’’ پھیکے‘‘ کی کہانی۔۔۔
11 اگست 2018 2018-08-11

دوستو، آج اتوارہے،لڑکیوں کے لئے واشنگ ڈے، شادی شدہ خواتین کے لئے صفائی ڈے، نوکری پیشہ حضرات کے لئے چھٹی کا دن اور بھرپورآرام کا دن، بچہ پارٹی کے لئے کھیل کود اور انجوائے منٹ کا دن، ریٹائرڈ حضرات کے لئے آج بھی ایک نارمل روٹین ہی رہے گی۔۔بیماروں کے لئے ذہنی اذیت، میڈیا ورکرز کے لئے مسائل زدہ دن اور طلبا کے لئے آج کچھ پڑھائی کرلینے کا ایک اور اچھا موقع ہے۔۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جب بھی چھٹی کا موقع آئے تو کسی اچھی سی کتاب کا مطالعہ کریں اور اپنے علم میں اضافے کے لئے جدوجہد کریں۔۔اکثر دوست میل میں پوچھتے ہیں کہ ہم بھی لکھنا چاہتے ہیں،اچھا لکھنے کے لئے کن چیزوں کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے، لکھنے کے معاملے پر ہم کوئی اتھارٹی نہیں لیکن جو باتیں اپنے سینئرز سے سیکھی ہیں وہ اتنی مشکل نہیں، صرف ایک بات ذہن میں رکھیں، اگر آپ اچھا لکھنا چاہتے ہیں تو ڈھیر سارا پڑھنے کی عادت ڈالیں، آپ کا جتنا اچھا مطالعہ ہوگا،اتنی شاندار تحریر لکھ سکیں گے۔۔گزشتہ دنوں ہم نے ایک کہانی پڑھی، اس کا رائٹر کون ہے؟ یہ تو ہم نہیں بتائیں گے، لیکن وہ کہانی بغیر کسی قطع وبرید کے آپ کو بھی سناتے ہیں۔۔ ہمیں یقین ہے کہ ہماری طرح آپ بھی اس کہانی سے ضرور متاثر ہوں گے۔۔چلیں اب سب خاموشی سے کہانی سنیں۔۔اور ہاں، درمیان میں سوال کرکے کہانی کا تسلسل بالکل نہیں توڑے کوئی۔۔ ورنہ کہانی وہیں ختم کردی جائے گی۔۔

کل پھیکے کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔۔ سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔۔جانے کون ملنے آیا تھا۔۔۔ میں جانتا تھا ،پھیکا پہلی فرصت میں آ کر مجھے سارا ماجرا ضرور سنائے گا۔۔۔ 

وہی ہوا شام کو بیٹھک میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ پھیکا چلا آیا۔۔۔حال چال پوچھنے کے بعد کہنے لگا۔۔۔صاحب جی ،کئی سال پہلے کی بات ہے، آپ کو یاد ہے ماسی نوراں ہوتی تھی؟؟ جو’’ پٹھی ‘‘پر دانے بھونا کرتی تھی۔۔۔ جس کا اِکو اِک پْتر تھا وقار۔۔۔میں نے کہا، ہاں یار، میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔وہ بولا، اللہ آپ کا بھلا کرے صاحب جی ، وقار اور میں پنجویں جماعت میں پڑھتے تھے۔۔۔سکول میں اکثر وقار کے ٹِڈھ میں پیڑ رہتی تھی۔۔۔صاحب جی اک نْکرے لگا روتا رہتا تھا۔۔۔ماسٹر جی ڈانٹ گھر بھیج دیتے تھے کہ جا حکیم کو دکھا اور دوائی لے۔۔اک دن میں آدھی چھٹی کے وقت وقار کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔میں نے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا اور اچارکھولا۔۔۔صاحب جی آج وی جب کبھی بہت بھوک لگتی ہے ناں۔۔۔تو سب سے پہلے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا ہی یاد آتا ہے۔۔۔ صاحب جی ،وقار نے پراٹھے کی طرف دیکھا اور نظر پھیر لی۔۔۔اْس ایک نظر نے اْس کی ٹِڈھ پیڑ کے سارے راز کھول دیئے۔۔۔میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کی آنکھوں میں آندروں کو بھوک سے بلکتے دیکھا۔۔۔

صاحب جی، وقار کی فاقوں سے لْوستی آندریں۔۔۔آنسوؤں کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھیں جیسے کہتی ہوں۔۔۔اک اتھرو بھی گرا تو بھرم ٹوٹ جائے گا۔۔۔ وقار کا بھرم ٹوٹنے سے پہلے میں نے اْس کی منتیں کر کے اْسے کھانے میں شریک کر لیا۔۔۔ پہلی بْرکی ٹِڈھ میں جاتے ہی وقار کی تڑپتی آندروں نے آنکھوں کے ذریعہ شکریہ بھیج دیا۔۔۔میں نے چْپکے سے ہاتھ روک لیا اور وقار کو باتوں میں لگائے رکھا۔۔۔اس نے پورا پراٹھا کھا لیا۔۔۔اور پھراکثر ایسا ہونے لگا۔۔۔ میں کسی نہ کسی بہانے وقار کو کھانے میں شریک کرنے لگا۔۔۔وقار کی بھوکی آندروں کے ساتھ میرے پراٹھے کی پکی یاری ہو گئی۔۔ اور میری وقار کے ساتھ۔۔۔خورے کس کی یاری زیادہ پکی تھی۔۔۔میں سکول سے گھر آتے ہی بھوک بھوک کی کھپ مچا دیتا۔۔۔ایک دن اماں نے پوچھ ہی لیا۔۔۔پْتر تجھے ساتھ پراٹھا بنا کر دیتی ہوں کھاتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔اتنی بھوک کیوں لگ جاتی ہے۔۔۔؟ میرے ہتھ پیر پھول جاتے ہیں۔۔۔ آتے ساتھ بْھوک بْھوک کی کھپ مچا دیتا ہے۔۔۔ جیسے صدیوں کا بھوکا ہو۔۔۔میں کہاں کْچھ بتانے والا تھا صاحب جی۔۔۔پر اماں نے اْگلوا کر ہی دم لیا۔۔۔ساری بات بتائی اماں تو سن کر بلک پڑی اور کہنے لگی۔۔۔کل سے دو پراٹھے بنا دیا کروں گی۔۔۔میں نے کہا ،اماں پراٹھے دو ہوئے تو وقار کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔۔۔میں تو گھر آکر کھا ہی لیتا ہوں۔۔۔صاحب جی،اْس دن سے اماں نے پراٹھے کے’’ ول‘‘ بڑھا دیئے اور مکھن کی مقدار بھی۔۔۔کہنے لگی وہ بھی میرے جیسی ماں کا پتر ہے۔۔۔ مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی پھیکے ۔۔۔ مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔؟ میں سوچ میں پڑ گیا۔۔۔ پانچویں جماعت میں پڑھنے والے پھیکے کو بھرم رکھنے کا پتہ تھا۔۔۔ بھرم جو ذات کا مان ہوتا ہے۔۔۔اگر ایک بار بھرم ٹوٹ جائے تو بندہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔ساری زندگی اپنی ہی کرچیاں اکٹھی کرنے میں گزر جاتی ہے۔۔۔اور بندہ پھرکبھی نہیں جْڑ پاتا۔۔۔ پھیکے کو پانچویں جماعت سے ہی بھرم رکھنے آتے تھے۔۔۔اِس سے آگے تو وہ پڑھ ہی نہیں سکا تھا۔۔۔اور میں پڑھا لکھا اعلی تعلیم یافتہ۔۔۔مجھے کسی سکول نے بھرم رکھنا سکھایا ہی نہیں تھا۔۔صاحب جی، اس کے بعد امّاں بہانے بہانے سے وقارکے گھر جانے لگی۔۔۔دیکھ نوراں ساگ بنایا ہے چکھ کر بتا کیسا بنا ہے۔۔وقار کی اماں کو پتہ بھی نہ چلتا اور اْن کا ایک ڈنگ ٹپ جاتا۔۔ صاحب جی ،وقار کو پڑھنے کا بہت شوق تھا، پھر اماں نے مامے سے کہہ کر ماسی نوراں کو شہر میں کسی کے گھر کام پر لگوا دیا۔۔۔تنخواہ' وقار کی پڑھائی اور دو وقت کی روٹی طے ہوئی۔۔۔اماں کی زندگی تک ماسی نوراں سے رابطہ رہا۔۔۔اماں کے جانے کے چند ماہ بعد ہی ماسی بھی گزر گئی۔۔۔اْس کے بعد رابطہ ہی کْٹ گیا۔۔۔ کل وقار آیا تھا۔۔۔ ولایت میں رہتا ہے جی ،واپس آتے ہی ملنے چلا آیا۔۔۔ پڑھ لکھ کر بہت بڑا افسر بن گیاہے۔۔۔اماں کے نام پر لنگر کھولنا چاہتا ہے۔۔۔ صاحب جی میں نے حیران ہو کر وقار سے پوچھا۔۔۔ یار لوگ اسکول بنواتے ہیں ،ہسپتال بنواتے ہیں،تو لنگر ہی کیوں کھولنا چاہتا ہے؟؟۔۔۔ کہنے لگا۔۔۔ پھیکے بھوک بہت ظالم چیز ہے چور ڈاکو بنا دیا کرتی ہے۔۔۔خالی پیٹ پڑھائی نہیں ہوتی۔۔۔ٹِڈھ پیڑ سے جان نکلتی ہے۔۔۔تیرے سے زیادہ اس بات کو کون جانتا ہے پھیکے ۔۔۔سارے آنکھیں پڑھنے والے نہیں ہوتے۔۔اور نہ ہی تیرے ورگے بھرم رکھنے والے۔۔۔پھر کہنے لگا۔۔ یار پھیکے ،تجھے آج ایک بات بتاؤں۔۔۔جھلیا میں سب جانتا ہوں۔۔۔چند دنوں کے بعد جب پراٹھے کے بل بڑھ گئے تھے۔۔اور مکھن بھی۔۔آدھا پراٹھا کھا کر ہی میرا پیٹ بھرجایا کرتا۔۔ اماں کو ہم دونوں میں سے کسی کا بھی بھوکا رہنا منظور نہیں تھا پھیکے ۔۔۔وقار پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔ اور میں بھی اس سوچ میں ڈْوب گیا کہ لْوستی آندروں اور پراٹھے کی یاری زیادہ پکی تھی یا پھیکے اور وقار کی ۔۔۔ بھرم کی بنیاد پر قائم ہونے والے رشتے کبھی ٹوٹا نہیں کرتے۔۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔اپنی زندگی کو اس کی ساری خوبصورتی کے ساتھ جینا ہے تو ایک بات پلے باندھ لے کہ جو کچھ گزر چکا وہ ایک ایسا ماضی تھا جس سے اب سبق لینا ہے ۔۔ناکہ اسے اپنا حال برباد کرنے کیلئے پلے باندھ کے رکھنا ہے کہ ہر دم کچوکے لگاتا رہے۔


ای پیپر