تضادات کی دنیا
11 اگست 2018 2018-08-11

قول و فعل کا تضاد ہماری رگوں میں سرائت کر چکا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں اظہار پاتا ہے۔۔۔ اسے دیکھا جا سکتا ہے اور محسوس بھی کیا جاتا ہے۔۔۔ ذاتی زندگیوں میں یا قومی سطح پر اس کے پائے جانے کے احساس و ادراک یا شعور کی کمی بھی نہیں ۔۔۔ ہمارے علماء اپنے اکثر وعظوں میں اور مضامین یا کتابیں جو وہ تحریر کرتے ہیں قرآن مجید کی اس آیت کریمہ کے معنی اور مفہوم سے آگاہ کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ہرگز یہ بات پسند نہیں کہ تم اس بات کا پرچار کرو جس پر خود عمل نہیں کرتے۔۔۔ اہل دین کی جانب سے یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ قول و فعل کا تضاد منافقت کی طرف لے جاتا ہے اور منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا کتاب حکیم میں ارشاد ہے کہ دوزخ کے سب سے نچلے درجے میں پھینک دیے جائیں گے یعنی ان کا مقام کفار سے بھی نچلا ہو گا۔۔۔ صرف علماء پر اکتفا نہیں وہ صاحبان علم و دانش جنہوں نے دنیوی علوم سے روشنی فکر و طبع حاصل کی ہے۔۔۔ فلسفیوں کی کتابیں پڑھ رکھی ہیں، قوموں کے عروج و زوال پر نظر ہے یا دوسرے معاشرتی و سائنسی علوم سے آگاہی رکھتے ہیں وہ بھی ہمیں یہ باور کرانے میں پیچھے نہیں رہتے کہ قول و فعل کا تضاد افراد اور معاشروں کو دیمک کی طرح چاٹتا رہتا ہے وہ دوسروں کے مقابلے میں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔۔۔ پیچھے رہ جاتی ہیں۔۔۔ یہ تضاد اپنے ساتھ کئی دوسرے معاشرتی اور اجتماعی عوارض کو لے آتا ہے اور ان بیماریوں کا شکار قومیں بالآخر اغیار کی محتاج بن کر رہ جاتی ہیں۔۔۔ خواہ پھیپھڑوں کے جتنے زور کے ساتھ اور فلک شگاف نعرے لگاتی رہیں۔۔۔ ہم صحافیوں کا تو یوں کہیے پیشہ ہی یہ ہے۔۔۔ ہم اخبارات کے صفحوں اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر سیاستدانوں کے قول و فعل کے تضادات کو نمایاں کرتے ہیں بلکہ ان کے منہ پر دے مارتے ہیں۔۔۔ مگر خود اپنے گریبانوں میں جھانک کر نہیں دیکھتے کہ اپنی زندگیوں میں دو عملی اور پیشہ ورانہ اظہار میں غلط بیانی کا شکار کیوں ہوتے ہیں۔۔۔ سرکاری و غیر سرکاری ملازمتوں اور کارباری دنیا میں آجائیے یہاں جو رشوت کا لین اور دین ہوتا ہے بڑے بڑے غبن ہوتے ہیں۔۔۔ کاروباری فراڈ کیے جاتے ہیں ان سب کے پیچھے قول و فعل کا تضاد اپنی کارکردگی دکھا رہا ہوتا ہے۔۔۔ نیچے اترئیے۔۔۔ ذاتی زندگیوں میں ہمارے یہاں با استثنائے چند جس زبان سے کلمے کا ورد ہوتا ہے اسی سے کثرت کے ساتھ جھوٹ بولا جاتا ہے۔۔۔ طرفہ تماشا یہ کہ ہم میں سے جو جس ہوشیاری بلکہ چالاکی اور عیاری کے ساتھ اپنے جھوٹ کو چھپانے یا اسے سچ بنا کر پیش کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کام نکال لیتا ہے اتنا ہی صاحب عقل اور کامیاب سمجھا جاتا ہے۔۔۔ اس سب پر مستزاد یہ کہ ہم میں سے شاید کوئی ہو جو قول و فعل کے اس تضادوالے مرض واقف نہ ہو اسے پرلے درجے کی برائی یا سب سے بڑا معاشرتی روگ نہ سمجھتا ہو۔۔۔ مگر اپنی ذات کو منزہ اور دوسروں کو مبتلا سمجھتا ہے اور ذاتی رقابت، رنجش یا عناد کی بنا پر سامنے والے پر اس کی خوب طعنہ زنی کرتا ہے۔۔۔ جس طرح ہم یا ہمارے سیاسی و غیر سیاسی، صحافی یا غیر صحافتی ادارے اپنے علاوہ دیگر سب کو کرپشن کی مے آب میں غرقاب پاتے ہیں۔۔۔ صبح و شام بدنام کرتے ہیں لیکن اپنی ذات اور ادارے کو شفاف سمجھتے ہیں یا باور کرانا چاہتے ہیں اس کے نتیجے کے طور پر ’کرپشن کرپشن‘ کا آزمودہ ہتھیار مخالف یا ناپسندیدہ سیاستدانوں کو گرا دینے کے لیے تو ہاتھ میں آ گیا ہے لیکن کرپشن کی جڑیں اسی طرح مضبوط ہیں جس طرح کل تھیں۔۔۔ اسی طرح قول و فعل کا تضاد باوجود اس کے کہ ہم میں سے ہر کوئی اسے برا سمجھتا ہے معاشرتی رگ و پے میں اتر چکا ہے۔۔۔ اس کا کوئی علاج ہمارے دنیوی حکماء اور بڑے بڑے صاحبان قلم و بیان یا اہل دین و ایمان کے پاس نہیں۔۔۔ یا ایسا ہے کہ وہ خود اس عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں لہٰذا اندر کا چور کچھ کرنے کے قابل نہیں رہنے دیتا الٹا ہم پر الزام بازی (Blame Game) کا کلچر چھا گیا ہے۔۔۔ جسے نہایت کامیابی کے ساتھ لڑائی کا ہتھیار بنا لینے کا حسب توفیق فائدہ اٹھایا جاتا ہے یوں اپنی مضبوط پوزیشن سے کام لے کر دوسروں کے سروں پر خاک ڈالنے والے افراد اور ادارے کو رگید کر دینوی دوڑ میں آگے نکل جاتے ہیں یا اپنا تفوق قائم کر لیتے ہیں۔۔۔ مگر قوم خسارے میں رہتی ہے۔۔۔ پاکستان کا کچھ ایسا ہی حال ہے۔۔۔ 

لیکن آج کی معروضات کا اصل مقصد کرپشن یا قول و فعل کے تضاد کی مختلف پرتوں کو واضح کرنا نہین راقم یہ تمہید باندھ کر ایک اور روگ کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہے جو اگرچہ قدرے نیا ہے مگر تیزی سے اثرات دکھا رہا ہے یہ ہے قول اور قول کا تضاد۔۔۔ ہم صحافیوں کی مثال لے لیجیے۔۔۔ ایک خبر، تبصرہ یا تجزیہ وہ ہوتا ہے جو ہم اخبارات کے صفحوں یا ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر آ کر پیش کرتے ہیں۔۔۔ اور ایک ہمارا وہ قول ہوتا ہے جسے ہم نجی محافل، ڈرائنگ روم کی بیٹھکوں اور دوسرے با خبر یا مقتدر و معتبر افراد کے ساتھ چائے اور کافی یا کھانے وغیرہ کی محفلوں میں شریک ہو کر پیش کرتے ہیں جو زیادہ حقیقی ہوتا ہے۔۔۔ خبر کے بارے میں اصل معلومات کا تبادلہ کرتے 

ہیں۔۔۔ تجزیہ پیش کرتے وقت ایسے طاقتور اور فیصلہ کن عوامل کا کردار زیر بحث لاتے ہیں جو حالات کا رخ موڑ کر رکھ دینے کے پیچھے کارفرمائی دکھا رہے ہوتے ہیں۔۔۔ ان کے بارے میں کئی چھپے راز ہوتے ہیں جن سے نہایت درجہ باخبر صحافی مقتدر حلقوں میں اپنی اپنی پہنچ کی حد تک واقف بھی ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن ان سے اخبارات کے ذریعے یا ٹیلی ویژن پر آ کر پڑھنے اور دیکھنے والے کو آگاہ نہیں کرتے۔۔۔ سچ کو چھپا کر رکھنا کبھی ہماری ذاتی مجبوری ہوتا ہے کبھی مجبوری ہم پر مسلط کر دی جاتی ہے۔۔۔ لیکن نہایت راز داری والی گپ شپ کی محفلوں میں جب شریک ہوتے ہیں تو وہ اور ایسے دوسرے کردار خاصی حد تک ہماری زبانوں پر آتے ہیں جنہیں حقیقی خبر یا واقعے کے پیچھے کارفرما اصل عامل اور فیصلہ کن دماغ کہا جا سکتا ہے۔۔۔ اس کے بارے میں دوسرے اور باخبر شرکائے محفل کو معلومات دیتے بھی ہیں حاصل بھی کرتے ہیں۔۔۔ تاہم جب اس تمام اثاثے کے ساتھ اخبارات یا ٹیلی ویژن کے دفاتر میں خبر ایڈیٹ کرنے بیٹھتے ہیں۔۔۔ متن تیار کرتے ہیں۔۔۔ سرخیال نکالتے ہیں۔۔۔ چٹخارے دار کالم لکھتے ہیں جملہ بازی کے فن شریف کا مظاہرہ کرتے ہیں۔۔۔ ٹیلی ویژن کی فوٹیج بناتے ہیں ۔۔۔ پٹیاں لکھتے ہیں۔۔۔ ان کے جملے وضع کرتے ہیں۔۔۔ رواں تبصرے نشر کرتے ہیں یا پروگراموں میں صاحبان خبر و نظر کا روپ دھار کر تازہ ترین واقعات کے بارے میں آراء اور تجزیے پیش کرتے ہیں۔۔۔ تو سب کچھ کھوکھلا رہ جاتا ہے۔۔۔ بڑی حد تک معروضیت سے خالی ہوتا ہے کیونکہ اس میں اصل اور تہہ کے نیچے چھپی ہوئی خبر کا فقدان ہوتا ہے۔۔۔ قاری یا دیکھنے والے کو صحیح معنوں میں باخبر نہیں کیا جاتا ہے بلکہ اسے بڑی حد تک بے خبر رکھنے کی سوچی سمجھی کوشش کی جاتی ہے ۔۔۔ خبر کے پیچھے جو اصل خبر ہوتی ہے اسے کئی مرتبہ فن کاری کے ساتھ اور کئی بارے بھونڈے طریقے سے چھپا لیا جاتا ہے۔۔۔ اخبار کے قاری یا ٹیلی ویژن دیکھنے والے کو فریب نظر میں مبتلا رکھا جاتا ہے حالات کے زور یا ان کی نامیاتی قوت کی بنا پر بڑے اور اصل عامل کا ذکر کرنا مجبوری بن جائے تو بین السطور کے تحریری فن کی آڑ لی جاتی ہے یا زیر لب کہہ کر آگے نکل جاتے ہیں چنانچہ بڑے بڑے واقعات ہو گزرتے ہیں۔۔۔ حکومتیں بنتی ہیں۔۔۔ ٹوٹتی بھی ہیں۔۔۔ صحیح تر الفاظ میں بنائی جاتی اور توڑ کر رکھ دی جاتی ہیں کون بناتا اور کون توڑتا ہے۔۔۔ سب کو معلوم ہوتا ہے نام نہیں لیا جاتا۔۔۔ اگرچہ انتخابات جیتے اور ہارے جاتے ہیں دھاندلیوں کا بھی بہت شور اٹھتا ہے۔۔۔ قومی ناکامیوں کا سارا قصور سیاستدانوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔۔۔ بڑے قومی ڈرامے کے پردے کے پیچھے بیٹھا اصل کھلاڑی جو کھیل کھیل رہا ہوتا ہے اس کا حقیقی روپ ہم سے دکھایا نہیں جاتا ۔۔۔ سہم جاتے ہیں۔۔۔ خوف کھاتے ہیں۔۔۔ مصلحت سے کام لیتے ہیں یا وہ جن کی بڑے بڑے معاوضوں پر ملازمت کر رہے ہوتے ہیں ان کے مفادات آڑے آجاتے ہیں اصل وجہ جو بھی ہے نتیجہ قول اور قول یا اصل اور بناوٹی خبر میں پائے جانے والے تضاد کا یہ ہے کہ عوام جو بڑے شوق سے اخبار پڑھتے ہیں اور خصوصی انہماک کے ساتھ فارغ وقت کا زیادہ حصہ ٹیلی ویژن دیکھنے پر لگا دیتے ہیں سامنے پیش آنے والے واقعے اور تازہ ترین قومی معاملات کی تہ میں چھپی ہوئی حقیقت سے بے خبر رہتے ہیں۔۔۔ حد یہ ہے اگر غیر آئینی عناصر کے سیاسی معاملات زیر بحث یا نوک قلم پر آ بھی جائیں تو ان کا جواز پیش کرنے پر اتر آتے ہیں۔۔۔ یحییٰ خان کے حق میں کتنے کالم لکھے گئے اور اداریے تحریر ہوئے۔۔۔ آج نام لینے کے بعد کلی کر کے منہ دھو لیا جاتا ہے۔۔۔ کیا ہم صحافی اپنے پیشہ وارانہ فریضے اور قومی ذمہ داری کی ادائیگی سے غفلت بلکہ جرم کے مرتکب نہیں ہو رہے۔۔۔ اگرچہ سوشل میڈیا نے اگرچہ تھوڑا سا فرق ڈالا ہے۔۔۔ بہت سی باتوں کو اچھالا جاتا ہے جن کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ذکر تقریباً ممنوع سمجھا جاتا ہے۔۔۔ لیکن اس میں بھی حق یا مخالفت میں اتنا مبالغہ کر دیا جاتا ہے کہ اصل بات بہت کچھ سامنے آنے کے باوجود چھپی کی چھپی رہتی ہے۔۔۔ سوشل میڈیا کی صحافت میں چونکہ کچا ذہن بھی شامل ہو گیا ہے جس کے ہاتھ میں موبائل ہے وہ اپنے آپ کو کم درجے کا صحافی یا تبصرہ نگار نہیں سمجھتا لہٰذا قول اور قول کا تضاد یہاں بھی اپنے جوہر دکھاتا ہے۔ 

بات چل نکلی ہے تو قومی تاریخ اور اس سے جڑے ہوئے حال سے منسلک ایک اور تضاد کا ذکر بھی ہو جائے۔۔۔ جو بات 1953ء ، 1955ء، 1958ء، 1977 ء اور 1999ء وغیرہ کے سالوں میں سچ نظر آتی تھی۔۔۔ یا سچ بنا کر دکھائی جاتی تھی آج کھلم کھلا جھوٹ کا درجہ رکھتی ہے۔۔۔ ملک غلام محمد، سکندر مرزا، ایوب خان، جنرل یحییٰ، مجیب و بھٹو ، ضیاء الحق، بے نظیر نواز شریف سب کے بارے میں ان ادوار میں جو سچ بولے یا لکھے جاتے تھے آج بالاتفاق جھوٹ جانے اور سمجھے جاتے ہیں ملک غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کو بر طرف کیا حالانکہ دو روز پہلے دستور ساز اسمبلی ان کے حق میں اعتماد کی تحریک منظور کر چکی تھی تو قائداعظمؒ کے ساتھی اس سیاستدان کی نا اہلی کے کیا کیا پرت نہیں کھولے گئے ان کے بارے میں کیا کیا لطیفے وضع کر کے نہیں پھیلائے گئے 1953ء کی تحریک ختم نبوت کا ایک ہدف یہ مرد مومن بھی تھا ان سے قبل ملک کے سب سے پہلے اور منتخب وزیراعظم کی بیگم کے ہندوستان والوں سے خفیہ تعلقات کے بارے میں کیا کیا افسانے رقم نہ کیے گئے۔۔۔ ایک ہی ذہن ہے جو تب بھی کار فرما تھا آج بھی اپنی جولانیاں دکھا رہا ہے۔۔۔ آج آپ تقریباً ہر دانائے راز کے منہ یا قلم سے یہ فقرہ سنیں گے کہ خواجہ ناظم الدین سے وزارت عظمیٰ کا منصب نہ چھین لیا جاتا تو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی شروعات نہ ہوتیں۔۔۔ 1954ء میں ملک غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑ ڈالی۔۔۔ ٹیلی ویژن تو ہوتا نہیں تھا لیکن اخبارات میں گورنر جنرل کے اقدام کے حق میں کیسے کیسے زور ادایے نہ لکھے گئے۔۔۔ اس کی فراست اور بطور مدبر بروقت حکمت عملی کے گیت گیت کس نے نہ گائے۔۔۔ ذرا اس دور کے اخبارات کی فائلیں اٹھا کر دیکھ لیجیے۔۔۔ آج کہا جاتا ہے یہ شخص مغلوب الغضب تھا۔۔۔ ذہنی مریض تھا۔۔۔ یہاں تک کہ مفلوج اور خرافات بکتا رہتا تھا۔۔۔ یہ جاننے کے لیے صرف شہاب نامہ کے ورق الٹا لیجیے میں یہ نہیں کہوں گا کہ خود قدرت اللہ شہاب نے اس کے دور میں کیا کیا تعریفی اسناد رقم نہ کی تھیں۔۔۔ کیونکہ موصوف ان کے سٹاف میں شامل تھے تب انہیں محمد کا غلام لکھ ڈالا یہی حال بعد میں آنے والوں کا ہے۔۔۔ اس عہد میں ایک چیف جسٹس منیر ہوا کرتے تھے ۔۔۔ نظریہ ضرورت کے موجد اور مصنف تھے۔۔۔ آمریتوں کو اس کی وجہ سے دوام ملے۔۔۔ آج اس نظریہ ضرورت اور اس پر مبنی فیصلوں کی جی بھر کر مذمت کی جاتی ہے۔۔۔ ہر کوئی اپنی دانش بھگارنے میں لگا رہتا ہے لیکن یاد کیجیے اس وقت کو جب جسٹس منیر فیصلے صادر کر رہا تھا اور شاید اپنے وقت کا کوئی بے وقوف ہو گا۔۔۔ جو اس جج کی جرنیل پروری پر قلم اٹھانے کی جرأت رکھتا ہو آج بھی اس کا نظریہ ضرورت نئے روپ میں جلوہ گر ہے ایک کے بعد دوسرا نادر روزگار فیصلہ آ رہا ہے۔۔۔ ’رحمتیں‘ برس رہی ہیں۔۔۔ جسٹس منیر مرنے کے باوجود زندہ ہے۔۔۔ جنرل ایوب کی وراثت بھی اس کی روح کو خوش رکھنے میں کمی نہیں آنے دیتی۔۔۔ مگر جو مر گیا وہ برا ہے جو زندہ ہے اس کے بارے میں اندر سے ہی اتھنے والی آواز کو دبا کر رکھ دینے کے لیے کیا پاپڑ نہیں بیلے جا رہے۔۔۔ ہاں اتنی تبدیلی ضرور آئی ہے کہ آوازوں کا گلا دبا کر رکھ دینا پہلے کی مانند آسان ثابت نہیں ہو رہا اور آج کا خواجہ ناظم الدین !


ای پیپر