شوہدائے پولیس! 
11 اگست 2020 2020-08-11

کالموں کی سیریز تو ”شہدائے پولیس اور شوہدائے پولیس“ کے عنوان سے میں لکھ رہا ہوں پر اس کالم میں چونکہ صرف ”’شوہدائے پولیس“ کا ذکر ہے، تو عنوان سے ”شہدائے پولیس“ میں نے ہٹادیا ہے۔ پولیس افسران، خصوصاً جرائم پیشہ پولیس افسران میرے کالم شوق سے پڑھیں نہ پڑھیں، غور سے اس لیے پڑھتے ہیں کہیں کسی کالم میں اُن کا کوئی پول میں نہ کھول دوں۔ وقتاً فوقتاً پولیس کی کالی و سفید بھیڑوں پر اِس لیے مجھے لکھنا پڑتا ہے عوام کو سب سے زیادہ واسطہ ان ہی کالی وسفید بھیڑوں سے پڑتا ہے، سو ان کالی و سفید بھیڑوں کا قبلہ درست رکھنے کی ناکام کوشش میں کرتا رہتا ہوں، .... پولیس کی کالی بھیڑیں وہ ہیں جو کھلم کھلا کرپشن کرتی ہیں، دیگر جرائم میں بھی ملوث ہوتی ہیں، اور پولیس کی ”سفید بھیڑیں“ وہ ہیں جو ”لک چُھپ“ کر کرپشن کرتی ہیں، کوئی کچھ دے جائے تو ٹھیک، لوگوں کی جیبوں میں ہاتھ نہیں مارتیں، یعنی جو دے اُس کا بھی بھلا جو نہ دے اُس کا بھی بھلا “ کے ”فلسفے“ پر وہ مکمل ایمان رکھتی ہیں، سفید بھیڑوں میں تھوڑا بہت دید لحاظ بھی ہوتا ہے جو کالی بھیڑوں میں بالکل نہیں ہوتا، کالی بھیڑیں کسی سے اس لیے خوف نہیں کھاتیں وہ دو ”رازوں“ سے بخوبی واقف ہیں، ایک راز یہ ہے کہ یہ بے عزت معاشرہ ہے، جو جتنا اُچا ہے اُتنا لُچا ہے، سو اِس معاشرے میں عزت وغیرہ بناکر انہوں نے کرنا کیا ہے؟ ۔ دوسرا راز یہ کہ یہ وہ ملک ہے جہاں جو رشوت لیتے پکڑا جاتا ہے رشوت دے کر چُھوٹ جاتا ہے، لہٰذا ہمارے اکثر پولیس وسول افسران رشوت لینے کے عمل کو یادیگر طریقوں سے ناجائز کمائی کے عمل کو بُرا سمجھتے ہیں نہ اس سے خوف کھاتے ہیں، بلکہ رشوت لینے کے عمل کو کچھ عرصہ پہلے تک چھوٹا موٹا ”کارثواب“ سمجھا جاتا تھا، اب باقاعدہ ”جہاد“ سمجھا جاتا ہے، اِن ”جہادیوں“ کے سامنے وزیراعظم عمران خان بھی بے بس ہیں، اگلے روز بھی اپنے دورہ لاہور میں یہ ”سچ“ اُنہیں بولنا پڑا ”رشوت بڑھ گئی ہے“۔ کاش اِس موقع پر یہ سچ بھی وہ بول دیتے ”میں دوبرسوں میں اِسے کنٹرول کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہا ہوں“۔ شاید پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں اِک ڈی ایس پی سے میں نے گلہ کیا ”آپ نے میرے فلاں دوست سے پچاس ہزار رشوت لی، اُس کا کام بھی نہیں کیا“ ....وہ بولا ”سررشوت لی ہے تو کام کروں گا، میں نے اپنے بچوں کو کبھی حرام نہیں کھلایا“ .... سو حرام اب یہ ہے رشوت لے کر بھی کوئی کام نہ کرے، میں نے افسران اور ان کے ماتحت ملازمین کو اِس حوالے سے زیادہ تر ”ایماندار“ ہی پایا ہے۔ وہ رشوت لے کر کام کردیتے ہیں، کیونکہ اُنہیں پتہ ہوتا ہے رشوت لے کر کام نہ کیا توکھپ پڑے گی، اصل میں وہ بدنام ہونے سے نہیں ڈرتے، اِس لیے ڈرتے ہیں کھپ پڑنے کی صورت میں اُنہیں اُوپر تک حصہ پہنچانا پڑ جائے گا جس سے اُن کے ”رزق حرام“ میں کمی واقع ہو جائے گی، میرا خیال تھا کورونا کی وجہ سے موت کے خوف میں مبتلا معاشرے میں سفارش، رشوت، دھونس، دھاندلی ،بدتمیزی، بداخلاقی، ظلم، بے شرمی و بے حیائی تھوڑی کم ہوجائے گی، مجھے یہ لعنتیں مزید بڑھی ہوئی محسوس ہورہی ہیں، جو بچ گئے وہ سمجھتے ہیں موت اب اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، سو اپنی بداعمالیوں کا دائرہ اُنہوں نے مزید وسیع کردیا، اُوپر میں نے رشوت لینے والے ایک ڈی ایس پی کی مثال دی، ہمارے کچھ پی ایس پی بھی ایسی ہی سوچ کے مالک ہیں۔ حرام کمائی کے حوالے سے جو بات ایک ڈی ایس پی نے کہی کسی اے ایس پی نے بھی کسی نہ کسی سے ضرور کہی ہوگی، کرپشن کے حمام میں کچھ ڈی ایس پی اور پی ایس پی ایک جیسے ننگے ہیں، .... ابھی کل واٹس ایپ کے مختلف گروپس میں ایک ”خصوصی رپورٹ“ محکمہ پولیس کا منہ مزید کالا کررہی تھی کہ لاہور کا ایس پی صدر مبینہ طورپر اپنے ایس ایچ اوز سے منتھلی لیتا ہے، مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی کیونکہ اِس سے پہلے وہ جب لاہور کے سٹی ڈویژن میں تعینات تھا اُس کے بارے میں مبینہ اطلاعات یہ تھیں وہ ”منتھلیاں“ نہیں ”ڈیلیاں“ لیتا ہے، سو صدر ڈویژن میں آکر اگر اس نے ”منتھلیاں“ لینا شروع کردی ہیں اس کا مطلب ہے اب توبہ تائب کی طرف وہ بڑھ رہا ہے۔ اپنی اِسی ”اہلیت“ کے بل بوتے پر سنا ہے کسی ضلع میں وہ ڈی پی او لگنے کے لیے ”فُل زور“ لگارہا ہے، جیسے کسی ڈویژن میں نہیں کسی ”ٹائیلٹ“ میں وہ بیٹھا ہو، میری طرف سے اُسے پیشگی مبارکباد، جو ”بدنامی“ ماتحتوں میں اُس کی ہورہی ہے اُسے ڈی پی او لگنے سے کوئی نہیں روک سکتا، .... گزشتہ کالم میں، میں نے ایک نفیس پولیس افسر رانا ایاز سلیم کا ذکر کیا تھا، کسی پولیس افسر یا اُس کے کسی بیج میٹ کو توفیق نہیں ہوئی میرے لکھے کی وہ تائید کردیتے، اِس کے برعکس چند روز پہلے ایک ڈی آئی جی کے خلاف میں نے لکھا بے شمار کالز اور میسجز مجھے موصول ہوئے کہ آپ نے بالکل ٹھیک لکھا ہے، تنگ آکر منفی ذہنیت کے حامل ایک پولیس افسر سے میں نے کہا ” میں نے ٹھیک لکھا ہے یا غلط ؟یہ آپ کیسے جانتے ہیں؟، ہوسکتا ہے اُس ڈی آئی جی نے میرا کوئی کام نہ کیا ہو، جس سے میرے اندر کا ”صحافتی جگا “ جا گیا ہو، اور میں نے اُس کے بارے میں غلط یا اُس کے خلاف لکھ دیا ہو ؟، کہنے کا مطلب یہ ہے ہمارے کچھ پولیس افسران کرپٹ ہونے کے ساتھ ساتھ منافق بھی انتہا درجے کے ہوتے ہیں، .... وزیراعلیٰ کے ساتھ اٹیچ ایک ایس ایس پی نے اُسی ڈی آئی جی کے خلاف لکھا جانے والا میرا یہ کالم میرے بارے میں منفی کلمات کے ساتھ اپنے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کیا، کے پی کے میں تعینات ایک دوست پولیس افسر نے مجھے اس پر آنے والے کچھ کمنٹس کے سکرین شاٹس بھجوائے، مجھے اس پر ہنسی آرہی تھی، میں سوچ رہا تھا وزیراعلیٰ کے ساتھ اٹیچ اس ایس ایس پی نے ڈی آئی جی کے ساتھ دوستی نبھائی ہے یااُس کے ساتھ پرانی کسی رنجش یا پر خاش کا بدلہ لیا ہے؟ اُس کے اس عمل سے یہ ہوا جس نے کالم نہیں بھی پڑھا تھا اُس نے بھی پڑھ لیا، اُس ایس ایس پی میں ذرا حیا یا جرا¿ت ہوتی ذاتی طورپر کال کرکے مجھ سے احتجاج کرتا، ایک ایسے واٹس ایپ گروپ میں کالم شیئر کرکے، جس کا میں ممبر ہی نہیں، جس گھٹیا پن کا اُس نے مظاہرہ کیا، وہ اُس گھٹیا پن سے بہرحال کم ہی ہے کہ جب وہ لاہور میں تعینات تھا اُس کے کچھ ڈی ایس پیز نے اُس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اُنہیں انتہائی گھٹیا اور غیر اخلاقی کاموں کے لیے مجبور کرتا ہے۔ اِس حوالے سے ایک انکوائری رپورٹ بھی دبی ہوئی ہے، جس روز وہ منظر عام پر آگئی، مجھے یقین ہے اِس ”بے عزت معاشرے“ میں اُس کی ”عزت“ میں مزید اضافہ ہوجائے گا، ایک ڈی آئی جی کے خلاف لکھے گئے میرے کالم کو اپنے واٹس ایپ گروپ یا گروپس میں اگر اس نیت سے اُس نے شیئر کیا تھا کہ اُسے اپنے محکمے یا اپنی ”کلاس“ کی عزت عزیز تھی پھر اُسے چاہیے تھا اگلے روز اپنی ہی کلاس (پی ایس پی) سے تعلق رکھنے والے ایک نفیس پولیس افسر رانا ایاز سلیم کے حق میں لکھے جانے والے میرے کالم کو بھی گروپ میں وہ شیئر کرتا ۔ بے شمار اچھے پولیس افسروں کے بارے میں بے شمار کالمز میں لکھ چکا ہوں، پر جو گندا ہے اُسے میں اچھا نہیں کہہ سکتا چاہے وہ اس تکبر میں ہی کیوں نہ مبتلا ہو کہ اُس کی پوسٹنگ وزیراعلیٰ کے ساتھ ہے۔ !!


ای پیپر