دنیا کے 7ارب80 کروڑ لوگوں کو کورونا ویکسین ملنی چاہیے
11 اگست 2020 (20:37) 2020-08-11

نیویارک:ایٹمی بمباری کی تباہی کے خطرے کا سامنا کرتے ہوئے کسی بھی ملک کے لئے کسی بھی وجہ سے کسی بھی وقت ایک اور عالمی جنگ کا کوئی آپشن موجود نہیں اور انسانیت کے لئے واحد راستہ اپنی مشکلات کاپرامن اورسمجھداری سے حل کرنا ہے۔

امریکی تاریخ دان پروفیسر پال اے ٹین کوٹی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگست 1945 میں جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے جانے سے عالمی تاریخ کا ایک نیا باب کھل گیا تھا ۔ نوول کروناوائرس کو شکست دینے کے لئے ہر ملک کو بھرپور کوشش کرنے پڑے گی اور اس بات کو یقینی بنانا پڑے گا کہ دنیا بھر کے 7 ارب 80کروڑ لوگوں کو ویکسین مل جائے جوں ہی یہ ویکسین میسر ہوں ۔انہوں نے مزید کہا کہ  اس کے لئے صرف بڑے پیمانے پر بین الاقوامی ترسیل کی کوشش کی ضرورت ہوگی ۔

ٹین کوٹی نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ اقوام متحدہ نے دنیا کو 75برسوں سے بڑے عالمی تصادم سے بچائے رکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بین الااقوامی مذاکرات کبھی بھی آسان نہیں رہے تاہم یقینی طورپر کسی بھی جنگ سے زیادہ آسان اور کم قیمت ہیں۔انہوں نے کہا کہ


ای پیپر