ایران وسعودیہ محاذآرائی کا اہم موڑ
11 اگست 2020 (21:16) 2020-08-11

ایران کے بارے میںامریکہ،یورپ اور مشرقِ وسطیٰ ایک پیج پر نہیں بلکہ منقسم ہیں امریکہ کی طرف سے ایرانی ایٹمی پروگرام کے معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ سعودی عرب اہم اتحادی ہونے کے ساتھ اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدتا ہے اِس لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کے بارے میں دھمکی آمیز لہجہ سمجھ آتا ہے مگر یورپ اب بھی ایرانی ایٹمی پروگرام کے معاہدے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں حالانکہ سعودی سفارتکار خاصے متحرک ہیںلیکن باوجود کوشش کے مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے کیونکہ ایران کے توانائی کے ذخائر پر مغرب کی نظر ہے اور کئی یورپی کمپنیوں نے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے پھر بھی امریکہ کی کوششوں سے ایران کی تیل کی برآمدات میں کمی آئی ہے جو 2018  میں4ملین بیرل یومیہ سے کم ہوکر رواں برس کے دوران 2.5کی سطح پر آگئی ہیں جس سے ایران کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئیں لیکن خطے میں ایران کی اہمیت کم نہیں ہوئی کئی ممالک  پابندیوں کے باوجودمنافع کے حصول کے لیے تہران کی طرف قدم بڑھانے کو بے تاب ہیں بے تاب ممالک کو ایران نے بھی گلے لگانے سے کبھی دیر نہیں کی۔

  ایران اور سعودیہ محاذ آرائی میں ایک نیا اہم موڑ چین کی چارسوارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری ہے جس سے سعودی عرب پریشان ہے چین کی بھاری سرمایہ کاری کے عوض ایران اگلے پچیس برس تک چین کو وافر اورسستا تیل فراہم کر ے گا اِس معاہدے سے بھارت کی ایرانی معیشت میں دخل اندازی بھی متاثر ہوئی ہے کیونکہ ایران نے اپنا وزن چین کے پلڑے میں ڈال دیا ہے ایرانی تیل کے تیسرے بڑے خریدار بھارت نے امریکہ اور سعودی عرب کے دبائو پر ایرانی تیل خریدنا بندکر دیا جس نے ایران کی معیشت پر بُرا اثرپڑالیکن امریکہ کو راضی کرنے کی پالیسی بھارت کو بہت مہنگی پڑی ہے ایران نے چاہ بہار بندرگاہ کے علاوہ زاہدان ریلوے لائن معاہدے سے بھی اُسے نکال دیا ہے حالانکہ 2016  میں نریندرمودی نے ایرانی صدر حسن روحانی اور افغان صدر اشرف غنی سے چار سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے سہ فریقی معاہدے پر دستخط کیے اور زاہدان ریلوے لائن منصوبہ 2022تک پایہ تکمیل تک پہنچانے کا وعدہ کیا تھا جسے ماہرین پاک چین اقتصادی راہداری کا متبادل قرار دے رہے تھے مگر چار برس گزرنے کے باوجود اِس منصوبے پر امریکی دبائو کی وجہ سے کام شروع کرنے کی نوبت نہیں آسکی چین کی ایران پر ہونے والی نوازشات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُسے امریکہ کو چڑانے میں مزہ آتا ہے اورچین عالمی سطح پر ایک نئے، پُرجوش اور متحرک کھلاڑی کے طور پر کردارادا کرنے کا خواہشمندہے حیران کن بات یہ ہے کہ عالمی بساط کا کوئی کھلاڑی اتنی سکت نہیں رکھتا کہ وہ چینی معیشت کا مقابلہ کر سکے۔

 امریکہ و چین تجارت میں دنیا کی واحد سپر طاقت ڈھیر ہوتی جارہی ہے عالمی معاشی سرگرمیوں کا چالیس فیصدانحصار مذکورہ دونوں ممالک پر ہے چین کی امریکہ کو برآمدات 493ارب ڈالر جبکہ امریکہ کی چین کو برآمدات 177ارب ڈالر ہیںاِس تجارتی جنگ میں چین کو تین سو سولہ ارب ڈالر کاغلبہ حاصل ہے چین کی سرمایہ کار ی سے ایران نہ صرف امریکہ اور یورپ سے بے نیاز ہو جائے گا یہ سرمایہ کاری سعودی عرب کے لیے اہم موڑ اورسفارتی ہزیمت ہے قطر کی معاشی سرگرمیاں روکنے کی غیر دانشمندانہ حکمتِ عملی سے ایران کوپیش قدمی کا موقعہ ملاوراُس نے جھٹ قطر کو گلے لگالیا اب چین کی طرف سے ایران کی معاشی سرپرستی سے خطے میں چین ،پاکستان،روس اور ترکی پر مشتمل متوقع ایک نئے مضبوط بلاک میںایران کی شمولیت نوشتہ دیوار ہے جو سعودی عرب اور بھارت کے علاوہ امریکی رسوخ پرکاری ضرب لگا سکتا ہے۔  

چین کو سعودی عرب سے کوئی گلہ یا رنجش نہیں بلکہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں بھی سرمایہ کاری بڑھانا چاہتا ہے تاکہ امریکی اثر کا خاتمہ کرنے کے لیے مشرقی ایشیا اور افریقہ میں اثر ورسوخ میں اضافہ کر سکے امریکہ اور سعودی عرب کے لیے ایران و چین کے دفاعی شراکت داری ڈرئواناخواب ہے تجارت ،سیاست ،ثقافت اور سلامتی کے شعبوں میں دونوں ممالک کی یکساں سوچ ایسی علاقائی تبدیلی ہے جس کے اثرات داخلی ،علاقائی اور عالمی سطح پر ہو سکتے ہیں جس سے دونوں ممالک کی اہمیت اورطاقت میں اضافہ ہوگا اب سعودیہ کیا حکمتِ عملی اپناتا ہے ؟سمجھنا کوئی دشوار نہیں کیونکہ اُس کے پاس کچھ زیادہ آپشن نہیں رہے ایران کے خلاف فوجی مُہم جوئی کے وہ قابل نہیں البتہ واشنگٹن کی چالوں کا آلہ کاربن کر چین و ایران کے خلاف کام کر سکتا ہے لیکن اِن چالوں کے اثرات بہت محدود ہونگے ثانیاََ آبرو مندانہ فیصلہ یہ ہے کہ محاذآرائی کی روش چھوڑ کر تعاون کی راہ تلاش کرے مگر سعودی شاہوں کے مزاج آشنا 

محاذ آرائی ترک کرنے کوغیرممکن قراردیتے ہیں اور خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ چین وایران معاہدے کے بعد سعودی عرب اپنا وزن امریکی پلڑے میں ڈال کر خطے میں اہم بنناپسندکرے گاجب کہ ایران بدلے حالات میں سعودی عرب پر دبائو بڑھانے کی کوشش کرے گا جوہری توانائی کی بین الاقوامی تنظیم (آئی اے ای اے)پر ایران نے زور دیا ہے کہ سعودی عرب کے خفیہ ایٹمی پروگرام کی تحقیقات کی جائیں عالمی تنظیموں میں ایران کے سفیر اور مستقل مندوب کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ سعودیہ جوہری توانائی کو پُرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا اگر خواہشمند ہے تو عالمی ادارے آئی اے ای اے کی شرائط مانیٹرنگ سے راہ فراراختیار نہ کرے ایران کے لہجے میں یہ اعتماد حالیہ چند ماہ سے عود کر آیا ہے چین ایران معاہدے نے سعودیہ کو ایک ایسی مشکل میں ڈال دیا ہے جس سے نکلنے کی راہیں کافی دشوار ہیں۔

خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) اور او آئی سی ایسے ہتھیار ہیں جواسلامی ممالک میں سعودی عرب کو اہم اور بالاتر حیثیت دلانے کا باعث رہے ہیں لیکن کشمیر پر بھارت کی طرفداری نے واحد اسلامی طاقت پاکستان کو سعودیہ سے متنفر کر دیا ہے ملائشیا اور ترکی اِس حوالے سے پاکستان کے ہم خیال ہیں اِس لیے اوآئی سی کے پلیٹ فارم  سے مستقبل میں سعودی عرب کی ایما پر ایران کے خلاف فیصلے کا امکان نہیں رہاکیونکہ اِس تنظیم میں تمام فیصلے اتفاقِ رائے سے ہوتے ہیں اِس لیے فوجی حوالے سے طاقتور اسلامی ممالک پاکستان،ترکی اور ملائشیا کسی ایک فریق کے پلڑے میں وزن ڈالنے کی بجائے اتحاد واتفاق کے نکتے پر لانے بصورت دیگر غیر جانبدار رہنے کی کوشش کریں گے جی سی سی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نائف الحجرف نے سلامتی کونسل کے نام بھیجے گئے مکتوب میں ایران پر خطے میں ہتھیار پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسلحہ پر پابندی میں تو سیع کا مطالبہ کیا ہے لیکن چین و ایران دفاعی شراکت داری کے معاہدے کے تناظر میں ایران کو کسی اور طرف دیکھنے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ بھاری سرمایہ کاری کے عوض تیل کی وافر برآمدات کے لیے مارکیٹ کی دستیابی اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے مطلوبہ وسائل ملنے کے بعد ایران بہت حد تک بے نیاز ہو گیا ہے چین سے شراکت داری کے معاہدے کا مزید اہم پہلو یہ ہے کہ یو این او میں اب ایرانی مفاد کاتحفظ ویٹوپاور کا حامل ملک کرے گا ایران و سعودیہ محاذآرائی کا اہم موڑ سعودی عرب کی پوزیشن کمزور کرنے کا باعث بن سکتا ہے اگر دونوں ممالک محاذآرائی چھوڑ کر تعاون کی راہ اپنا لیں تو مسلم امہ کی کھوئی عظمت نہ صرف بحال ہو سکتی ہے بلکہ کسی دشمن ملک کوکسی اسلامی ریاست پرچڑھائی کا موقع بھی نہیں ملے گا۔


ای پیپر