کچھ کھری کھری
11 اگست 2018 2018-08-11

جب یہ سیاستدان، حکمران اور دیگر با اختیار اپنی تقریروں تحریروں اور بیانات میں یہ کہتے ہیں کہ انہیں اپنے ملک پاکستان سے محبت ہے۔ بلکہ بے پناہ محبت ہے تو انہیں کیسے نیند آ جاتی ہے۔ کہ ان کے ملک میں ظلم و جبر کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں، استحصال مسلسل اکہتر برس سے کیا جا رہا ہے۔ غربت افلاس نے اعصاب شل کر رکھے ہیں۔ انتظامی ادارے پھنکار رہے ہیں۔ عدالتیں کسی کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے طویل عرصہ انتظار کراتی ہیں اور جو فیصلہ دیتی ہیں اس میں اکثر انصاف کا فقدان ہوتا ہے۔ متاثرہ فریق آہیں بھرتا رہ جاتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اب تک عوام پاکستان خوشحال نہیں ہو سکے ان کے دن پھرتے ہی نہیں۔ مگر ان کے لیے دل میں درد رکھنے والوں کے وارے نیارے ہیں وہ بادشاہوں کی طرح جیتے ہیں ان کی زندگیاں عودولوبان کی طرح خوشبوؤں سے رچی بسی ہوتی ہیں۔ ان کے محل بھی ہیں کارخانے بھی ہیں اور فیکٹریاں بھی ہیں مغربی و یورپی ممالک میں فلک بوس رہائش گاہیں بھی ہیں اربوں کھربوں کے تجارتی مراکز بھی ہیں غرض ان کے پاس بے حدو حساب دولت ہے جس سے وہ دنیا کی ہر آسائش حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر ان کو ہر وقت معاشی خوف میں مبتلا رکھتے ہیں تاکہ وہ ان کے سرمایے کا ذکر اپنی نوک زبان پر نہ لائیں ان کے لیے کوئی دیوار نہ کھڑی کریں اور ان کو ایوانوں میں جانے سے نہ روکیں ۔ یہ لوگ چودہ اگست بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ اس طرح کی اور بھی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ ثابت وہ یہ کرنا چاہتے ہیں کہ انہیں اس دھرتی سے والہانہ لگاؤ ہے۔ مگر کوئی ان سے 
پوچھے کہ پھر وہ دولت کے انبار کیوں لگاتے ہیں۔ ملکی وسائل پر ہاتھ صاف کیوں کرتے ہیں ان مفلوک اطالوں پر حیات کا عرصہ تنگ کیوں کرتے ہیں وطن پیارے پر قرضوں کا بوجھ کیوں لادتے ہیں۔ بد عنوانی کے ذریعے اس کی کمر دوہری کیوں کرتے ہیں اور لوگوں کے ذہنوں میں نفرت و بغض کے بگولوں کو کیوں جنم دیتے ہیں۔۔۔؟
سچ یہی ہے کہ انہیں عوام سے نہ ملک سے کوئی دلچسپی نہیں انہیں فقط اپنا خیال ہے اپنے لیے ان کو غور کرنا ہے اور اپنے بچوں کے لیے محل تعمیر کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر عام آدمی کی مشکلات کیوں بڑھتی ہیں وہ یہ کیوں سوچتا ہے کہ اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ وہ یہ دیکھ کر پھٹ پڑتا ہے کہ اسے تو صبر ، حوصلے اور تحمل کی تلقین کی جاتی ہے مگر خود یہ ہمارے حکمران آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ عوام آپس میں الجھیں رہیں دست و گریباں رہیں اور ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھیں۔ اور وہ ( حکمران ) چپکے چپکے قومی خزانہ ذاتی خزانے میں منتقل کرتے رہیں۔ بلاشبہ وہ مختلف سیاسی جماعتوں میں منقسم ہیں اور ایک الگ منشور بھی رکھتے ہیں۔ مگر یقین کیجیے گا وہ مال پانی بنانے میں برابر کے حصہ دار قرار پائے ہیں دلچسپ پہلو یہ بھی ہے اس کھیل کا کہ انہیں درپردہ اپنے کاروباروں کا مل کر تحفظ فراہم بھی کرنا ہوتا ہے۔ یہ جو غدار غدار اور چور لٹیرے ایسے جملے ہمیں سننے کو ملتے ہیں ان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی یہ محض بولنے کے لیے ہوتے ہیں مقصد یہی کہ لوگوں کو یہ تاثر نہ ملے کہ وہ باہم شیرو شکر ہیں لہٰذا عرض ہے کہ سیاسی معاملات کو سنجیدہ نہ لیا جائے۔ کہ جب سیاستدان و حکمران سنجیدہ نہیں تو عوام کو کیا پڑی ہے کہ وہ نفرت غم اور غصے کو اختیار کر کے جو لمحے چند میسر ہیں انہیں تلخ بنائیں۔ اور ان کے طرز فکر کو درست مان کر زندگی میں زہر گھولیں۔ وہ ( عوام ) سوچیں کہ ان کے ووٹوں سے کامیاب حکمرانطبقہ ان کے لیے دودھ اور شہد کی نہریں بہاتا ہے ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے ان کے بچوں کے لیے تعلیم و صحت مفت معیاری اور سہل فراہم کرتا ہے۔ سرکاری اداروں کو سختی سے اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ عوام کی خدمت جوش و جزبے سے کریں اور اگر اس میں کوئی کوتاہی برتی تو وہ قابل گرفت ہوں گے اور سخت سزا کے مستحق ٹھہریں گے۔ کیا کیا گنواؤں۔ کہ ایک طویل فہرست ہے اس کے احسانات، 
کی ۔ لہٰذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ معمولی کاموں کے عوض حکمرانوں کے ہاتھوں نہ کھیلیں یہ مخلوق بڑی شاطر ہے کسی نہ کسی تعلق و واسطے سے عوام کی ہمدردیاں حاصل کر لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اور پھر وہ بے چارے پانچ برس تک یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ کیا بتائیں انہوں نے تو سوچا تھا کہ ان کے دیرینہ و گھمبیر مسائل حل ہو جائیں گے مگر کچھ نہیں ہو سکا۔۔۔؟
انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جب ان کے نمائندے کروڑوں لگا کر اقتدار میں آتے ہیں تو وہ لازمی ناجائز ذرائع اختیار کرتے ہوئے اپنی تجوریاں بھرنے کی راہ نکالیں گے۔ اگرچہ میں بد عنوانی کے خلاف ہوں مگر اس پہلو کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ کہ یہ نظام انتخاب و حیات جب بغیر پیسے کے کسی کو اقتدار کے ایوان میں داخل ہی نہیں ہونے دیتا یعنی کوئی شخص انتخابات میں دولت خرچ نہ کر کے حصہ لے ہی نہیں سکتا تو اسے بد عنوانی سے روکنا کہاں تک مناسب ہو سکتا ہے۔ یہ سب ہمارے نظام حیات و انتخاب کا کیا دھرا ہے جو بد عنوان پیدا کرتا ہے۔ ملکی خزانے کو ایسے لوگوں کی دسترس میں دیتا ہے اور پھر خود ہی ان کے پیچھے چڑھ دوڑتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اسے بدلا جائے۔ اور پھر سوال تو یہ بھی ہے کہ جب یہ لوگ جو عوام کے خدمت گار بھی کہلواتے ہیں اور خدمت کرنے میں نا کام رہے ہیں کیا انہیں اقتدار میں آنا چاہیے اور کثیر تعداد میں آنا چاہیے۔ معذرت کے ساتھ ان کو گھر بیٹھنا چاہیے یہ جو گل محلے کی سڑکیں نالیاں بنواتے ہیں اور پھر ووٹ لیتے وقت کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے لیے کافی کام کیا ہے۔ عرض ہے کہ یہ کام مقاقی حکومتوں کے لوگ بھی کر سکتے ہیں بلکہ خدمت کے سرکاری ادارے بھی سر انجام دے سکتے ہیں۔ بشرطیہ نیت صاف ہو۔ یہ جو سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی ہیں اور ایوانوں میں پہنچتی ہیں ان میں موجود لوگ چند ایک کے سوا باقی بھرتی ہوتے ہیں۔ تو پھر ان کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ مشاہدہ بتاتا ہے کہ ان نمائندوں نے موج مستی ہی کی ہے پیسا بنایا ہے استحصال کیا ہے غربت عوام کو دبانے جھکانے کے لیے محکمہ مال و تھانہ کو استعمال کیا ہے اور اپنا حصہ وصول کیا ہے ان سے۔ پالیسیاں ایسی آج تک نہیں بن سکیں کہ جو مجموعی طور سے مفید ہوں۔ یہ سب پالیسیاں بنا بھی نہیں سکتے کیونکہ اکثریت زرخیزی ذہن سے محروم ہوتی ہے۔ لہٰذا عوام خوشحال ہوئے نہ ہی ملک کو کمال حاصل ہو سکا۔ اس ساری بحث کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ میں آمریت کے حق میں ہوں مگر یہ بھی پہلو قابل غور ہونا چاہیے کہ ہمیں جم غفیر نہیں چاہیے اسے کم کرنے سے فائدہ یقیناًہو گا۔ خزانہ دباؤ سے آزاد ہو جائے گا۔ چند لوگ ہی اگرا ن میں خدمت و ترقی کا جزبہ موجزن ہوا تو وہ کسی حزب اختلاف اور عوامی تنقید کی زد میں آئے بغیر تیزی سے آگے بڑھ جائیں گے۔ اب بھی کچھ ذہن ہی مل کر ملک کو معاشی بحران سے نکالیں گے۔ باقی تو انگوٹھا ہی لگائیں گے۔ لہٰذا میری سمجھ سے باہر ہے کہ انہیں بھاری تنخواہیں و معاوضے دے کر نہلانا دھلانا کہاں کی دانائی ہے۔۔۔؟
بہر حال ملک کے عوام اب تک ہر حکومت سے یہ آس لگائے رہے ہیں کہ وہ ان کی کالی رات کو نئے سویرے میں تبدیل کر دے گی مگر افسوس انہیں اندھیرا ہی ملا جس میں وہ منزل کو ڈھونڈتے رہے۔ دیکھتے ہیں عمران خان اپنے مصمم ارادوں میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں ۔ توقع تو کی جانی چاہیے مگر ایک اندیشہ بھی سر اٹھا رہا ہے کہ جھمگٹا جو ان کے گرد لگ گیا ہے وہ انہیں غیر محسوس انداز سے اشرافیہ کی مخصوص سوچ سے باہر نہیں نکلنے دے گا مگر یہ اس کی غلطی ہو گی کیونکہ عوام مذاحمت کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ وہ اس لیے کہ اب پرانا دور بیت چکا ہے اضطرابی کیفیت میں اضافہ ہو گیا ہے صبر کا پیمانہ چھلک جانے کے قریب تر ہے لہٰذا عوام کو روکنا ٹوکنا ممکن نہیں رہا مگر بات سوچنے کی ہے کہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور لوگوں کو سہولتوں سے محروم رکھا ہے اور خود قوس قزح ایسی زندگی بسر کرتے رہے ہیں۔ جو شاید آنے والے دنوں میں اپنا معیار بر قرار نہیں رکھ پائے گی۔ کیونکہ اکہتر برس کے بعد کروڑوں آنکھیں بغور تکنے لگی ہیں!


ای پیپر