لوٹادو وہ بچپن کا ساون…
11 اگست 2020 (21:15) 2020-08-11

دوستو،آج کالم کا جو عنوان ہے، ہمارے لئے بہت یادگار ہے۔۔ زمانہ طالب علمی تھا،شاید انٹریا میٹرک میں زیرتعلیم تھا، اس زمانے میں لاہور سے شائع ہونے ایک مزاحیہ ماہنامہ کا باقاعدہ قاری تھا، اس ماہنامے نے انیس سو اٹھاسی یا انیس سو نوے میں اپنے لکھاریوں کے درمیان ایک مقابلہ کرایا۔۔دل پھینک نمبر کے نام سے خصوصی ایڈیشن کا اعلان کیا اور لکھاریوں کو دعوت دی کہ اس موضوع پر لکھیں اور انعامات کا لالچ بھی دیا گیا۔۔ چونکہ بچپن سے دل پھینک تو نہیں کچھ کچھ نیک تھے، اس لئے دل تو بہت چاہ رہا تھا کہ مقابلے میں حصہ لیں لیکن پرابلم یہ سامنے آرہی تھی کہ دل پھینک تو ہیں نہیں پھر لکھیں گے کیا۔۔ خیر پکاارادہ کرلیا کہ کچھ نہ کچھ تو لکھنا ہے۔۔کاغذکا دستہ اور قلم لے کر بیٹھ گئے۔۔جو دماغ میںآتا گیا لکھتے گئے، لکھتے گئے، لکھتے گئے۔۔ اگلی صبح اسے لفافے میں ڈال کر لاہور روانہ کردیا۔۔ اور بے چینی سے انتظار کرنا شروع کردیا کہ جلدی سے رسالہ مارکیٹ میں آجائے، گویا انہیں صرف ہماری ہی تحریر کاانتظار تھا۔۔

خیر اگلے ماہ اپنے ٹائم پر وہ رسالہ مارکیٹ میں آگیا۔۔ کہانیوں کے عنوانات میں اپنی بھیجی گئی کہانی کا عنوان دیکھا تو فہرست سے غائب پایا، دل کو شاک لگا ، پھر ڈھٹائی غالب آگئی۔۔چلو کوئی گل نہیں۔۔رسالہ پڑھ لیتے ہیں، دیکھتے ہیں کس نے کیا لکھا ہے۔۔شروع سے شروعات کی۔۔ اچانک دو،تین کہانیوں کے بعد ہماری کہانی شروع ہوگئی۔۔ اب تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔۔ ہمارے لئے یہ سب سے بڑا اعزاز تھا کہ زندگی کی پہلی مزاحیہ کہانی لکھی اور وہ اپنے وقت کے نامی گرامی رائٹرز کی تحریروں کے درمیان شائع بھی ہوگئی۔۔ایڈیٹر صاحب نہ ہماری کہانی کا عنوان یہی رکھا۔۔جو آج ہمارے کالم کا عنوان ہے۔۔ رسالے کے آخری صفحہ پر ایک کوپن بھی دیاگیا تھا جس میں بتانا تھا کہ آپ کو اس رسالے میں سب سے زیادہ مزاحیہ کہانی کس کی لگی۔۔ ہم نے معروف مصنف فاروق انجم کی تحریر کے حق میں ووٹ ڈالا اور کوپن لاہور بھیج دیا۔۔ اگلے ماہ جب نتائج سامنے آئے تو پہلا انعام بھی ہماری کہانی کو ملا تھا۔۔ بس اس کے بعد تو اتنا حوصلہ بڑھا کہ آج تک مزاح سے دامن نہ چھڑا سکے۔۔ اور مزاح بھی اکثر ہمیں یہی کہتا ہے۔۔نہ چھڑا سکو گے دامن۔۔

اردوادب کے نامور مزاح نگار کنہیا لعل کپور جی نے بچپن کے حوالے کیا خوب تحریر لکھی ہے۔۔ہمارا دعوی ہے کہ اکثریت کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوتا ہوگا۔۔ بچپن میں سب ایک ہی سوال کرتے تھے کہ بڑے ہوکر کیا بنوگے،اور اب کوئی پوچھتا ہے تو صرف اتنا ہی کہتا ہوں، مجھے میرا بچپن لوٹادو۔۔۔ کنہیا جی  فرماتے ہیں۔

میں ایک چھوٹا سا لڑکا ہوں۔ ایک بہت بڑے گھر میں رہتا ہوں۔ زندگی کے دن کاٹتا ہوں۔ چونکہ سب سے چھوٹا ہوں اس لیے گھر میں سب میرے بزرگ کہلاتے ہیں۔ یہ سب مجھ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔ انھیں چاہے اپنی صحت کا خیال نہ رہے ، میری صحت کا خیال ضرور ستاتا ہے۔ دادا جی کو ہی لیجیے۔ یہ مجھے گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتے کیونکہ باہر گرمی یا برف پڑ رہی ہے۔ بارش ہو رہی ہے یا درختوں کے پتے جھڑ رہے ہیں۔ کیا معلوم کوئی پتّہ میرے سر پر تڑاخ سے لگے اور میری کھوپڑی پھوٹ جائے۔ ان کے خیال میں گھر اچھا خاصا قید خانہ ہونا چاہیے۔ ان کا بس چلے تو ہر ایک گھر کو جس میں بچے ہوتے ہیں سنٹرل جیل میں تبدیل کرکے رکھ دیں۔ وہ فرماتے ہیں بچوں کو بزرگوں کی خدمت کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے وہ ہر وقت مجھ سے چلم بھرواتے یا پاؤں دبواتے رہتے ہیں۔ دادی جی بہت اچھی ہیں۔ پوپلا منہ ، چہرے پر بے شمار جھریاں اور خیالات بے حد پرانے۔ ہر وقت مجھے بھوتوں جنوں اور چڑیلوں کی باتیں سنا سنا کر ڈراتی رہتی ہیں۔ ’’ دیکھ بیٹا اگلی گلی میں جو پیپل ہے اس کے نیچے مت کھیلنا۔ اس کے اوپر ایک بھوت رہتا ہے۔ آج سے پچاس سال پہلے جب میری شادی نہیں ہوئی تھی میں اپنی ایک سہیلی کے ساتھ اس پیپل کے نیچے کھیل رہی تھی کہ یک لخت میری سہیلی بے ہوش ہوگئی۔ اس طرح وہ سات دفعہ ہوش میں آئی اور سات دفعہ بے ہوش ہوئی۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے چیخ کر کہا ’’بھوت‘‘ ! اور وہ پھر بے ہوش ہوگئی۔ اسے گھر پہنچایا گیا جہاں وہ سات دن کے بعد مرگئی اور وہاں ، پرانی سرائے کے پاس جو کنواں ہے اس کے نزدیک مت پھٹکنا۔ اس میں ایک چڑیل رہتی ہے۔ وہ بچوں کا کلیجہ نکال کر کھا جاتی ہے۔ اس چڑیل کی یہی خوراک ہے۔اماں جی کو ہر وقت یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ مجھے کچھ ہوگیا تو کیا ہوگا؟ وہ مجھے تالاب میں تیرنے کے لیے اس لیے نہیں جانے دیتیں کہ اگر میں ڈوب گیا تو ؟ پٹاخوں اور پھلجھڑیوں سے اس لیے نہیں کھیلنے دیتیں کہ اگر کپڑوں میں آگ لگ گئی تو ؟ پچھلے دنوں میں کرکٹ کھیلنا چاہتا تھا۔ اماں جی کو پتا لگ گیا۔ کہنے لگیں ، کرکٹ مت کھیلنا۔ بڑا خطرناک کھیل ہے۔ اگر گیند آنکھ پر لگ گئی تو ؟ بڑے بھائی صاحب کا خیال ہے جو چیز بڑوں کے لیے بے ضررہے چھوٹوں کیلیے سخت مضر ہے۔ خود چوبیس گھنٹے پان کھاتے ہیں لیکن اگر کبھی مجھے پان کھاتا دیکھ لیں فوراً ناک بھوں چڑھائیں گے۔ پان نہیں کھانا چاہیے۔ بہت گندی عادت ہے۔ سنیما دیکھنے کے بہت شوقین ہیں لیکن اگر میں اصرار کروں تو کہیں گے ، چھوٹوں کو فلمیں نہیں دیکھنا چاہیے۔ اخلاق پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ بڑی بہن کو گانے بجانے کا شوق ہے۔ جب انھیں کوئی کام لینا ہو تو بڑی میٹھی بن جاتی ہیں۔ کام نہ ہو تو کاٹنے کو دوڑتی ہیں۔ خاص کر جب ان کی سہیلیاں آتی ہیں اور وہ طرح طرح کی فضول باتیں بناتی ہیں ، اس وقت میں انھیں زہر لگنے لگتا ہوں۔ لے دے کر سارے گھر میں ایک غمگسار ہے اور وہ ہے میرا کتّا ’’ موتی ‘‘۔ بڑا شریف جانور ہے۔ وہ نہ تو بھوتوں اور چڑیلوں کے قصّے سنا کر مجھے خو ف زدہ کرنے کی کوشش کرتا ، نہ مجھے نالائق کہہ کر میری حوصلہ شکنی کرتا ہے اور نہ اسے جاسوسی ناول پڑھنے کا شوق ہے ۔ بس ذرا موج میں آئے تو تھوڑا سا بھونک لیتا ہے۔ جب اپنے بزرگوں سے تنگ آجاتا ہوں تو اسے لے کر جنگل میں نکل جاتا ہوں۔ وہاں ہم دونوں تیتریوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ دادا جی اور دادی جی سے دور۔ اماں اباجی سے دور۔ بھائی اور بہن کی دسترس سے دور اور کبھی کبھی کسی درخت کی چھاؤں میں موتی کے ساتھ سستاتے ہوئے میں سوچنے لگتا ہوں ، کاش! میرے بزرگ سمجھ سکتے کہ میں بھی انسان ہوں۔ یا کاش ، وہ اتنی جلدی نہ بھول جاتے کہ وہ کبھی میری طرح ایک چھوٹا سا لڑکا ہوا کرتے تھے۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ قطع تعلقی’’کتا۔ تعلقی‘‘ سے بہتر ہے۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر