کیاسقراط کا فلسفہ ایک خاتون سے متاثرہوکر تخلیق ہوا؟
11 اگست 2020 (21:17) 2020-08-11

ماضی کے مغربی مصوروں نے جس طرح  فلیس (Phyllis)نامی خاتون کو ارسطو کے اعصاب پر سواردکھایاہے اسی طرح زمانہ حال میں سقراط کی نیک نامی کے پس پردہ بھی ایک خاتون کا نقش تلاش کیاگیاہے ۔ آکسفورڈ یونی ورسٹی کے جیزز کالج میں کلاسکس کے پروفیسرڈاکٹر ایرمنڈ ڈی اینگور(Dr Armand D'Angour)نے سقراط کی زندگی کے تشکیلی دور پر ایک کتاب لکھی ہے جس میں دکھایاہے کہ سقراط اوائل شباب میں ایک خاتون سے متاثرہواتھا۔  Socrates in Love Making of A Philosopher  کے عنوان سے لکھی جانے والی اس کتاب میں سقراط اور ایتھنزکی ایک ترک نژادخاتون ایس فیزیا (Aspasia) کے درمیان رومانی تعلق کی داستان تخلیق کی گئی ہے ۔یہی نہیںایک جاپانی مصنف کاتایاما کیوای چی (پ:۵؍جنوری ۱۹۵۹ء) Kyoichi Katayamaنے بھی  Socrates in Love ہی کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ۔یہ دراصل ایک رومانی ناول ہے ،جس پر جاپان میں ٹی وی ڈرامابھی بنااور فلم بھی ۔۲۰۰۸ء میں اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہوا ۔یہ جاپان کی فیشن ایبل مارکیٹ کی مقبو ل کتاب ثابت ہوئی اور اب تک اس کے تین ملین نسخے فروخت ہوچکے ہیں۔ مغربی فلسفے کی تاریخ کو ایک خاتون کی طرف منسوب کرنے کی مساعی قارئین کو چونکاتی اور ماضی کو کچھ جدید تصوارت سے ہم آہنگ ضرورکرتی ہیں لیکن تنقیدی نگاہ سے دیکھاجائے توڈاکٹراینگورکے قیاسات کی بنیاد افلاطون کے مکالمے’’ سمپوزیم‘‘ کے چندجملوںاورفرانسیسی مصوروں کی بنائی ہوئی سقراط  اورAspasiaکی تصاویرپرہے ۔ اس سلسلے میںغالباً فرانسیسی مصور و مجسمہ ساز ژان لیو جیرومJean Leon Gerome (۱۸۲۴ء…۱۹۰۴ء)کی بنائی ہوئی تصاویرنے انھیں متاثرکیاہے ۔میری دانست میں کسی بھی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے اس کے مجموعی فکرو کردارکو دیکھناچاہیے ۔سقراط کی فکر اور کردار اس امرکی تائیدکرتے دکھائی نہیں دیتے کہ اس کے افکار کی بنیادایس فیزیا یا اس کے خیالات تھے، ڈاکٹر اینگور ایک لوسٹوری بناکر ایس فیزیا کو سقراط کی محبوبہ ثابت کرناچاہتے ہیں جب کہ اس خاتون کے اخلاقی کردارپر بہت سے سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں ۔ڈاکٹر اینگور کاکہناہے کہ ہمارے سامنے سقراط کی وہ تصویرہے جو افلاطون نے اپنے مکالمات میں پیش کی ہے،یہ ایک بوڑھے شخص کی تصویرہے یہ بوڑھا شخص کبھی نوجوان بھی تھا ۔

میںنے ڈاکٹر اینگورکے خیالات جاننے کے بعد انھیں ایک ای میل کے ذریعے اپنے ردِعمل سے آگاہ کیا اور لکھاکہ مجھے یوں محسوس ہوتاہے کہ آپ ژان لیو جیروم کی بنائی ہوئی تصاویرسے متاثرہوئے ہیں ۔اس کے علاوہ بھی مجھے آپ کی رائے کو تسلیم کرنے میں کچھ تحفظات ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ سارے کا سارا مغربی فلسفہ صدیوں تک ایک غلط بنیادپرکھڑارہاہواور یہ کہ سقراط نے بیس سال کی عمرمیں ایسی فیزیاسے اتناکچھ سیکھ لیاتھا جسے وہ ساری عمر دنیاکے سامنے اپنے خیالات کے طور پر پیش کرتارہا، جب کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ایسی فیزیا ایک معروف یونانی خطیب،سیاستدان اور فوجی پیری کلیز Pericles, کے ساتھ ۴۴۵ ق م میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوچکی تھی۔ اگرایس فیزیا واقعی اتنا بڑادماغ تھی تو دنیا ڈھائی ہزارسال تک اس کی دانش اور فکرسے بے خبرکیوںرہی؟مزیدیہ کہ سقراط کاکردار اور اس کی جانب سے موت کی سزاکو قبول کرلینا اس کے اخلاقی معیاروں کی جس پختگی اور گہرائی کی نشان دہی کرتاہے وہ مستعارنہیں ہوسکتے۔مناسب ہواگر ای میل کا متن قارئین کی عدالت میں بھی پیش کردیاجائے:

Dear Dr. Armand  D' Angour

During a study on Socrates as a phenomenal philosopher, I have read multiple books on the topic and visited Greece for thorough research. In my pursuit, I stumbled upon your work titled "Socrates in Love__". I have a feeling that you have formed your opinion on Socrates based on Jean Leon Gerome's paintings.

  However, I have a few reservations when it comes to taking your conclusion in stride: Is it really possible that the entire basis of Western philosophy has been formed on the wrong person? Besides, were the things that Socrates allegedly learnt from Aspasia, at the age of twenty, enough to supply him with material for the rest of his life? Knowingly that Aspasia was married with a prominent and influential Greek orator general and statesman Pericles, in 445 BC. If Aspasia was actually the source of his intellect and ideas, why didn't the world see anything remarkable in her through 2500 years, before you mentioned it - because, undoubtedly, if someone is remarkable, they can't possibly go unacknowledged for centuries? Moreover, Socrates's actions reflect his morals and one can't possibly adopt projected morals; accepting his death sentence, as it was, was a strong indicator of the strength and depth of his morals.

            As a student, I would love it if you would be so kind as to share with me the sources other than Symposium and Gerome's paintings, for your view.

Yours gratefully,

Prof. Dr. Zahid Munir Amir

Chairman

Department of Urdu Language & Literature,

Oriental College, University of the Punjab,Lahore-Pakistan.

میرے اس تبصرے کے جواب میں ڈاکٹر اینگورنے اس بات سے انکارکیا کہ وہ جیروم کی بنائی ہوئی تصاویرسے متاثرہوئے ہیں اور یہ کہاکہ ان کے پیش نظر ایک درجن کے قریب مآخذرہے ہیں جنھیں ان کی کتاب میں دیکھاجاسکتاہے ۔میرے ملاحظات کے جواب میں ان کی جانب سے ۲۷؍اپریل ۲۰۲۰ء کو آنے والی یہ ای میل اس ایک بات کے علاوہ باقی تمام پہلووں کے بارے میں خاموش ہے ۔ان کی اس خاموشی سے مجھے اپنے ہاں لکھی جانے والی دوکتابیں  شبلی کی رنگین زندگی اور شبلی کی حیات معاشقہ  یاد آ گئیں۔ اول الذکر محمدامین زبیری نے اور موخرالذکر ڈاکٹر وحیدقریشی نے لکھی تھیں۔ ان کتابوں میں شبلی کی علمی عظمت کو تسلیم کرنے کے بجائے ان کی شخصیت کے انہدام کا جذبہ کارفرماتھا۔

سقراط ہویاکوئی اور نظربہ ظاہر یہ بات اپیل کرتی ہے کہ انسانی زندگی ہمیشہ ایک ہی سطح پر نہیں رہتی، بوڑھا سقراط کبھی جوان بھی تھالیکن داخلی شہادت یہ کہتی ہے کہ سقراط نے عمربھر اپنے خیالات کی بنیاد ایک غیبی آوازکو قراردیا۔یہ غیبی آوازکیاتھی؟ اس کے بارے میں تیقن سے توکچھ کہنا مشکل ہے تاہم سقراط کے افکار میں نوریزدانی کی موجودگی، یونانی خدائوں کے انکار اور ایک بزرگ و برترخداکی پرستش، اس کے کردار میں بے غرضی کا عنصر ،لوگوں کے نفوس کا تزکیہ کرنے کی خواہش اور کوشش، سچائی کی قیمت اداکرنے کا جذبہ اور اس پر عمل کا نمونہ دکھا دینا، شرک کی مخالفت اورتوحیدکا اقرار، آثارِ کائنات کا مطالعہ اور ان سے توحیدکا اثبات، اس کے کلام کی حیران کن اثرپذیری،اس کے کردار کی اصالت واثابت پر اس کے رفقاکی شہادت ،اس کے ہاں آخرت کے تصور کی موجودگی اور آخرت کی جواب دہی کا ا حساس، سچائی کو خیرقراردینے کا رویہ ،تضادات سے کائنات کی حقیقت دریافت کرنے کاعمل ،اس کے رفقااورمکالمات سے ملنے والا بالاترطاقت سے اس کے رابطے کاثبوت …یہ سب کچھ ایسانہیں ہے کہ سقراط کوکوئی عام انسان سمجھاجائے …کیایہ سب کچھ نوجوانی کے زمانے میں ملنے والی کسی ایسی خاتون سے جس کا اپنا کردارمشکوک ہو، سنی ہوئی باتوں کا نتیجہ ہوسکتاہے ؟دل اس بات کو ماننے کے لیے تیارنہیں ۔ جی چاہتاہے کہ اینگور صاحب کی تحقیق پران کی خدمت میں یہ شعرپیش کیاجائے …

کارپاکاں را قیاس ازخودمگیر

گرچہ مانددرنوشتن شیروشیر


ای پیپر