کورونا اورماحولیاتی تبدیلی کی خطرناک دستک؟
11 اگست 2020 (00:04) 2020-08-11

ایک جانب پہلے ہی ملک میں کورونا کی تباہ کاریوں نے عام آدمی کو اس حد تک ڈرا دیا ہے کہ اس سے نجات کا ابھی تک کوئی راستہ دنیا بھر سمیت پاکستان کے حکمران تلاش نہیں کر پائے۔اس ہنگامی کیفیت کے درمیان بل گیٹس نے پیش گوئی کر کے پوری دنیا کو مستقبل کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے مزید خوف سے دوچار کر دیا ہے بل گیٹس نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ دنوں میں دنیا کو کورونا سے زیادہ برے ماحولیاتی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔بل گیٹس جو مائیکرو ساٖفٹ کمپنی کے بانی ہیں ان کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں ماحولیاتی حالات اس قدر خراب ہو سکتے ہیں جو کہ کورونا کے اثرات سے بھی زیادہ دنیا کے معاشرے پر اپنے منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔بل گیٹس اپنے بلاگ میں لکھتے ہیں کہ کورونا کی وبا جتنی بھی دہشت ناک ہو ‘ماحولیات کی تبدیلی اس سے زیادہ بری ہو سکتی ہے یعنی ماحولیاتی تبدیلی کے حالات ان کے نزدیک زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔بل گیٹس نے توقع ظاہر کی ہے کہ دنیا کو قریبی دہائیوں کے دوران ماحولیات کی تبدیلی کے حوالے سے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہو گا انہوں نے واضح کیا کہ کورونا وائرس کے سبب اموات کا تناسب ہر ایک لاکھ کی آبادی میں چودہ افراد کی اموات تک پہنچ چکا ہے جبکہ آئندہ چالیس برسوں میں زمین پر درجہ حرارت بڑھنے کے سبب اموات کا تناسب سال 2100ء سے قبل پانچ گنا بڑھ جائیگا۔بل گیٹس کی پیشن گوئی کے تناظر میں دیکھا جائے تو رواں سال مئی میں ایک سائنسی تحقیقی مطالعہ سامنے آیا ہے اس کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ 2070ء تک  تین ارب انسان غالبا ایسے درجہ حرارت والے علاقوں میں آباد ہونگے جن کو زندگی گزارنے کے لئے غیر موزوں قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان ماحولیاتی حالات کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اس ماحولیاتی دائرہ کار سے باہر ہیں جن میں انسان نے گذشتہ چھ ہزار سال کے دوران زندگی گذاری ۔الغرض جہاں کورونا کی وبا سے پوری دنیا پہلے ہی نبرد آزما ہے اب بل گیٹس کے نئے انکشاف نے دنیا کو مستقبل کے ممکنہ خطرات سے مزید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے بل گیٹس کی پیش گوئی کے تناظر میں دیکھا جائے تو مستقبل میں ممکنہ آنیوالی ماحولیاتی تبدیلی سے نبرد آزما ہونے کے لئے دنیا کو ابھی سے تیار رہنا ہوگا۔ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ اس سلسلے میں گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے جو عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کا سبب ہے اس کے علاوہ اخراج کی سطح کو کنٹرول کرنے کے لئے سائنسی ایجادات کا 

استعمال کیا جائے صرف ملک عزیز پاکستان ہی کو نہیں بلکہ دنیا کو کورونا کے بعد اس آنیوالے اس خطرہ سے نمٹنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔بلا شبہ عالمی سطح پر پھیلی وبائی بیماری کورونا کی تباہ کاریاں جاری ہیں اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا پوری دنیا کی معیشتوں کو   کورونا نے ایسا زبردست جھٹکا دیا کہ کورونا کے ساتھ ساتھ دنیا معیشت کی بحالی کی جنگ سے بھی نبرد آزما ہے۔ کورونا سے انسانی زندگیاں جہاں متاثر ہوئیں ہیں وہیں انسانی حیات کاروبار زندگی مفلوج ہونے کے باعث انسان کے معمولات زندگی اور رزق معاش کا سلسلہ تھم سا گیا ہے جس کے باعث کورونا کے بعد انسان کی زندگی کی شروعات بڑی تکلیف دہ ہو گی۔ عالمی ادارہ صحت متعدد بار انتباہ کر چکا ہے کہ کورونا کتنا مہلک ہے اس کا اندازہ متاثرہ ممالک میں ہونیوالی اموات سے لگایا جا سکتا ہے۔ کورونا وبا نے دنیا کو اس دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے جہاں دنیا کو اندازہ نہیں کہ اس سے کیسے نمٹا جائے ایک طرف معاشی بد حالی کی دگر گوں صورتحال ‘بھوک اور بیروزگاری کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے دوسری جانب اس وبا کی کوئی ویکسین اور دوا ایجاد نہ ہونے سے اس کے دوبارہ حملہ ااور ہونے کے خطرات ابھی کم نہیں ہوئی کیونکہ طبی ماہرین اور سائنسدان اس وبا کی ایک اور لہر کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ بہر کیف حقائق سے منہ نہیں موڑا جاسکتا موجودہ صورتحال ابتر اور فیصلے خطرناک ہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے انسان کو اس وبا کے ساتھ برسوں جنگ لڑنا ہو گی ایسی صورتحال میں اس وبا کے ساتھ ہی انسان کو آگے بڑھنا ہو گا تکلیف دہ ضرور لیکن حالات کو سنبھالا دینا بھی نا گزیر ہو چکا ہے۔ایک عام آدمی سے لے کر دنیا کے ممالک کے حکمران آگے بڑھنے کے سفر کو کیسے جاری رکھ پائیں گے معاشی حالات کو کیسے سنبھالا دیں گے وغیرہ یہ وہ سوالات ہیں جو ماہرین کے ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں اور دنیا کو پریشان کئے ہوئے ہیں۔موجودہ حالات کے تناظر میں ماہرین کی پیش گوئیوں کے درمیان ہمیں محتاط قدم بڑھاتے ہوئے ہر صورت اس وبائی مرض کے ساتھ نبرد آزما رہنا ہے کورونا کی صورتحال کب تک انسانی حیات پر عرصہ حیات تنگ رکھے گی یہ کہنا اور سوچنا قبل از وقت ہے جب تک اس وبا کے تدارک کے لئے کوئی مئوثر ویکسین اور دوا ایجاد نہیں ہوتی۔موجودہ حالات کے تناظر میں ماہرین کی پیش گوئیوں کے پیش نظر بڑے محتاط انداز میں پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے اس بیماری کے ساتھ ہم کیسے سلسہ روزگار کو قائم رکھ سکتے ہیں یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم عالمی ادارہ صحت اور شعبہ صحت کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہو سکیں گے۔بہر حال یہ ادراک ضروری ہو گیا ہے کہ کورونا کی وبا میں وہ شدت نہیں جس نے انسان کو دہلا کر رکھ دیا تھا لیکن اس کا خاتمہ فی الحال قریب قریب دکھائی نہیں دے رہا ہے۔اب اس وبا کے سنگ احتیاطی تدابیر کو اپنا کر ہی اپنے گھر کا چولہا جلا سکتے ہیں اور اپنی اور ملک کی معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر واپس لا سکتے ہیں۔ پاکستان میں لاک ڈاون نے ملک و ملت کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے اب حکومت نے مرحلہ وار لاک ڈائون کا خاتمہ کرتے ہوئے کاروبار زندگی کو معمول پر لانے کے لئے اجازت دے دی ہے۔اب اس تمام صورتحال کے پیش نظر ضروری ہو گیا ہے کہ عوام برے حالات کا ہمت کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس کورونا کو شکست دے کر آگے کی جانب قدم بڑھائے۔زندگی کے سانسوں کی روانی اور روزگار کا پہیہ اسی صورت چلے گا جب ہم خود ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے بہر حال کورونا کے ساتھ زندگی تکلیف دہ ضرور ہے لیکن صبر‘ہمت اور عمل کے ساتھ اپنے اور ملک کے معاشی حالات کو سنبھالا دے سکتے ہیں جو کہ ان حالات میں فکر مندی کے ساتھ بہت ضروری ہو گیا ہے۔


ای پیپر