ہم نے کراچی میں گھر توڑنے کا حکم نہیں دیا : چیف جسٹس ثاقب نثار
11 دسمبر 2018 (12:52) 2018-12-11

کراچی : چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم نے گھر توڑنے کا حکم نہیں دیا ،ہمیں ہرحال میں قانون کی بالا دستی چاہیے، غیر قانونی عمارت اور قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے،تاثر دیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے صورتحال خراب کر دی، کیا قبضہ مافیا کے سامنے سر جھکا دیں، سندھ حکومت متاثرین کیلئے متبادل جگہ کا انتظام خود کرے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات کے خلاف آپریشن سے متعلق نظرثانی درخواستوں کی سماعت ہوئی ، ایڈووکیٹ جنرل ، اٹارنی جنرل اور میئر کراچی وسیم اختر عدالت میں پیش ہوئے.ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ تجاوزات آپریشن سے بڑے پیمانے پربیروزگاری میں اضافہ ہورہاہے، عدالت نے ایمپریس مارکیٹ اورملحقہ علاقوں کیلئے حکم دیاتھا، سندھ حکومت لوگوں کومتبادل جگہ فراہم کرنیکی کوشش کررہی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہا تھا پورے کراچی کیلئے ایمپریس مارکیٹ کوماڈل علاقہ بنایاجائے، یہ نہیں کہاتھاکہ کہیں اورآپریشن نہیں کرنا، تجاوزات تو ہٹ گئیں اب متبادل جگہ کا ایشو آئے گا، ،عدالت نے کہا حکم پر عمل ہوگیا ہے تو اب سندھ حکومت بتائے تجاوزات والوں کو کیا دیں گے۔

میئرکراچی کی عدم پیشی پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہاں ہیں میئرصاحب کہاں سے آرہے ہیں ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ راستے بند ہو نے کی وجہ سے دیرہوئی ہوگی، تو جسٹس ثاقب نثار نے کہا باقی بھی آکربیٹھے ہیں،انہیں نہیں معلوم تھاسپریم کورٹ آناہے؟میئرکراچی نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے ایمپریس مارکیٹ سے تجاوزات ختم کردی ہیں، جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا میئرکراچی نے بتایا رضاکارانہ طورپر تجاوزات ختم ہورہی ہیں، ہم نے اس وقت حکم نہیں دیاتھایہ کام میئرنے خودشروع کیاتھا، فٹ پاتھ اورسڑکیں کلیئرکرانے کا حکم واضح تھا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم امن وامان کی صورتحال کیلئے اس وقت بھی فکرمندتھے، ہم نے ایمپریس مارکیٹ کوماڈل بنانے کیلئے کہاتھا، ہم چاہتے ہیں سڑک پرچلنے والوں کو بھی حق ملے۔

جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا سپریم کورٹ نے کراچی میں امن وامان کی صورتحال کس نے خراب کردی؟ پیدل چلنے والی خواتین،بچوں کا حق نہیں کہ راستہ صاف ملے؟ ہماراکیاتعلق؟بحالی اورمتبادل جگہ دیناحکومت کاکام ہے، جسٹس فیصل عرب نے کہا فٹ پاتھ اورسڑک کلیئرکرانابھی میئرکی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ متبادل جگہ فراہم کرناہیتوسندھ حکومت اپنا فرض ادا کرے، تاثردیا جا رہا ہے سپریم کورٹ نے صورتحال خراب کر دی ، ہر فرد چاہتا ہے فٹ پاتھ اورسڑکوں کیاطراف تجاوزات ختم ہوں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانون پر عمل درآمد ہورہا ہے اور آپ کو اور وفاقی حکومت کو پریشانی لگ گئی ہے، آپ کو اندازہ نہیں میئر کراچی نے اپنا سیاسی مستقبل دا ؤ پر لگا دیا ہے، ہمیں ہرحال میں قانون کی بالادستی چاہیے۔ ہم کراچی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں مگر آپ لوگوں کی مصلحت آڑے آرہی ہے۔ ہمیں ہرحال میں قانون کی بالا دستی چاہیے۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ ہم کراچی والے ہیں ہم بھی بہتری چاہتے ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے مکالمہ کے دوران ریمارکس دیئے کہ کراچی میں بڑے مسائل ہیں، سرکاری مکانوں پر لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے، ہم نے خالی کرانے کا حکم دیا تو یہاں ہنگامہ شروع ہوگیا، گورنر صاحب نے کال کرکے کہا کہ یہاں امن و امان کی صورت حال خراب ہوگئی، کیا اس طرح غیر قانونی قابضین کو چھوڑدیں ؟، لوگ احتجاج شروع کردیں اور ہم ریاست کی رٹ ختم کردیں، کیا قبضہ مافیا کے سامنے سرجھکا دیں؟ کراچی کو اسی طرح چھوڑدیں ؟، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم کارروائی روک دیں گے تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ متاثرین کی بحالی اور متبادل جگہ کا انتظام حکومت خود کرے،ایڈوکیٹ جنرل نے استدعا کی کہ چار ہفتے کا وقت دے دیں مسئلے کا حل نکالیں گے۔

میئر کراچی نے کہا کہ ہم عمل درآمد کررہے ہیں بس گھروں کو نہ توڑا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے گھروں کو توڑنے کا حکم تو نہیں دیا ، آپ خود کررہے ہیں تو ہمارا مسئلہ نہیں ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہم نے دیکھا تھا نالے پر عمارت بنی ہوئی ہے، اس کا کیا ہوا؟، ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ نہرِ خیام پر ایک عمارت بنی ہوئی ہے۔

 میئر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ باغ ابنِ قاسم میں ایک عمارت ہے، وہاں مسلح لوگ بیٹھے ہیں اور شاید معاملہ ہائی کورٹ میں ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میئر صاحب آپ کو کسی نے نہیں روکا کام جاری رکھیں، کون ہے قبضہ کرنے والا بتائیں ، ابھی ہائی کورٹ سے فائل منگواتے ہیں، اچھی طرح سن لیں غیر قانونی عمارت اور قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔


ای پیپر