پنجاب میں ایڈمنسٹریشن صلاحیتوں کا فقدان: لاپروائی کی ایک اہم وجہ
11 اگست 2020 (00:01) 2020-08-11

پاکستا ن تحریک انصاف کی حکومت کو اقتدار میں آئے دو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا لیکن افسوس کے ساتھ یہ بات لکھنی پڑ رہی ہے کہ مرکز اور بالخصوص پنجاب میں ایڈمنسٹریشن نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کرونا وائرس کے خاتمے پر کرونا ایڈوائزری کمیٹی کے عہدیدار پروفیسر محمود شوکت نے کہا تھا کہ ہم حیران ہیں کہ یہ کیسے ختم ہو گیا ۔ بلا شبہ یہ غیبی قوت کا ہی کمال ہے ۔ایسے ہی پنجاب میں معاملات بھی اللہ کی مہربانی سے چل رہے ہیں ۔ اس کی تازہ مثال چینی و آٹے کے آسمان سے باتیں کرتے نرخ ہیں ۔ روزانہ ہی میڈیاپر وزیر اعلیٰ پنجاب کا بیان جاری ہوتا ہے کہ ہم آٹے و چینی کی قیمتوں میں استحکام لا رہے ہیں ، مہنگائی و ذخیرہ اندوزی کر نے والے مافیاز کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، لیکن کئی مہینے گذر جانے کے باوجود نرخ بڑھتے جا رہے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب کی پوری انتظامیہ مہنگائی و ذخیرہ اندوز مافیاز کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ 

گذشتہ دنوں ایک ایسا ہی سیکنڈل منظر عام پر آیا تھا کہ محکمہ خوراک پنجاب کی جانب سے فلور ملزکو یومیہ فراہم کی جانے والی17ہزار ٹن سبسڈائزڈگندم میں سے روزانہ 6ہزار ٹن سے زائد گندم پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی اوپن مارکیٹ میں فروخت یا اس سے تیار آٹے کی مہنگے داموں خیبر پختونخواہ ترسیل ہو رہی ہے ۔ جس کی وجہ سے پنجاب کی مارکیٹ میں سرکاری نرخوں پر آٹے کی وافر دستیابی ممکن نہیں ہو پارہی ۔ اس کے علاوہ محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کے بنائے گئے مانیٹرنگ سسٹم کرپشن کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں ۔ سبسڈائزڈ آٹے اور گندم کی مانیٹرنگ کے لئے بنائے گئے سافٹ وئیر میں بوگس کوائف اور موبائل فون نمبرزکے اندراج کی شکایا ت سامنے آئی ہیں۔ اسکے علاوہ ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں کے بارے میں بھی خفیہ اداروں کی جانب سے جو رپورٹ سامنے آئی 

ہے اس کے مطابق سٹاف فیلڈ میں جا کر چیکنگ کر نے کی بجائے فون پر اعداد و شمار لے کر رپورٹس کا پیٹ بھرتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں کی گندم چوری ہونے کے باوجود بھی سب اچھا ہے کی رپورٹ جاری کر دی جاتی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ آپ صرف اس ایک واقعے سے ایڈمنسٹریشن کی نا اہلی کا اندازہ لگا سکتے ہیں لیکن پنجاب میں اس جیسے بیسیوں واقعات روزانہ کی بنیادوں پررونما ہو رہے ہیں۔ 

پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے نام پر بھی ایسا ہی کرپشن کا بازار گرم ہے ۔ تمام مجسٹریٹ اور عملہ اپنی جیبیں بھرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر رہا ۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی مافیا پورے پنجاب میں اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہے ۔ حکومت کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے ۔ صوبے کی عوام جہاں پہلے ہی کئی اذیتوں میں مبتلا ہے مزید اسے مہنگائی مافیا کے سپرد کر دیا گیا ہے ۔ آٹے وچینی سمیت سبزیوں، پھلوں ، دالوں اور مصالحوں کے من مانے ریٹ وصول کئے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کے نوٹس لینے کے باوجود بھی ہر آنے والا دن عوام کے لئے خوفناک ثابت ہو رہا ہے ۔ پنجاب کے حکمرانوں کی لاپروائی اور ایڈمنسٹریشن صلاحیتوں کے فقدان کی وجہ سے وزیر اعظم کا نوٹس بھی مذاق بن کر رہ گیا ہے اور لوگ یہ کہتے نظرآتے ہیں کہ دعا کریں وزیر اعظم نوٹس نہ لے لیں ۔ کیونکہ وہ جس چیز کا بھی نوٹس لیتے ہیں اسے پھر ’’پر ‘‘ لگ جاتے ہیں ۔ 

قارئین کرام !وزیراعظم کے حالیہ دورہ لاہور میں انہیں بھی پنجاب میں ایڈمنسٹریشن کی ناکامی نظر آئی ہے اور جس کا انہوں نے اظہار کرتے ہوئے پولیس اور بیوروکڑیٹس کے اجلاسوںمیں بات کی ہے اور تبدیلیوں کا اشارہ بھی دیا ہے اور شاید آئندہ کچھ دنوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلوں کا آغاز بھی شروع ہو جائے ۔ لیکن یہ تبدیلیاں صرف چہرے بدلنے کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نہیں دے سکیں گی۔ جب تک صوبے میں ایڈمنسٹریشن کے تباہ شدہ نظام کو دوبارہ موثر نہیں بنایا جاتا ، جب تک کوئی تبدیلی کارگر ثابت نہیں ہو سکتی ۔   ایڈمنسٹریشن کے نظام کو فعال بنا نے میں سب سے بڑی ذمہ داری وزیر اعلیٰ کی ہوتی ہے ۔ لیکن ہمارے وزیرا علیٰ اس بارے انتہائی کمزور اور لاپروا ثابت ہوئے ہیں ۔ یہی وہ وجہ ہے کہ دو سال کا عرصہ گذر جانے کے باوجود تحریک انصاف کوئی بڑا کارنامہ سر انجام نہ دے پائی ہے۔ پولیس اور انتظامیہ میں کرپشن کا ریٹ بڑھ چکا ہے ۔سپاہی سے لیکر ایس۔ایچ۔او اور کلرک سے لیکر ڈی۔سے لگنے کے ریٹ مقرر ہیں ۔ کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں ہے اور جو کچھ ایماندار افسر ہیں وہ ان سارے معاملات میں گھبرائے ہوئے ہیں ۔جبکہ نالائق اور کرپٹ افسران ’’انی‘‘ مچائے ہوئے ہیں اور اس دور حکومت میں ان کی عید ہے ۔

قارئین محترم ! مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ جناب بزدار صاحب کے ہوتے ایڈمنسٹریشن بہتر ہو سکے اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کچھ ڈلیور کر سکے ۔ہاں ! اتنا ضرور ہے کہ عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے یہ تحریک انصاف کے ووٹوں میں کمی ضرور کر دیں گے ۔ میں نے بطور صحافی پنجاب میں شہباز شریف کی بھی ایڈمنسٹریشن دیکھی ہے ۔ اجالا ہوتے ہی خود فیلڈ میں نکلنا بلکہ بیوروکریٹ نامی بابوئوں کو بھی اجلاس میں حاضر ہونا ہوتا تھا۔ اتوار بازاروں میں آٹے کے وافر تعداد میں ٹرک موجود ہوتے تھے۔ ہر محکمے کے ہر افسر کو ڈنڈے کا ڈر ہوتا تھااور یہی ڈر انہیں کام کر نے پر مجبور کرتا تھا۔اگر تو وزیر اعظم پاکستان عمران خان پنجاب میں کچھ ڈلیور کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ضرورت ہے کہ اپنے بزدار صاحب میں ایڈمنسٹریشن صلاحتیںپیدا کی جائیں ۔ اگرخدانخواستہ معاملات ایسے ہی چلتے رہے تو کوئی بعید نہیں آئندہ انتخابات میں پنجاب کی عوام اپنے غم و غصے کے علاوہ تحریک انصاف کو کچھ اور دے سکیں۔اللہ کرے ایسا نہ ہو!!!


ای پیپر