مطالعے اور کتابوں کی دُنیا…!
11 اگست 2020 (00:03) 2020-08-11

1946ء میں مسلم لیگ کے دستور ساز اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب ارکان کے آل انڈیا کنوینشن  منعقدہ دہلی میں مشہور بنگالی راہنما اور متحدہ بنگال کے وزیزاعظم حسین شہید سُہروردی کی پیش کردہ قرارداد جسے قراردادِ دہلی کے نام سے پکارا جاتا ہے اور جس میں برصغیر جنوبی ایشاء کے شمال مشرق اور شمال مغرب میں واقع مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل  ایک ہی آزاد مسلم ریاست )پاکستان( کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس قراردادپر حسین شہید سُہروردی کی تقریر کے کچھ مزید اقتباسات  پیش کرکے کالموں کے اس سلسلے کو تمام کیا جاتا ہے۔ 

"کیا پاکستان ہمارا آخری مطالبہ ہے؟"

"یہ ایک سوال ہے جو ان دنوں کیا جا رہا ہے۔ میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش نہیں کروں گا لیکن یہ ضرور عرض کروں گا کہ پاکستان ہمارا تازہ ترین مطالبہ ہے۔ شروع میں ہندوؤں کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کا اس ملک سے کوئی تعلق نہیں، اس کے جواب میں مسلمانوں نے کہا کہ جس طرح ہندوستان ہندوؤں کا ہے اس طرح مسلمانوں کا بھی ہے۔۔۔۔ میں کانگرس کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ برسوں میں ہم نے ان کے ساتھ تعاون اور اشتراک کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ ہم نے کم سے کم مطالبات ان کے سامنے رکھے۔ ہم اس کے لیے بھی تیار تھے کہ ایک جمہوری دستور میں ہندوؤں کی عددی برتری کو تسلیم کر لیں لیکن انہوں نے ہمارے جائز مطالبات کو ٹھکرا دیا۔ ہماری ایک نہ مانی، اپنی ضد پر اڑے رہے۔ اب جبکہ آزادی اور اختیارات حاصل کرنے اور انتقال اقتدار کا مرحلہ درپیش ہے کانگرس اور ہندو یہ کہتے ہیں کہ مسلمان ہندو ایک قوم ہیں۔ آج مسلمانان ہند بیدار ہو چکے ہیں، اگر کوئی منصوبہ ان کی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا تو وہ اس کا مقابلہ کریں گے۔ کانگرس کے سیاسی نظریات کا اثر ہندو عوام پر نہیں پڑا ہے کانگرس صرف ہندوؤں کے اونچے طبقے کی نمائندہ ہے جو قابل ضرور ہیں لیکن باتونی اور چرب زبان زیادہ ہیں۔ ایک طرف تو وہ دھمکیاں دیتے ہیں اور اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں 

اور دوسری طرف وہ معصوم فاختہ بن جاتے ہیں"۔ 

"بہت  سے ایسے ہندو بھی موجود ہیں جو اپنے مصائب و آلام سے نجات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہندوؤں کے رویے سے تنگ آکر اچھوت بھی ان سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں۔ بنگال میں اڑھائی کروڑ اچھوت ہم سے تعاون کرنا چاہتے ہیں، ان کو یقین ہے کہ پاکستان کے قیام سے ان کے مصائب ختم ہو جائیں گے۔ اب انہیں کانگرس پر ہر گز یقین و اعتماد نہیں۔ بہت سے ایسے ہندو ہیں جو مسلم لیگ کو ذریعہ نجات سمجھتے ہیں اور پاکستان کو مظلوموں کی پناہ گاہ سمجھتے ہیں"۔ 

"میں یقین کے ساتھ کہوں گا کہ مسلمانان بنگال پاکستان کی جنگ کے لیے تیار ہیں۔ بنگال سے دہلی آتے ہوئے مجھے ایسے کئی صوبوں سے گزرنا پڑا جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ۔ میں نے وہاں کے مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ دیکھی ہے۔ انہوں نے مجھ سے یہ کہا کہ آپ ہمیں ہماری قسمت پر چھوڑ دیں لیکن اپنے صوبے میں پاکستان قائم کر لیں۔ تاکہ ہم اس خیال ہی سے اپنا سر بلند رکھ سکیں کہ ہمارے بھائیوں نے ایک آزاد مملکت قائم کر لی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے ہی شاہراہ آزادی کی طرف ہماری رہنمائی کی ہے اور ان کا یہ جذبہ قابلِ ستائش ہے کہ وہ حصول پاکستان کے لیے قربانیاں پیش کرنے پر آمادہ ہیں"۔ 

"میں ایمانداری اور خلوص کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ بنگال کا ہر مسلمان تیار ہے۔ ہم پاکستان سے کم کسی چیز پر رضامند نہیں ہوں گے"۔ 

"جہاں تک دفاع پاکستان کا تعلق ہے، کوئی ملک خواہ امریکہ اور برطانیہ ہی کیوں نہ ہوں وہ اکیلے مدافعت نہیں کر سکتے۔ ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ پاکستان حاصل کرتے ہی ہم جارحانہ کاروائیاں شروع کردیں گے۔ جہاں تک اس مسئلے کا تعلق ہے ہندوستان کے جارحانہ اقدامات کا پاکستان کس طرح مقابلہ کرے گا، میں کہتا ہوں ٓپ ہمیں تنہا چھوڑ دیں ہم اپنی حفاظت خود کر لیں گے۔ ۔۔ قائداعظم! آپ سے میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ ہمارا امتحان لیجئے، مسلمانان بنگال پاکستان کے حصول اور فتح کے لیے آپ کے حکم پر ہر قربانی کے لیے تیار ہیں"۔

مسٹر ُسہروردی کی پیش کردہ قرارداد کی تائید یوپی اسمبلی میں مسلم لیگ کے لیڈر چودھری خلیق الزمان نے کی۔۱۹۴۰کی قرارداد کی تائید بھی چودھری صاحب نے کی تھی۔ اس کنونشن سے خطاب کرنے والوں میں قائداعظم محمد علی جناح ،حسین شہیدسہروردی وزیراعظم بنگال، چودھری خلیق الزماں ، غلام حسین ہدایت اللہ (سندھ)، سید محمد سعد اللہ لیڈر مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی و وزیراعظم آسام ، سید عبدالروف مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی سی پی، نواب افتخار حسین ممدوٹ لیڈر مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی پنجاب، اسماعیل ابراہیم چند دیگر لیڈر مسلیم لیگ پارلیمانی پارٹی بمبئی، خان عبدالقیوم خان لیڈر مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی سرحد، جناب محمد اسماعیل لیڈر مسلم لیگ پارلیمانی  پارٹی مدراس ، مولوی لطیف الرحمٰن لیڈر مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی بہار ، بیگم سید اعزاز رسول (یوبی) ، سردار شوکت حیات خان (پنجاب)، ملک فیروز خان نون (پنجاب) ، بیگم شاہنواز (پنجاب) راجہ غضنفر علی خان (پنجاب) مولانا ابوالہاشم سیکرٹری بنگال مسلم لیگ شامل تھے۔ اس کنونشن میں مولانا ظفر علی خان، راجہ محمود آباد، سید حسین امام، مولانا حسرت موہانی اور بیگم مولانا محمد علی جوہر نے بھی شرکت کی تھی۔ یہ حضرات منتخب ارکان اسمبلی تھے۔ "قرارداد دہلی"کی اہمیت بھی "قرارداد لاہور"کے مقابلے میں بہت واضح تھی کہ اس میں پہلی بار ایک منزل متعین کی گئی اور واضح الفاظ میں اس پر کسی قسم کی سودے بازی یا گفت و شنید کے امکانات رد کردیے گئے۔ اس قرارداد میں کھل کر کہا گیا کہ بنگال ۔پنجاب سندھ، سرحد اور بلوچستان بلکہ آسام کا صوبہ بھی متوقع پاکستان میں شامل ہوگا اور وہ علاقے بھی پاکستان میں شامل ہوں گے جن کی سرحدیں متوقع پاکستان سے ملحق ہیں اور جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اس قرارداد کی رو سے مقرب میں سارنپور ڈویژن اور مشرق میں بہار کے تین اضلاع کو پاکستان میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قرارداد دہلی میں پنجاب اور بنگال کی تقسیم کی کوئی تجویز نہیں تھی۔ یہ قرارداد مکمل اور جامع تھی اور اس میں متوقع پاکستان کے جغرافیائی اور نظریاتی خدوخال واضح اور غیر مبہم تھے۔ اس قرارداد میں پاکستان میں جس نظام کو نافذ کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی وہ اسلامی نظام تھا۔ قرارداد اور دہلی کی اہمیت اس لیے مسلمہ ہے کہ اسے برصغیر کے مسلمانوں کے منتخب نمائندوں کی بھر پور حمایت حاصل تھی۔


ای پیپر