”مِ،ر،ت، د،ثانی و فانی“
11 اگست 2020 2020-08-11

قارئین، اللہ کا شکر ہے، کہ میں اپنے آپ کو پہلے مسلمان، اور پھر پاکستانی سمجھتا ہوں، اور مجھے اس پر فخر ہے، اس لیے جب حال ہی میں خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اسلام آباد میں ”مندر“ بنانے کے حوالے سے تقریر کرتے ہوئے، یہ کہا کہ کسی مذہب کو کسی مذہب پہ فوقیت نہیں ہے، یقین نہیں آتا کہ یہ بچگانہ وطفلانہ بیان، خواجہ آصف جیسے منجھے ہوئے سیاستدان کا ہے، کہ ہندو، مسلم، سکھ عیسائی، ایک ہی جیسے ہیں، اور اس میں کسی مذہب والے کو دوسرے مذہب پہ فوقیت حاصل نہیں، لہٰذا یہ سارے مذاہب ایک جیسے ہیں، یہ سن کر مجھ جیسے لکھاری اور سید مظفر علی شاہ جیسے شاعر بیک وقت بول اُٹھے کہ 

پھوڑڈالیں گے جنوں میں تیری دیواروں سے سر

ایسے ویرانوں کے آنے کی خبر زنداں کو دے!

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا، کہ میں سب سے پہلے مسلمان ہوں لہٰذا میں خواجہ آصف صاحب سے ذاتی تعلقات اور ان کے خاندان کے ساتھ مراسم کو خیرباد کہتے ہوئے کلمہ حق ادا کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ 

اور میرا مشورہ خواجہ آصف کو یہ ہے، کہ وہ ہندوستان چلے جائیں، کیونکہ گورداس پور بھی وہیں ہے، ان کے جانے سے ہمارے مودی کے ساتھ تعلقات بھی خوشگوار ہوجائیں گے، اورہمارے وزیراعظم کے مودی سے تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔ قارئین پرانا واقعہ دہرائے دیتا ہوں مدت پہلے جولاہے کی بیٹی نے خاندان میں سبق آموز اعلان کیا تھا، کہ کل خاندان میں سے ایک بندہ غائب ہو جائے گا، .... اوردوسرے دن واقعی جولاہے کی بیٹی اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی، اور جولاہے کا خاندان ہی نہیں، جولاہوں کی پوری برادری خوشی سے جھوم اُٹھی کہ ہم میں سے بھی ایک ولی اللہ ہوگئی ہے۔ مدتوں بعد میں بھی اپنے ہم وطنوں کے ساتھ وزیراعظم عمران خان کا یہ بیان اور اعلان سن کر پھولے نہیںسمایا تھا کہ ہندوستان کے انتخابات میں مودی جیت گیا تومسئلہ کشمیر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا، اور مسئلہ کشمیر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل ہوگیا۔ میں بات کررہا تھا، پاکستانی قومی اسمبلی میں اقلیتوں کے نمائندوں کے لیے ایک اور ممبر کا اضافہ ہوگیا ہے، اور رمیش کمار، لعل چند، سنیلارتھ، جائے پرکاش، ڈاکٹر درشن، مکھیل داس، ہمیش لعل وغیرہ تو خوشی سے نہال ہورہے ہیں۔ لیکن خواجہ آصف کی اصلیت کا شاید ان کو پتہ تھا، لیکن ہم مسلمان اندھیرے میں تھے، تاہم خواجہ آصف کے بارے میں یہ بازگشت بڑی دیر سے ہمارے ہم وطنوں نے سن لی تھی ، کہ یہ جوہے، یہ وہ نہیں ہے۔ 

قارئین ، بات کی طوالت خواجہ آصف کے لیے تکلیف دہ نہ ہو، لہٰذا میں فوراً اپنے مقصد کے لیے خواجہ آصف کو بتاتا ہوں، کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے، کہ دنیا کی یہ زندگی جس میں تمہیں اختیارات دے کر بھیجا جارہا ہے، دراصل تمہارے لیے ایک امتحان کی مدت ہے، جس کے بعد تمہیں میرے پاس آنا ہوگا، اور میں تمہاری کارکردگی دیکھ کر فیصلہ کروں گا کہ امتحان میں کون کامیاب رہا ہے، اور کون ناکام ہواہے۔ 

لہٰذا تمہارے لیے صحیح یہ ہے کہ مجھے اپنا واحد معبود اور حاکم تسلیم کرو، جو ہدایات میں نے دی ہیں، ان کے مطابق زندگی گزارو۔ اور دوسرے یہ کہ محمد رسول اللہ ، خاتم النبیین ہیں ، ان کے بعد کوئی اور نہیں ہے، لہٰذا اس بات پر بھی ایمان لاﺅ، مگر یہیں سے سابقہ ایک بدبخت مسلمان نے انگریزوں کے بہکاوے میں آکر نبوت کا دعویٰ کردیا، اب اس کے پیچھے یہودیوں اور عیسائیوں کی کیا مصلحت کار فرما تھی، یہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی نہیں ہر ذی شعور جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے، وہ بخوبی جانتا ہے چونکہ ان کے نام مسلمانوں والے ہوتے ہیں، جیسے خواجہ آصف ، غلام احمد، ناصر احمد، لہٰذا یہ ہماری صفوں میں، ہمارے اردگرد ہمارے پورے معاشرے میں بلکہ ہماری سکیورٹی کے اداروں میں بھی بغیر کسی حیل وحجت کے اپنی منفی سرگرمیوں میں بخوبی مصروف ہیں، جنہیں دیکھ کر تو پتہ نہیں چلتا، جس کے باعث وہ ملک وملت کے منافی اپنی خفیہ کارکردگی اپنے آقاﺅں کو دکھا کر معاوضہ ومراعات وصول کرلیتے ہیں۔ 

قارئین کرام، آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتا ہوں، جو مجھے وزیراعظم مملکت خداداد پاکستان اور اسلامی جمہوری ملک کے سربراہ عمران خان کے کزن ، اور بہنوئی جناب حفیظ اللہ خان نے بتائی تھی، بات ہورہی تھی، قادیانیوں کی ہمارے معاشرے میں غیر محسوس طریقے سے رچ بس جانے کی، انہوں نے بتایا کہ ہم امریکہ میں متواتر سترہ سال رہے، اور ہم پانچوں وقت کی نمازیں ایک قریبی مسجد میں پڑھتے تھے، اور امام مسجد بڑے خلوص اور بڑے انہماک سے نماز پڑھاتا اور بہت خشوع وخضوع کے ساتھ دعا مانگتا لیکن سترہ سال کے بعد ہمیں پتہ چلا، کہ امام مسجد قادیانی تھا، تو ہم حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے، چونکہ امام مسجد بنگالی تھا، اس لیے ہم سارے اسے تنخواہ کے علاوہ بھی دل کھول کر مدد کرتے تھے، مگر ایک دن قدرت نے اسے قادیانیوں کے موضوع پر بحث کرنے سے انکار کردینے پہ بے نقاب کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اب دوسرے ”م رت د“ کو بھی بے نقاب کردیا۔ اس موضوع پر ان شاءاللہ مزید وضاحت کروں گا، کیونکہ میں الحمدللہ کارکن ختم نبوت ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے خواجے یا خواجے کے کسی گواہ کو اعتراض ہے تو وہ میرے خلاف عدالت میں چلا جائے۔ 


ای پیپر