نادیہ مراد اور ڈاکٹر ڈینس کی جدوجہد کا منفرد باب
11 دسمبر 2018 (14:38) 2018-12-11

اوسلو:2018ء کے نوبل انعام برائے امن حاصل کرنے والے کانگو کے ڈاکٹر ڈینس اور عراقی سے نادیہ مراد کی زندگی کی جدوجہد ایک منفرد باب رکھتی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق نادیہ مراد نے عراق میں داعش کے ہاتھوں ایزدی خواتین کی بے حرمتی اور ظلم و تشدد پر آواز اٹھائی ۔

نادیہ مراد عراق میں داعش کے بعد ان کے چنگل سے بچ گئی تھیں نادیہ مراد ان 3 ہزار ایزدی خواتین کی بحالی کی مہم چلارہی ہیں جو عراق میں اب تک داعش کے قبضے میں ہیں اور وہ 3 لاکھ ایزدی پناہ گزینوں کو ان کے آبائی علاقے سنجار میں دوبارہ بسانے کے لئے کوشاں ہیں اور اس موضوع پرکتاب بھی لکھ چکی ہیں۔

ڈاکٹر ڈینس نے اپنے ملک میں خواتین کی بے حرمتی اور جبر اور اسے بطور ہتھیار جنگ میں استعمال کرنے کے خلاف بھرپور مہم چلائی ہے۔ ڈاکٹر ڈینس نے تشدد کی شکار ہزاروں خواتین کے علاج اور بحالی پر کام کیا۔

نوبل انعام حاصل کرنے والے کانگو کے ڈاکٹر ڈینس مک ویگے اور عراقی خاتون نادیہ مرادنے خواتین کے استحصال اور جنگوں میں زیادتیوں پر دنیا کی توجہ دلانے کے لئے جدوجہد کی ۔دونوں کو انعام میں ایک سند، تمغہ اور 5،5 لاکھ ڈالر دیئے گئے۔ 


ای پیپر