وزیراعظم ،کابینہ اور کرپشن !
11 دسمبر 2018 2018-12-11

پچھلے دوتین کالم میں نے غیرسیاسی موضوعات پر لکھے، سیاسی کالم نہ لکھنے کی کوشش میں کچھ ایسے موضوعات پر لکھنا پڑ رہا ہے جو میرے مزاج کے مطابق نہیں، نہ ہی قارئین کے مزاج کے مطابق ہیں، قارئین سیاسی کالمز زیادہ پسند کرتے ہیں، کسی سیاسی موضوع پر کالم لکھ کر میں اپنی ”فیس بک وال“ پر پوسٹ کروں اس پر سینکڑوں کمنٹس اور لائیکس آتے ہیں، اور کسی اخلاقی، فلاحی، حتیٰ کہ مذہبی موضوع پر لکھ کر پوسٹ کروں یوں محسوس ہوتا ہے آج فیس بک کا ”ناغہ“ ہے، ویسے میں سوچ رہا تھا گوشت کے ناغے کی طرح فیس بک کا بھی ایک ”ناغہ“ ہونا چاہیے، تاکہ اس روز ہم اپنے والدین ، بہن بھائیوں، بیوی بچوں اور عزیزوں کو وقت دیں، کچھ لمحات ان کے ساتھ گزاریں، اور وہ بھی کچھ لمحات ہمارے ساتھ گزاریں، کیونکہ یہ ”آگ ‘، دونوں طرف برابر لگی ہوتی ہے .... فیس بک کی دنیا بڑی عجیب وغریب ہے، یہ ایسا ہاتھی ہے جس کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں۔ میرے خیال میں اس کا نام بدل کر اب ”فیک بک“ رکھ دینا چاہیے،.... بہرحال یہ میرا آج کا موضوع نہیں ہے، مگر اس دلچسپ موضوع پر میں بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں، ....سیاسی موضوعات پر آج کل نہ لکھنے کی ایک وجہ وہ ”بندش“ ہے جو میرے محترم سہیل وڑائچ نے اس نصیحت کے ساتھ مجھ پر لگائی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ چونکہ تمہارا ذاتی تعلق ہے اس لیے فی الحال ان کے کسی عمل یا پالیسی پر تمہارا لکھنا نہیں بنتا “ ....سو اپنے اندر کے ”پاگل“ کو بڑی مشکل سے میں نے قابو کیا ہوا ہے، البتہ یوں محسوس ہوتا ہے جناب سہیل وڑائچ کی جانب سے مجھ پر لگائی جانے والی اس ”پابندی“ کی معیاد جلد ختم ہوجائے گی، اور اس کے بعد وہ اس میں ”ایکسٹینشن “ کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے،.... سیاسی موضوعات پر نہ لکھنے کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے ایک بڑا موضوع جو ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا ہے وہ سابق حکمرانوں کی کرپشن تھا، اس پر اتنا لکھا ہے اب جبکہ وہ اقتدار میں نہیں رہے اور اس وجہ سے ان کی کرپشن بھی فی الحال رکی ہوئی ہے تو اس پر مزید کچھ لکھنا کم ازکم مجھے کچھ عجیب سا لگتا ہے ،....کچھ لوگوں کا خیال ہے انہوں نے کرپشن کی ہے اس کی سزا بھی انہیں ملنی چاہیے جو صرف اسی صورت میں مل سکتی ہے لوٹی ہوئی دولت ان سے واپس لی جائے ۔ایسے ہی ان کے ساتھی بھی ہیں، اگلے روز ان کے ایک ساتھی سے ایک انٹرویو میں کسی نے پوچھا ” سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پی ٹی وی سے ناجائز طورپر کمائی ہوئی دولت واپس قومی خزانے میں جمع کروادیں گے؟“.... موصوف نے فرمایا ” میں اپیل کروں گا “ ....اس ”اپیل کے نتیجے میں ہوسکتا ہے ان کی دولت بچ جائے، عزت پہلے ہی چلی گئی ہے۔ اور عزت کی اب یہاں کسی کو پرواہی کیا ہے ؟ وہ فرمارہے تھے ”لوگ اب بھی میرے ساتھ سیلفیاں اور تصویریں بنواتے ہیں“....سیلفیاں اور تصویریں تو لوگ ”شفقت چیمے“ کے ساتھ بھی بہت بنواتے ہیں۔ ہمارے ہاں سیلفیاں اور تصویریں وغیرہ بنوانے کے لیے کسی کا عزت دار یا دیانتدار ہونا ضروری نہیں ہوتا، بس مشہور ہونا ضروری ہونا ہے چاہے وہ کسی ”مجرم“ کے طورپر ہی کیوں نہ ہوجائے .... بہرحال وزیراعظم عمران خان کا بس چلے لوٹا ہوا مال وزر لوگوں سے راتوں رات واپس چھین لیں۔ ان کا بس چلے کرپشن کی سزاموت کا قانون بھی لے آئے۔ مجھے ان کی نیک نیتی اور ارادوں کا ذاتی طورپر علم ہے، مگر ظاہر ہے سب کچھ ان کے بس میں نہیں ہے اور اس وجہ سے ان کی اپنی ٹیم کے کچھ ارکان بھی بہت خوش ہیں کہ سب کچھ وزیراعظم کے بس میں نہیں ہے، اب کچھ وزراءکے محکمے بدلنے کی افواہیں بھی گرم ہیں، میرے خیال میں کچھ وزیروں کے محکمے نہیں خود وزیروں کو بدلنا چاہیے جوکہ وہ اس لیے خود کو نہیں بدلیں گے کہ فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوتی، چاہے کوئی مشرف، پیپلزپارٹی اور نون لیگ کو عارضی طورپر خیرباد کہہ کر پی ٹی آئی ہی کیوں نہ جائن کرلے۔.... وزیراعظم عمران

خان کی آدھی سے زیادہ کابینہ بلکہ ” کمینہ “ مشرف، شریف، اور زرداری کے ساتھیوں پر مشتمل ہے ،میں ذاتی طورپر جانتا ہوں کئی وزراءاپنی سابقہ جماعتوں کے سربراہان کے ساتھ اب بھی رابطے میں ہیں، ایسی صورت میں وہ ایک دیانتدار اور نیک نیت وزیراعظم یا اس کی سوچ اور وژن کا ساتھ کیونکر دیں گے؟“.... وہ تو ایک خصوصی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے خان صاحب کے ساتھ کھڑے ہیں، بلکہ ان کے ”گٹے گوڈوں“میں بیٹھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مجھے کبھی کبھی خان صاحب پر ترس آتا ہے، ان کا اتنا بس بھی نہیں چلا اپنی کابینہ اپنی مرضی سے وہ تشکیل دے لیتے، نہ ان کا بس چل رہا ہے سابقہ کرپٹ حکمرانوں کو کیفر کردار تک پہنچا سکیں، ....عدالتیں اور نیب وغیرہ براہ راست ان کے ماتحت ہوتے مجھے یقین ہے ایسی صورت میں سارے چور اُچکے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوتے جن میں ان کی اپنی جماعت کے بھی ہوتے، ان کا بس چلتا ” جھوٹوں کے نانے“ شیدے ٹلی کو بھی وزیر نہ بناتے، کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے سچ بولنے کی خصوصیت خان صاحب سے دور ہوتی جارہی ہے اور یہ شیخ رشید احمد کی نزدیکی کا نتیجہ ہے۔ اگلے روز وہ فرمارہے تھے ”کل وزیراعظم عمران خان سے میری چار میٹنگیں ہوئی ہیں“ .... اس کا مطلب ہے وزیراعظم کل بھی ڈھنگ کا کوئی کام نہیں کرسکے۔.... کچھ شیخ صاحبان کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ بہت کنجوس ہوتے ہیں، کوئی ”شیخ“ وزیر بن جائے تو سب سے زیادہ کنجوس وہ سچ بولنے کے معاملے میں ہوتا ہے، اب مارے مروت کے ہمارے محترم وزیراعظم یہ بھی نہیں کہہ سکتے ”کل شیخ رشید احمد سے میری چار کیا ایک میٹنگ بھی نہیں ہوئی“،.... وزیراعظم اتنے ویلے تو نہیں ہیں وفاقی کابینہ کے ”کوڑے کرکٹ“ سے ایک دن میں چار چار میٹنگیں کریں، .... البتہ اپنی جماعت کے ان مخلص رہنماﺅں، ارکان اسمبلی اور دیگر افراد سے دن میں دس دس میٹنگیں کرنے کی ضرورت ہے جو کسی عہدے کے طلب گار نہیں، بس یہ ہے کہ خان صاحب کو صحیح مشورے دینے اور ان کے کچھ غلط اقدامات پر ان کے منہ پر کھل کر تنقید کرنے کے امیدوار ہیں، خان صاحب کو چاہیے جنم جنم کے خوشامدیوں سے ذرا پرے ہوکر ان کی بھی سن لیں۔ اس سے ان کا بھلا ہی ہوگا !!


ای پیپر