، پنڈلیاں پتلی پتلی تھیں۔ ایک مرتبہ رسول اللہ نے انہیں درخت پر سے کوئی چیز اتارنے کا حکم دیا وہ درخت پر چڑھے ان کی باریک پنڈلیوں کو دیکھ کر صحابہ کرام ؓکی ہنسی چھوٹ گئی۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: ”تم کیا ہنستے ہو۔ عبداللہ کی ٹانگیں میزان (اللہ کے ترازو) میں اُحد پہاڑ سے زیادہ بھاری ہیں۔“ حضرت عمرؓ نے ایک روز ابن مسعودؓ کو بیٹھا دیکھا تو فرمایا: ”یہ علم و معرفت سے بھری چھاگل ہیں۔“

سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے۔ آپؓ نے کہا نبی کریم نے مجھ سے فرمایا : ذرا تو قرآن تو مجھ کو سنا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! بھلا آپ کو کیا سناو¿ں، آپ پر تو قرآن اترا ہی ہے(آپ سے بہتر کون پڑھ سکتا ہے)۔ آپ نے فرمایا نہیں سنا۔ میں نے سورة النساءشروع کی۔ جب اس آیت پر پہنچا فکیف اذا جئنا من کل امة بشھید آپ نے فرمایا بس کر بس۔ میں نے دیکھا تو آپ کی مبارک آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔(صحیح بخاری)

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : (ترجمہ ) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں ہے جو انہوں نے پرہیز گاری کے ساتھ کھایا ، (پوری آیت تک) تو رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا: مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو۔ (صحیح مسلم)

ابو الاحوص رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس وقت سیدنا ابن مسعود ؓ فوت ہوئے میں اس وقت سیدنا ابو موسیٰ ؓاور سیدنا ابو مسعود ؓ کے پاس گیا ، اس وقت ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا : کیا تمہارے خیال میں ابن مسعود ؓ کے بعد کوئی آدمی ان جیسا ہے؟ دوسرے نے کہا: اگر تم یہ پوچھتے ہو تو ان کی یہ شان تھی کہ جب تمہیں بارگاہ رسالت میں بار یابی نہیں ہوتی تھی تو سیدنا ابن مسعود ؓ کو اس وقت بھی اجازت ہوتی تھی اور جس وقت ہم غائب ہوتے تھے سیدنا ابن مسعودؓ اس وقت بھی حاضر ہوتے تھے۔(صحیح مسلم)

حضرت عمرؓ نے 20 ھ میں حضرت عمار بن یاسرؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ کو کوفہ بھیجا اور اہل کوفہ کو لکھا: میں نے عمار بن یاسرؓ کو امیر اور عبداللہ بن مسعودؓ کو معلم بنا کر تمہارے پاس بھیجا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں رسول اللہکے برگزیدہ اصحاب ؓاور اصحاب بدر میں سے ہیں۔ تم ان دونوں کی پیروی اور اطاعت کرو اور ان کے ارشادات عالیہ کو دھیان سے سنو۔ عبداللہ بن مسعود ؓکو تو میں نے اپنے نفس پر ایثار کر کے تمہارے پاس بھیجا ہے۔،،

یوں حضور اکرم کی بشارت پوری ہو گئی کہ ”تم خود علم سکھانے والے پیارے بچے ہو،، شقیق ابووائل بن ابی سلمہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ کے صحابہ کرامؓ کے حلقے میں بیٹھا ہوں۔ میں نے عبداللہ بن مسعودؓ کی بات سے انکار کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا اور نہ کسی صحابی ؓ نے آپؓ کا رد کیا۔ یعنی آپؓ فقاہت کے اس مقام پر فائز تھے کہ آپؓ کی رائے کے سامنے کسی صحابی ؓکو کبھی رائے پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ (طبقات ابن سعد)

یہی وہ مناقب و فضائل ہیں جن کے پیش نظر امام اعظم ابوحنیفہؒ نے اپنی فقہ کے سلسلے میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی پیروی کی ہے۔ آپ ؓ کے احوال مبارکہ ابن عبدالبر کی الاستیعاب، امام یافعی کی مرآة الجنان، ابن کثیر کی البدایہ و النہایہ ابن قیم کی اعلام الموقعین، ابن حجر کی الاصابہ اور صاحب مشکوٰة کی الاکمال میں ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں۔

32 ہجری میں مدینہ منورہ کی سر زمین پر آپ ؓکا وصال ہو ا۔ حضرت عثمان غنیؓنے نماز جنازہ پڑ ھائی۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت عمار بن یاسر ؓنے پڑھائی۔ وصال کے وقت آپ کی عمر مبارک 60 سال یا اس سے کچھ زیادہ تھی۔


ای پیپر