تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی 
11 اگست 2018 2018-08-11

جمہوریت کا سفر جاری ہے۔ وکھری ٹائپ کی جمہوریت ہے۔ انتخابی عمل سوالات سے بھرا پڑا ہے۔ مسترد شدہ ووٹوں کی پراسرار کہانی جابجا سراٹھا رہی ہے۔ شفافیت کے دعوے دھند لاچکے ہیں۔ بننے سے پہلے ہی وزیراعظم کو ضابطے کی کارروائی سے پہلے پروٹوکول اور سکیورٹی فراہم کی جاچکی ہے!آزاد پرندے ٹوکری تلے ڈال کر گنتی فراہم کرکے وزیراعظم گویا بن چکے! اپنے لیے سادہ رہائش گاہ کی تلاش میں نگہ انتخاب پنجاب ہاؤس پر جاٹھہری ۔ تاہم اس کے پر تعیش ہونے کی بھی ہوشربا تفاصیل سامنے آگئی ہیں۔ (دی نیوز۔ انصار عباسی، 9اگست) ۔عوام بیچارے کیا جانیں!شاہی، شہنشاہی نوعیت کی یہ تین منزلہ عمارت ایک ایسا عشرت کدہ ہے جو پبلک بلڈنگز میں سب سے بڑھ کر ہے۔ آرائش وزیبائش جھاڑ فانوس، قیمتی ترین فرنیچر اور قالینوں ، درودیوار پر آویزاں مہنگی ترین پیٹنگز اور تعیشات میں وزیراعظم ہاؤس کو شرماتی ہے۔ آپ نے کیا سمجھا۔ ہمارے وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کوئی ٹٹ پونجیئے تو نہیں کہ سادہ عمارات میں، (ابوبکرؓوعمرؓ نہ سہی ) 10ڈاؤننگ سٹریٹ کے سے فلیٹوں میں جارہیں۔ 300کنال کے فارم ہاؤس سے نکل کر آخر ایٹمی پاکستان کا وزیراعظم کسی دھماکہ خیز کمال و جمال والی رہائشگاہ کا حق دار تو ہے ہی !وزیراعظم ہاؤس کا سکیورٹی کا بجٹ 980ملین ہے۔ سو ابھی تو حساب باقی ہے کہ جمہوریت کا وزیراعظم عوام (60فی صد خط غربت سے نیچے بیٹھے) کو بالآخر کتنے میں پڑے گا۔ Of the people, by the people for the people۔ والی جمہوریت عوام کو پیپل کے درخت کے تلے بٹھا کر فی الحال تو مکان تلاش کر رہی ہے۔ تاہم آف کے ہجے انتخابات کے بعد، Off، ہوجاتے ہیں۔ (یعنی گل کردیئے جاتے ہیں ) بائی کے ہجے buy، کرنے پڑتے ہیں۔ گنتی پوری کرنے کے لیے (خریداری) آزاد ارکان کی بولی لگنی تو ناگزیر مجبوری ہے۔ نظریۂ ضرورت کے تحت وژن والوں کو بھی حکومت سازی اسی طرح کرنی ہوتی ہے۔ اب ایسے میں اگر کوئی (Nastalgic)یاد ماضی کا اسیر ہوکر 1400سال پیچھے لوٹ کر اس حکومت کو دیکھے جہاں خوشحالیوں کا دوردورہ تھا۔ (آخر عمران خان نے مدینہ کی فلاحی ریاست کا تذکرہ تو کیا تھا۔ اپنے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے) سیدنا عمرؓ کے دور میں جہاں نہ ورلڈ بینک تھا نہ آئی ایم ایف کے آگے دھرا کشکول ۔ تین براعظموں پر محیط سپرپاور تھی۔ زکوٰۃ دینے نکلتے تھے تو لینے والا نہ ملتا تھا۔ (آج آٹا بانٹنے نکلیں تو ٹرک لوٹ لیے جائیں، بلوہ ہوجائے۔ لوگ مارے جائیں لاٹھی چارج ہو !)سید ناعمرؓ کے گورنر شام ابوعبیدہ بن جراحؓ تھے۔ (چارملکوں پر محیط صوبہ یعنی لبنان، شام، اردن، فلسطین، مکمل بشمول مقبوضہ علاقہ یادرہے کہ چیف جسٹس صاحب نے بھی پچھلے دنوں عمرفاروقؓ جیسا حکمران مانگا تھا۔ سیدنا عمرؓ دورے پر گئے۔ دن بھردونوں، امیرالمؤمنین اور گورنر امور مملکت دیکھتے رہے۔ شام ہوئی تو عمر فاروقؓنے گورنر ہاؤس دیکھنے جانے کی خواہش کی کچھ پس وپیش کے بعد ابوعبیدہؓ انہیں لے چلے۔ شہر سے باہر (فارم ہاؤس ہوگا۔ ؟) جاکر کہیں ایک حجرہ آیا !پروٹوکال اور ہٹو بچو والے کتنے باراتی ساتھ تھے ۔؟ مملکت اسلامیہ کے دوانمول ہیروں کا تحفظ؟ جن کا بدل کوئی نہ تھا۔ ایک امیرالمومنینؓ دوسرے امین الامتؓ ، دونوں عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ (وہ دس صحابہؓ جنہیں جنت کی بشارت زبان رسالتؐ سے ملی !)تن تنہا چلے جارہے تھے !حجرے کی ’فرنشنگ‘ کیا تھی ؟ جبکہ روم اور ایران کے بے بہا خزانے قدموں تلے دولت کے دریا بہارہے تھے۔ شیربکری ایک گھاٹ پانی پی رہے تھے۔ سونے اچھالتے نکل جائیے ایک خدا کے سوا کسی کا خوف نہ تھا ! فرش پر بچھا معمولی بستر اور بھاں بھاں کرتا خالی گورنر ہاؤس۔ (ہمارا وزیراعظم ہاؤس 135ایکڑ پر ہے) اب ’ڈنر ٹائم‘ ہوچکا تھا۔ میزبان گورنر نے لکڑی کی ٹہنیوں سے بنی چھت میں سے ہاتھ اونچا کرکے ( قد8فٹ نہیں تھا !)ایک پیالہ نکالا۔ دستر خوان پر رکھا۔ معذرت کی کہ امور مملکت اتنی ہی فرصت دیتے ہیں کہ کھانے کا اہتمام کرسکیں۔ ایک بڑھیا سے طے کردہ روٹی صبح مل جاتی ہے۔ اس کے ٹکڑے پانی میں بھگو کررکھ جاتے ہیں تاکہ سوکھ نہ جائے۔ رات کو واپس آکر یہی تناول فرما لیتے ہیں۔ سو آج غیرمتوقع مہمان کی تواضع کو بھی یہی کچھ ہے۔ اور یوں چشم فلک نے نب�ئ معظمؐ کے 

ان دومحبوب (سجود ملائک اور اشرف المخلوقات ہونے کے لائق ) اصحاب کو دیکھا جنہوں نے اپنا وی وی آئی پی ہونا آخرت کے لیے اٹھا رکھا تھا۔ قطرے برابر حقیر دنیا میں شان وشوکت کو قیصر وکسریٰ کے لیے چھوڑ دیا۔ خود دائم جنت کی طلب میں اپنے عوام کو برسرزمین جنت کی سی راحتیں ۔ امن اور آسودگی فراہم کی۔ خودروکھی سوکھی پر اکتفا کیا !یہاں کشکول بدست مملکت کے صدارتی وزارتی گھوڑوں اور کتوں کے سیب کے مربعوں اور گوشت کا بجٹ لاکھوں سے باتیں کرتا ہے۔ لوگ دوردور کی کوڑیاں لاتے ہیں کہ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیوں کیا۔ خراسان سے کیا خطرہ تھا؟ پورے علاقے کو تہس نہس کیوں کیا ؟ ۔ یاد کیجئے ملاعمر کا دور۔ نفاذ شریعت ۔ فرزند اقبال، جسٹس جاوید اقبال مرحوم افغانستان سے  

اس دور میں ہوکر آئے تو کہنے لگے کہ (طالبان دور میں ) یہ نظام جو افغانستان میں قائم ہے اگر دوچار اور مسلم ممالک میں قائم ہوگیا تو ساری دنیا مسلمان ہوجائے گی۔ یہ گواہی کسی ملا کی نہیں !آج جو امریکہ سیاسی اسلام پر غضب ناک ہوکر ٹوٹ پڑتا ہے، اس کی وجہ حکمران اسلام کی یہی کشش ہے۔ عمر فاروقؓتا ملا عمرؒ کی مثالی حکمرانی کا خوف ہے جو دنیا کے استحصالی سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔ خلافت جس میں حکمران زبردستی کرسی پر بٹھائے جاتے ہیں۔ کروڑوں کی رعایا کے حقوق کا تحفظ اور اللہ کے آگے جواب دہی کا خوف عمرؓ جیسے جری، شیر دل حکمران کو پہروں رلاتا ہے۔ کیوں چن چن کر دنیا سے خلافت، شریعت کا خواب دیکھنے یا اس پر لب کشائی کرنے والوں پر زمین تنگ کردی گئی ؟ یہ جمہوری شہنشاہوں کی شان وشوکت کے دشمن ہیں۔ چاہتے ہیں سلمان فارسیؓ جیسے گورنر ہوں جو گدھے پر بیٹھے، مزدوروں کی سی ہیئت رکھتے ہوں۔ جنہیں مزدور سمجھ کر کوئی اجرت طے کرکے گھاس کا گٹھا سرپر رکھوادے تو اپنا 

تعارف بھی نہ کروائیں۔ گٹھا اٹھا کر چل پڑیں۔ جب کوئی پہحان کر روہانسا ہو جائے کہ یہ تو سلمان فارسیؓ ہیں (گورنر ہونے سے بھی بڑی بات تو یہ تھی !)تو مصر رہیں کہ حرج ہی کیا ہے۔ اب تو مزدوری طے ہوگئی گٹھا اٹھانے سے پہلے بھی سلمانؓ تھا اب بھی سلمانؓ ہی ہوں!سید قطب ؒ بجاکہتے ہیں۔ ان کو چاہیے امریکی اسلام، وہ اسلام جو وضو، طہارت کے مسئلوں پر تو خوب خوب بات کرے لیکن مسلمانوں کے سیاسی معاشی سماجی مسائل پر زبان بند رکھے۔ یاد رہے کہ نبیؐ نے جس اسلام کی دعوت دی۔ (جس پر یہ 14اگست والا پاکستان قائم ہوا۔ لاالہ الا اللہ ) وہ صرف ٹھنڈا میٹھا وعظ نہ تھا۔ نرم، شیریں، نصیحتیں نہ تھیں۔ امن، خدمت خلق ، اخلاق، عبادات تک محدود نہ تھا کہ دنیا کی باگ ڈور، نظام زندگی کفر کے ہاتھ میں ہو ۔ اسلام چھوٹے سے خانے میں محدود محبوس رہے۔ صرف انفرادی تزکیہ نہیں ۔ غالب قوت سے دبنے، دولت واقتدار سے مرغوب ہونے والے، اس کے اسیر ہونے والے نہیں ۔ بہادر۔ بے باک۔ باشعور ۔ خوردار ،ذہین فعال لوگ ۔ نظام اجتماعی کو منشائے ربی (قرآن وسنت) کے مطابق سرتاپا درست بنیادوں پر استوار کردینے والے انقلاب کے داعی۔ اخوان، حماس، سیاسی اسلامی قوتیں ہرمسلم ملک میں نظام کفر اور اس کے آلہ کاروں کے لیے خطرے کی علامت ہیں۔ یہاں ابھی چھ ہزار تو صرف تصاویر ہیں جو تمام دفاتر ہائے مملکت خداداد میں لگائی جائیں گی تاکہ اگر وزیراعظم دفتر جائیں تو تصویر سے مطابقت دیکھ کر پہچانے تو جاسکیں! کتنی بڑی مجبوری ہے! یہ 2500سال پرانا نظام زندگی گورا یونان روم کے کھنڈرات سے نکال کر جاری کرسکتا ہے لیکن 1400پرانی کوثروتسنیم سے دھلی شفاف آسمانی تہذیب کی بات قدامت پرستی ہے ؟ جبکہ نبیؐ (سراج منیرؐ) سورج کی روشنی، بادل بارش ، ہوا کی طرح پوری دنیا کو حیاتِ نور دینے آئے تھے !ووٹ والے سیاستدان، انگلی والے ایمپائر، ہتھوڑے والے جج، کلف لگے سول سرونٹ، ریٹنگ والا میڈیا ۔ سب عالمی نظام ہی کا حصہ ہیں۔ آباء سے کوئی نسبت ہونہیں سکتی !


ای پیپر