سعودی عرب میں خواتین سے چھیڑ چھاڑ کی روک تھام کیلئے نئی ہدایات جاری
11 دسمبر 2018 (17:21) 2018-12-11

ریاض:سعو دی حکومت نے دفاتر میں خواتین کے ساتھ چھیڑ خانی کیخلاف اہم سزائیں نافذ کر دیں اور دفاتر میں بہتر ماحول قائم رکھنے کیلئے ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے 

سعودی عرب کی وزارت محنت و سماجی بہبود کی طرف سے جاری کئے جانے والے ہدایت نامے کے مطابق دفتر میں کسی بھی شخص کو اخلاق باختہ بول چال یا حرکت اور اشارہ کرنا چھیڑ خانی کے دائرے میں شامل ہونگے۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بھی اس قسم کی حرکات چھیڑ خانی میں داخل سمجھی جائیں گی۔ ضابطہ اخلاق سرکاری اداروں کے مدیران اور اہلکاروں ہر ایک پر لاگو ہوگا۔

دفتر کے اندر یا باہر اوقات کار کے دوران مذکورہ عمل پر انسداد چھیڑ خانی قانون نافذ ہوگا۔ سرکاری اداروں پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام ملازمین کیلئے صحتمند اور محفوظ ماحول فراہم کریں۔دفاتر میں مردو زن کے درمیان اختلاط کی اجازت نہ دی جائے۔ سرکاری ملازمین پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ صنف نازک کا احترام کریں۔ نظریں نیچی رکھیں۔ 

ملازمت کے دائرے سے خارج نجی نوعیت کے امور نہ چھیڑیں۔ سنجیدگی، مزاح یا اہانت کسی بھی شکل میں اس قسم کی باتیں قابل قبول نہیں ہونگی۔ خواتین کو حجاب اور غیر شفاف ڈھیلے ڈھالے کپڑے استعمال کرنے اور مردوں کو رسمی لباس کی پابندی کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ متعلقہ ادارہ شکایت صحیح ثابت ہونے پر چھیڑ خانی کرنے والے کو سزا دینے کا مجاز ہوگا۔

سعودی وزیر محنت نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارا مقصد کام کے ماحول کو صاف شفاف اور محفوظ بنانا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام ملازم اور ملازمائیں ایک دوسرے کا احترام کریں۔ انسداد چھیڑ خانی قانون کی دفعہ 5 کا نفاذ پوری قوت سے ہو۔ یہ ایک طرح سے ملازماؤں کی بابت ضابطہ اخلاق کی حیثیت رکھتا ہے۔


ای پیپر