نقشہ سچا قبضہ جھوٹا
11 اگست 2020 (00:04) 2020-08-11

سنتے آئے تھے قبضہ سچا دعویٰ جھوٹا مگر موجودہ حکومت نے قانونی لغت میں ایک نئے محاورے کو ایجاد کیا کہ نقشہ سچا قبضہ جھوٹا، کیا ہی تیر مارا ہے؟ ڈاکٹر علی شریعتیؒ جو علامہ اقبالؒ سے روحانی اور فکری عقیدت و تقلید رکھتے تھے ایرانی انقلاب کے نقیب ٹھہرے لیکن بہت زیادہ کام ایرانی مصوروں کا بھی تھا، جنہوں نے دلکش پوسٹرز بنائے ان میں سے ایک تو کئی سال میرے گھر دیوار پر آویزاں رہا جس میں ایک غریب بچہ کلاس روم میں پڑھتے ہوئے بچوں کو کلاس کے دروازے پر حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ یہ پوسٹر میں نے کیا خریدا کہ 30/35 پوسٹرز احباب کو لے کر دینے پڑ گئے۔ جن میں ایوب صاحب اور سعید بھٹی صاحب بھی شامل تھے۔ معاشرت کی عکاسی کرتے ہوئے پوسٹرز، آیت اللہ خمینی کا کردار اور ڈاکٹر علی شریعتی کے افکار کے ساتھ شہنشاہ رضا کی امریکہ کی مرضی کے خلاف OPEC بنانا جس میں تیل کی قیمتوں کا تعین شامل تھا اور مزید یہ کہ رضا شاہ پہلوی نے ایران میں پٹرولیم کی بنیاد پر بننے والی اشیاء کی 6 ہزار صنعتوں کے قیام جن کے لیے جاپان کے سائنس دان اور انجینئرز کی ایران کے لیے خدمات حاصل کرنے کے معاہدے نے امریکہ کو شدید ناراض کیا۔ شہنشاہ کے زوال اس پر آیت اللہ کی مقبولیت ایرانی عوامی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوا مگر کشمیر کے معاملے میں تو کوئی فرضی پوسٹر نہیں ہے۔ اصلی کشت و خون ہے اور درندگی ہے۔ کالج کی لڑکی کو سڑک پر لٹائے ہوئے ہندو فوجی کتے کو اوپر چڑھے دیکھ کر میں کئی گھنٹے روتا رہا بلکہ جواد شمسی کے پروگرا م میں کشمیر کے سوال پر بلک پڑا۔ 60 سالہ شہید نانا کے سینے پر بیٹھے معصوم نواسے کی تصویر کوئی فرضی پوسٹر نہیں ہے کشمیر کی جنت نظیر وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل بن گئی ہر گھر میں مقتول اور 15 ہزار سے زائد بیٹیوں کی آبرو ریزی روزانہ کے قتل سال ہا سال سے وقفے وقفے سے کرفیو اور اب سال سے زیادہ مکمل لاک ڈاؤن، آئینی حیثیت تبدیل، کشمیر کی وادی کے خوبصورت مناظر اب گنتی میں کم ہیں مگر مظالم ان گنت، دس لاکھ درندے فوج کی وردی میں تو کیا یہ ایک نقشہ ان کے ناجائز قبضہ کو غلط ثابت کرپائے گا۔ وکالت میں میرے استاد خواجہ جاوید مرحوم کہتے تھے جس بات پر اپنے آپ کو مطمئن نہ کر سکیں جج صاحب بھی نہیں ہو پاتے۔ کیا کوئی ذی شعور شخص مطمئن ہو سکتا ہے۔ دراصل کشمیریوں کا مسئلہ بنیادی انسانی حقو ق کا مسئلہ ہے جس کو بنیاد بنا کر ہمیں دنیا کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے کی کوشش کرنا ہو گی۔ 

مانا کہ جنگ حل نہیں تباہی ہے کیونکہ عمران خان نے ایک مرتبہ واضح کہہ چکے کہ جنگ تو ہو گی نہیں، جنگ تباہی ہے اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر جنگ سے لے سکتے 

اور نہ ہی ہندوستان ایک انچ زمین لے سکتا ہے۔ تو پھر کیا طریقہ رہ گیا بات چیت، عمران خان کوشش کرے تو جائز نواز شریف کرے تو مودی کا یار۔ کشمیریوں کی جس طرح 1977ء کے بعد ’’اخلاقی، سیاسی، سماجی‘‘ مدد نے نئی کروٹ لی، اس نے کشمیریوں کی مصیبتوں دکھوں قتلوں میں اضافہ کیا۔ ’’آج عسکری مدد کی ضرورت ہے‘‘۔ مجھے یاد ہے جناب ذوالفقار علی بھٹو جیل میں تھے تو انہوں نے اپنی پارٹی کے ’’رہنماؤں‘‘ کو پیغام بھیجا کہ آپ کے بیانات ورکروں اور مجھ پر سختی کا سبب بنتے ہیں۔ اگر عوام طاقت ور ہوئے تو حالات مختلف ہو سکتے ہیں ورنہ مجھے تاریخ میں زندہ رہنا ہے۔ مجھے اپنے حالات جیسے ہیں گزارنے دیں۔ رہی کشمیریوں کے مقدمہ کی بات یہ خالصتاً انسانی بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے جو 1977ء کے بعد منافقت کی بدولت اسلامی بنا دیا گیا اور 9/11 کے بعد دنیا میں مسلمان ہو نا جرم قرار پایا لہٰذا ہمیں اس مسئلہ کو پاکستانی، بھارتی تنازع کے ساتھ انسانی بنیادی حقوق کا مسئلہ اور مقدمہ بنا کر پیش کرنا چاہیے۔ کسی نے کہا تھا کہ فوج تو ضروری ہے اگر اپنی نہیں تو پھر دوسرے ممالک کی ہو گی بعض ناقدین کے اس خیال سے میں متفق نہیں کہ اگر کشمیر فتح نہیں ہوتا جنگ نہیں ہوتی تو فوج کی کیا ضرورت ہے۔ ہم ہمسائیگی میں بدنصیب ہیں کہ بھارت جیسا گھٹیا ملک ہمارا ہمسایہ ہی نہیں دشمن بھی ہے لہٰذا اس کے عزائم کو خاک میں ملاتے رہنے کے لیے فوج کا طاقتور ہونا ضروری ہے۔ کچھ میرے احباب بھٹو صاحب کا نام سنتے ہی انسانی صفات ترک کر دیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اگر وہ اتنے ہی ناقبول ہیں تو ان کے اقدامات تو revise کر دیں۔ قادیانیوں کا فیصلہ، آئین 1973ء، چائینہ سے دوستی ، اسلامی بلاک کی طرف جھکاؤ، ایٹمی پروگرام، عوامی سیاست ، شملہ معاہدہ یہ سب کچھ لوٹا دو پھر دیکھو 40 سال بعد بھی آپ کہاں کھڑے ہیں۔ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے عوام کو کرنا ہو گا یہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے اور تاریخ گواہ ہے کوئی قوم جس نے آزادی مانگی جدوجہد کی اور قربانیاں بھی دیں کوئی ایک تحریک نہیںجو ناکام ہوئی ہو۔ اگر کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے میں آسانیاں پیدا نہ کی گئیں تو بھارت میں8 سے زائد قومیتیں آزاد ہونے کو تیاری بیٹھی ہیں۔ ویسے بہت آسان حل ہے اب ہمارے نقشے میں مقبوضہ کشمیر تو ہے ہی کیوں نہ چائنہ سے معاملات کرلیے جائیں ۔ آزادی کشمیریوں کا حق ہے جو مقدر میں بدل چکا ہے چاہے قدرت چاہے اس کا سبب چائنہ کو بنا دے یا کوئی بندوبست کر دے۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواجہ برادران ضمانت کیس میں تاریخی فیصلہ دیا جس کے آخر پر لکھا کہ 

ظلم رہے اور امن بھی ہو

کیا ممکن ہے تم ہی کہو 

عالیہ نہیں عدالت عظمیٰ نے ایوب، یحییٰ، ضیاء، مشرف کی حکومتوں کو حلال سرٹیفکیٹ دیئے، جناب بھٹو سوالی نہ بنے اور سولی چڑھ گئے نواز شریف ملک بدر بھی رہے اور نا اہل بھی پھر قید بھی، بیٹی بھی قید ہوئی یوسف رضا گیلانی فارغ کر دیئے گئے، نواز شریف نکال دیئے گئے حالانکہ کبھی کوئی سرکاری ملازم بھی نہیں نکالا گیا۔ عام خیال یہ ہے کہ عدالت کے ان رریمارکس کے بعد نیب کا باقی رہنے کا کوئی اخلاقی، قانونی اور آئینی جواز نہیں۔ جہاں سو سے زائد اعلیٰ عدلیہ کے ایک بار ججز فارغ ہوئے تھے نیب کے محکمے کے لوگ سبھی فارغ یا سرپلس پول میں کچھ عرصہ رہتے۔ اس تفصیلی حکم کے بعد نیب ادارے کا اخلاقی، قانونی، آئینی جواز نہیں رہا۔بہرحال یہ نقشے پر ہے اور اس کا قبضہ بھی حکومت کے پاس ہے لہٰذا اس کا نقشہ ہی نہیں قبضہ بھی سچا ہے جبکہ کشمیر کے معاملے میں حکومت کا نقشہ سچا اور بھارت کا قبضہ جھوٹا ہے۔ مگر کشمیر کا مسئلہ انسانی بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔ بھارت کو ہوش نہیں ہونا چاہیے۔ بنگالی اگر ہم سے جدا نہ ہونا چاہتے تو دنیا کی کوئی طاقت مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش نہیں بنا سکتی تھی۔ پھر ہمارے فوجی قیدی بن گئے۔ مودی کھل نائیک کو علم ہونا چاہیے کہ کشمیری بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے کل کو اللہ نے چاہا تو اس کے فوجی کشمیر میں قیدی ہوں گے پھر معاہدہ شملہ نہیں معاہدہ سری نگر ہو گا۔


ای پیپر