نئی حکومت کو درپیش مشکلات
11 اگست 2018 2018-08-11

یوں تو معرض وجود میں آنے والی نئی حکومت کو بیشمار معاملات، مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہو گا۔ لیکن ان میں سر فہرست جو بہت اہم مسائل ہوں گے۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں: قومی و صوبائی حکومتوں کی تشکیل۔۔۔ پارلیمان میں عددی اکثریت۔۔۔ دو تہائی اکثریت کا فقدان۔۔۔ سینٹ میں اقلیت۔۔۔ نئے قوانین اور آئینی ترامیم پاس کروانے کا مسئلہ۔۔۔ بجٹ پاس کروانے کے مسائل۔۔۔ بڑی اپوزیشن اور احتجاج۔۔۔ نوازشریف کی قید اور رہائی۔۔۔ مالی مسائل اور بیل آوٹ پیکیج۔۔۔ عوام مخالف شرائط۔۔۔ سی پیک کا تحف٭۔۔۔ میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسر شپ۔۔۔ سول حکومت و عسکری قیادت میں توازن۔۔۔ بھارت کے ساتھ تعلقات۔۔۔ چین ، روس اور امریکہ۔۔۔ سعودی عرب اور یمن اور ایران۔۔۔ دہشت گردی اور افغانستان۔۔۔ انتخابی نعروں اور انتخابی اہداف پر عملدرآمد۔۔۔ معاشی و سماجی ترقی۔۔۔ سابقہ حکومت سے تقابلی جائزہ۔۔۔ حکومت کی مدت کا پورا ہونا۔

اس وقت سب سے بڑا درپیش مسئلہ قومی و صوبائی حکومتوں کی تشکیل ہے۔ اگرچہ الیکشن کو مکمل ہوے تین ہفتوں سے زیادہ وقت ہو چکا لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا نئی حکومتوں کی ساخت کیا ہو گی۔ یہ طے ہے کہ نئی بننے والی قومی و صوبائی حکومتیں سنگل پارٹی حکومتیں نہیں ہوں گی۔ تحریک انصاف اگرچہ واحد اکثریتی پارٹی ہے لیکن وہ اکیلی سادہ اکثریت سے بھی محروم پارٹی ہے۔ لامحالہ تحریک انصاف کو پارلیمان میں موجود چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ اور کسی بھی مخلوط حکومت کی یہی وہ مجبوری ہے جہاں ایک اکثریتی پارٹی کو ان چھوٹے پارلیمانی گروپوں کے ہاتھوں بلیک میل ہونا پڑتا ہے۔ اور اپنے انتخابی منشور اور انتخابی اہداف پر کمپرومائز کرنا پڑتا ہے۔ اس کی چند مثالیں حکومت کی تشکیل سے پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں۔ تحریک انصاف کو ق لیگ سے اتحاد کرنے کے لیے اس حوالے سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان گزشتہ کء سالوں سے پرویز الٰہی کے خلاف بولتے رہے ہیں۔ عمران خان نے بینکوں سے قرض معاف کروانے کے خلاف پرویز الٰہی کے خلاف نیب میں مقدمہ کر رکھا تھا۔ اور وہ پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے رہے ہیں۔ اور ستم ظریفی دیکھئے آج وھی عمران خان پرویز الٰہی کے ساتھ نہ صرف حکومتی اتحاد بنانے کے لیے مجبور ہوے ہیں۔ انہیں پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کا عہدہ دیا جا رہا ہے۔ بلکہ ان کے خلاف دائر مقدمات واپس لینے کی باتیں بھی سننے کو مل رھی ہیں۔ اور ابھی یہ ابتدا ہے۔ اسی طرح ایک ظالمانہ لطیفہ تحریک انصاف کا متحدہ کے ساتھ حکومتی اتحاد طے ہونے کی شکل میں ہو رہا ہے۔ کون نہیں جانتا۔ عمران خان اور تحریک انصاف کا کء سالوں سے متحدہ کی جانب کس قدر سخت موقف رہا ہے۔ تحریک انصاف نے کراچی میں الیکشن متحدہ کی مخالفت میں لڑا ہے۔ اور اب حالات اس نہج پر پہنچے ہیں وہی متحدہ تحریک انصاف کے ساتھ حکومت تشکیل دینے جا رھی ہے۔ تیسری جانب تحریک انصاف بلوچستان نیشنل پارٹی سے بھی اتحاد کر رھی ہے اور شرائط میں مسنگ پرسنز کا معاملہ بھی شامل ہے۔ یعنی میری تعمیر میں ھی مضمر ہے صورت خرابی کی۔ یہ تو ابھی قومی و صوبائی حکومتوں کی تشکیل کا معاملہ ہے۔ اور مشکل یہ ہے اتنی تگ و دو کے بعد بھی نئی حکومت کی قومی اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے کے برابر ہو گی۔ جبکہ تحریک انصاف سینٹ میں پہلے ہی اقلیت میں ہے۔ گویا کل کو کوئی بھی قانون یا بل یا آئینی ترمیم یا پارلیمانی ریفارمز لانے اور پاس کروانے کے لیے نء حکومت اپوزیشن کی حمایت کی مرہون منت ہو گی۔ یہ وہ لمحہ ہو گا جب حکومت کو کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی پر عمل کرنا پڑے گا۔ اور اپنے اہداف پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ اپوزیشن کچھ ایسی شرائط بھی منوا سکتی ہے۔ جو اسٹیبلشمنٹ کے لیے نا منظور ہوں۔ اور یہیں سے مسائل ایک نئی شکل اختیار کرنی شروع کر دیں۔

پارلیمان میں اتنی بڑی اپوزیشن کا وجود حکومت کے لیے بے شمار مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔ خاص طور پر جب اپوزیشن دھاندلی کے الزامات کو لے کر احتجاج کی تیاری کر رہی ہو۔ نواز شریف کی جیل میں موجودگی یا رہائی دونوں صورتوں میں نہ صرف نء حکومت بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی مستقل درد سر ہو گا۔ نواز شریف کو جیل میں رکھ کر آرام سے حکومت نہیں کی جا سکتی۔ اگر عدالتیں نواز شریف کو ضمانت پر رہا نہیں کرتیں تو پوری دنیا میں سیاسی وکٹیمائزیشن کا پیغام جائے گا۔ اگرچہ ملکی میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسر شپ نافذ ہے لیکن سوشل میڈیا پر طوفان مچا رہے گا۔ اور اگر نوازشریف جیل سے باھر آ جاتے ہیں۔ تو اپوزیشن مزید طاقتور ہو جاے گی۔ نوازشریف میں یہ صلاحیت ہے وہ عوام کو اکٹھا کر سکتے ہیں۔ یہ بات اب تقریبا طے ہو چکی ہے نواز شریف کسی قسم کا این آر او لینے والے نہیں اور وہ ملک یا جیل میں رہ کرہی سیاست کریں گے۔ اور اگر خدانخواستہ انہیں جیل میں کچھ ہوا تو اس کے بڑے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔

نئی حکومت آی ایم ایف سے 12 ارب ڈالر کا بیل آوٹ پیکیج لینا چاہ رہی ہے۔ یہ بیل آوٹ پیکیج نئی حکومت کی شرائط کی بجائے ڈونر ممالک کی شرائط پر ملے گا۔ جن میں عوامی سہولت کی اشیاء ، بجلی ، گیس، پانی،پٹرول اور ٹیکسز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اصافہ ہو سکتا ہے۔ جس سے نئی حکومت کی مقبولیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح سی پیک کو لے کر پہلے ہی کچھ نا معقول افواہیں مارکیٹ میں گردش کر رہی ہیں۔ سعودی عرب نے چار ارب ڈالر کا قرضہ منظور کر رکھا ہے۔ اس کی کچھ شرائط ہوں گی۔ نواز شریف کی نااہلی میں نوازشریف کی یمن پالیسی کا بڑا ہاتھ تھا۔ نئی حکومت کو اس پالیسی کے متعلق بھی جلد فیصلہ کرنا ہو گا۔ اگر نئی حکومت یمن کی جنگ میں ملوث ہو جاتی ہے۔ تو ایران کو لے کر اس کے پاکستان پر بہت منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرع بھارت پالیسی، افغان پالیسی ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امریکی مطالبات، روس اور چین پالیسی بھی نئی حکومت کے لیے بہت بڑے ایشوز ہوں گے۔ یاد رہے نواز شریف حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی کو چین ، روس اور وسط ایشیا کی جانب موڑ لیا تھا۔ سی پیک کی شکل میں امریکی معاشی حریف چین کو گوادر پر لا بٹھایا تھا۔ امریکہ نوازشریف کی اس پالیسی کی سرکاری سطح پر مذمت کرتا رہا ہے۔ اسی طرح نواز شریف نے روس کو بھی سی پیک کا حصہ بننے کی آفر کی تھی۔ نوازشریف شنگھائی کانفرنس تنظیم کا ممبر بن گئے تہے۔ بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارت کی بات کرتے تہے۔ اور مودی کے یار ڈکلیئر ہوے تہے۔ انتہا پسندی کو لے کر ڈان لیکس کا شکار ہوے۔ اور ملک دشمن ڈکلیئر کیے گئے۔ یہ وہ معاملات تھے جن کی قیمت نوازشریف کو ادا کرنی پڑی۔ اب ان پالیسیوں کا بار گراں نئی حکومت کے کندہوں پر ہو گا۔ 

نئی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے باہمی معاملات اور سول سپریمیسی کی خواہش ایک بڑا ایشو ثابت ہو سکتا ہے۔ جس طرح اداروں نے اس الیکشن میں تحریک انصاف کی درپردہ اور کھل کر حمایت کی ہے۔ جس طرح ن لیگ کو کارنر کیا گیا۔ جس طرح کے دوبارہ گنتی پر فیصلے آ رہے ہیں۔ اور جیسی سخت میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسر شپ نافذ ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے۔ اس وقت ملک پر کس کی حکومت ہے۔ ایسے ماحول میں نئی مخلوط حکومت کا قیام اور اس کی آزاد پالیسیاں ایک بہت بڑا ٹیسٹ کیس ہو گا۔ انتخابی نعروں اور انتخابی منشور پر عملدرآمد کسی آزمائش سے کم نہ ہو گا۔ ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر ، گورنر ہاؤسز اور وزیراعظم ہاوس کو یونیورسٹیوں اور لائبریریوں میں تبدیل کرنا اور ناکام رہنا خاصہ مخولیہ ہو سکتا ہے۔ عمران خان پہلے ہی حلقے کھولنے کی آفر سے بیک آوٹ کرکے اپنا مذاق بنوا چکے ہیں۔ اور پھر معاشی و سماجی ترقی میں سابقہ حکومت سے مقابلہ بھی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے۔ عوام سب دیکھتی ہے اور سب سمجھتی ہے۔ اور عوام جب دیکھتی ہو۔ تو حکومت کو کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جب حکومت کا مدت پوری کرنا مشکل بنا دیا جاتا ہے۔ یا وزیراعظم کو کھینچنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔


ای پیپر