میرا وطن!
11 اگست 2018 2018-08-11

چودہ اگست ہماری قومی زندگی کا سب سے یادگار دن ہے۔ اس کی عزت اس کی اہمیت، آزادی کی جنگ لڑتے کشمیریوں اور فلسطینیوں سے پوچھیں تو معلوم ہو، یہ دن محض ایک دن ہی نہیں، اک نعمت ہے، جس نے ہماری نسلوں کو آزادی کی فضاؤں میں پلنے بڑھنے کا موقع دیا۔ ہمارے بوڑھوں کو عزت سے جینے اور مرنے کا حق دیا۔ ہمارے جوانوں کو روشن مستقبل دیا۔ یقین نہیں آتا تو غزہ کی پٹی کے محصورین سے پوچھیں یا پھر اپنے پہلو میں کھڑے کشمیریوں سے جو صبحِ آزادی کی قیمت تین نسلوں کی قربانیوں سے چکانے کے بعد بھی پیلٹ گنوں کے چھروں سے لہو لہو بصارتیں لئے میرے وطن میرے وطن کے نغمے الاپ رہے ہیں۔مجھ پر میرے وطن کی اہمیت کا راز پہلی دفعہ دلی کی جامع مسجد کے پہلو میں ایک چھوٹی سی دکان کے اندر بیٹھے پڑھے لکھے مسلمان زرگر نے یہ کہہ کر کھولا ’’شکر کریں میڈم آپ پاکستان میں پیدا ہوئیں، یہاں ہوتیں تو دوسرے درجے کی شہری ہوتیں، نہ اعلیٰ ملازمت پر آپ کا اختیار ہوتا نہ اچھا کاروبار ہی آپ کو نصیب ہوتا، جتنا پڑھ لکھ جاتیں زیادہ سے زیادہ میری طرح کوئی چھوٹی موٹی دکان پرانی دلی میں کھول لیتیں، یا پھر کاری گر بن جاتیں‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی تین ڈگریاں مجھے نکال کر دکھائیں جن میں ایک ایم اے فلاسفی، ایم اے انگلش اور ایک ٹیکنیکل ڈگری تھی۔

یہ پہلا فخر تھا جو مجھے اپنی قومی زندگی میں بطور پاکستانی محسوس ہوا۔ دوسرا فخر بھی ایک بھارتی مسلمان کے ذریعے ہی مجھے ملا۔ ایک آدھ برس پہلے دہلی سے ایک مسلمان لکھاری لاہور آئے، ان کے اعزاز میں پلاک میں ایک مجلس رکھی گئی، وہ چونکہ پہلی دفعہ پاکستان آئے تھے لہٰذا ہم سے اپنے تجربات شیئر کر رہے تھے۔ کہنے لگے یہاں آ کر مجھے سب سے بڑی حیرت بڑے بڑے بنگلوں اور کوٹھیوں پر مسلمانوں کے ناموں کی نیم پلیٹ دیکھ کر ہوئی۔ ہمارے ہاں بڑے گھروں، اچھے علاقوں اور وسیع بنگلوں کے سامنے ہندو ناموں کی تختیاں لگی ہوتی ہے، ڈھونڈنے سے بھی کوئی مسلمان نام کسی تختی پر دکھائی نہیں دیتا۔ یہ صرف ایک پہلو ہے اس نعمت کا جس کا نام آزادی ہے۔ میری نسل اس لحاظ سے خوش قسمت ٹھہری کہ وہ آزاد ملک میں پیدا ہوئی جبکہ میرے بزرگ غلام ملک کے شہری تھے، انہوں نے صبح آزادی کا سورج دیکھنے کے لئے طویل جدوجہد کی اور آگ اور خون 

کا دریا عبور کر کے یہاں تک آئے اور نئے وطن کی بنیادوں کواپنے لہو سے سینچا۔ بھارت سے آنے والی ٹرینیں اٹاری اور واہگہ سے گزر کر جب لاہور سٹیشن پر رکتی تھیں تو لہو سے بھرے ڈبوں کے اندر سے کٹی پھٹی لاشوں کے انبار برآمد ہوتے تھے، جن کے تلے دبے ہوئے زخمی اپنی کراہوں میں اپنے بچھڑنے والے پیاروں کو نہیں، پاکستان کو پکار رہے ہوتے تھے۔

مگر وہ لوگ جو پاک وطن کی خاطر اپنے بزرگوں کی قبروں، اپنی مٹی اور اپنی شناخت سے دور ہوئے ان کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا؟ ان کے کلیموں سے پیدا ہونے والے طبقے نے پاک وطن کی تاریخ کیا بنائی جغرافیے کا کیا حشر کیا؟ قائداعظمؒ کے فرمودات پر عمل کرنے کے بجائے اسے پی ٹی وی کی زینت بنا کر اس سے کھیلنے والا یہ سازشی اور وطن دشمن طبقہ کیسے آناً فاناً پیدا ہوا اور پاکستان کی روح پر قابض ہوتا چلا گیا، یہ پہلو میری قومی تاریخ کا ایسا تلخ باب ہے جسے دہراتے ہوئے وہ فخر نجانے کہاں منہ چھپانے لگتا ہے جو مجھے میری صبحِ آزادی عطا کرتا ہے۔ قائداعظمؒ کی آواز بازگشت کی طرح میرے کانوں میں گونجنے لگتی ہے، ’’اب تم آزاد ہو اور پاکستان میں تمہیں اس بات کی پوری آزادی ہے کہ اپنے مندروں، مسجدوں اور دوسری عبادت گاہوں میں جا کر اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرو۔ ہمارا یہ بنیادی اصول ہے کہ ہم سب ایک مملکت کے شہری اور مساوی حقوق کے مالک ہیں، یہ اصول مذہب، معتقدات اور ذات پات کے امتیاز سے بالاتر ہے‘‘۔

قائداعظمؒ پاک دھرتی پر مساوی حقوق فراہم کرنے والا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے تھے، شرف آدمیت جس کی پہچان ہو اور جہاں ایک مزدور بھی بنیادی شہری حقوق اسی طرح رکھتا ہو، جس طرح بالائی طبقے کا ایک فرد۔ مگر ہم نے کیا کیا؟ قائدؒ کی تصویر کو اہم سرکاری عمارتوں، دفاتر کی زینت بنا کر اس کے سائے تلے بیٹھ کر وطن وطن کھیلنے لگے، ہر اہم شعبہ ہائے زندگی پر یہ مافیا قابض ہوتا چلا گیا اور مٹھی بھر بددیانت اشرافیہ، بیوروکریسی اور سیاستدانوں نے ملک کو اپنے مفادات کی منڈی میں بدل کر رکھ دیا۔

صوبائیت، فرقہ واریت، لسانی جھگڑے اور مسلکی تفرقہ بازیوں سے لے کر کرپشن، ملکی وسائل کی لوٹ مار اور ذاتیات کی سیاست سمیت وہ کون سی بیماری ہے جو قائدؒ کے پاکستان کونہیں لگا چکے! اقلیتیں جن کے حقوق کا تحفظ آئین میں موجودہے، ان کے معاملے میں پچھلے چند برسوں میں جو ہو چکا ہے اسے غالباً دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم سب جانتے ہیں اسلام کا یہ قلعہ جو محض اپنی تعمیر کے 23 برسوں بعد ہی اپنے دوسرے حصے سے جدا ہوگیا تھا، یہاں اسلام کی کیا درگت بنائی گئی ہے اور گزرتے برسوں میں وہ نظریہ جسے نظریۂ پاکستان کہتے ہیں، اس کے خلاف کسی کیسی سازشیں پل بڑھ چکی ہیں۔

یہ میرا وطن جس کی مدح میں میرے وطن کا شاعر قصیدے لکھتا ہے، اس کا گلوکار ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم، دل کی گہرائیوں سے ادا کرتا ہے، جس کا فنکار قیامِ پاکستان کے مقصد اور اہمیت پر روشنی ڈالنے کے لئے اپنے کردار میں اپنی ذات گم کر دیتا ہے ۔ یہ میرا پیارا وطن آج گوناگوں مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ پچھلے دس پندرہ برسوں میں دہشت گردی کی بلا نے اس کاخون چوسنے کی بے انتہا کوشش کی مگر صد شکر کہ اس کے بیٹے نہ صرف اس کی سرحدوں کی حفاظت میں چوکس رہے بلکہ اس کے اندر پل بڑھ کر کینسر کی طرح پھیل جانے والی دہشت گردی کو بھی جڑ سے اکھاڑنے میں لگے رہے۔ یہی وجہ آج اس کے شہر آباد ہیں، اس کے قریے زندہ ہیں، اس کے قصبے وطن کے ترانوں سے گونج رہے ہیں۔ گرچہ یہودوہنود کی سازشوں، بکاؤ سیاست دانوں اور وطن فروش عناصر کی ریشہ دوانیاں، اس کا امن غارت کرنے کے در پے ہیں۔ اس کے تحفظ، سالمیت اور استحکام کے در پے ہیں۔ مگر بقول ممتاز مفتی پاکستان بزرگوں کی دعاؤں کے طفیل وجود میں آیا تھا، اسے کوئی نہیں مٹا سکتا۔ انتخابات میں شرمناک شکست سے دوچار ہو کر الیکشن کمیشن کے سامنے کھڑے مفاد پرست سیاستدانوں کاٹولہ یومِ آزادی کو جتنا بھی مسترد کرے قوم کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ قوم خود ان کو مسترد کر چکی ہے اور نئے جوش جذبے اور لگن سے یوم آزادی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کو خوان سمجھ کر کھانے کے عادی اس تبدیلی کی لہر کو دیکھ کر اپنے حواس کھونے لگے ہیں، جو امید کی تازگی کے ہمراہ میرے وطن کے آنگن میں اتری ہے۔ میرا پور ملک آزادی کے نغموں اور ترانوں سے گونج رہا ہے، سبز ہلالی پرچم گھر گھر لہرا رہا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے رسمی طور پر یومِ آزادی منانے والی قوم، اس دفعہ سچ مچ آزادی کا جشن منا رہی ہے۔ جس کی جلن ملک کو بیچ کر کھانے کے عادی سیاست دانوں، وطن دشمن عناصر اور مایوسی پھیلانے والوں کو چین سے بیٹھنے نہیں دے رہی!!


ای پیپر