غلطی کی گنجائش نہیں
11 اگست 2018 2018-08-11

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اگر کسی کو عوام کی طرف سے پذیرائی نصیب ہوئی ہے اور کسی کیلئے راہوں پر عوام نے اپنی پلکیں بچھائی ہیں تو وہ صرف عمران خان ہے اس حوالہ نے عمران خان کی پہچان کو چار چاند لگا دیئے ہیں اور دوسری بڑی کامیابی کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف بھی پیپلز پارٹی کی طرح وفاق کی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے جب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پہلی بار روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تھا تو اس نعرہ نے ان کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا پھر ملک کے کونے کونے میں بھٹو صاحب اور پاکستان پیپلز پارٹی کانام گونجنے لگا تھا اسی نعرہ کی بدولت ہی بھٹو صاحب جہاں بھی جاتے تھے وہاں لوگوں کا ایک سمندر امڈ آتا تھا جاگیرداری نظام اور فیوڈل ازم کے خاتمہ کے اعلان نے تو عوامی سمندر میں ایک ایسی طغیانی پیدا کر دی تھی کہ جاگیر داری نظام کے حامی طبقہ اور فیوڈلز نے باہم گٹھ جوڑ کر کے ایک سازش کے تحت پیپلز پارٹی میں شامل ہو کر بھٹو صاحب کیلئے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے عوامی سمندر کی طغیانی کو چھوٹی چھوٹی لہروں میں بدل کر رکھ دیا ۔کہا یہ جاتا 

ہے کہ بھٹو صاحب اگر اپنے ہی نظریہ کی نفی کر کے جاگیر دار اور فیوڈلز کو اپنی پارٹی میں شامل نہ کرتے تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو گرفتار کر سکتی تھی اور نہ ہی پھانسی کے پھندے تک لے جا سکتی تھی ایسا صرف اس لیے ہوا کہ بھٹو صاحب نے جس نظریے کی بنیاد رکھی تھی اس میں خود ہی چھید کر دیئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نظریاتی وابستگی کے حامل کارکن بھٹو صاحب کے اس عمل سے دور اور فیوڈلز اور جاگیردار طبقہ ان کے قریب تر ہوتا چلا گیا اور پھر بھٹو صاحب کی گھات میں بیٹھی عالمی قوتوں نے اس موقع کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں موجود غیر جمہوری قوتوں کے ذریعے بھٹو صاحب کو پوری دنیا کیلئے عبرت کا نشان بنانے کی دھمکی کو عملی جامہ پہنا دیا جن غیر جمہوری قوتوں نے امریکہ کا آلہ کار بن کر یہ کام کیا تھا وہ قوتیں آج بھی مسیحا کا بھیس بدل کر پاکستان میں تا حال متحرک ہیں حالیہ دنوں ان دونوں قوتوں نے ایک بار پھر اپنی طاقت کا بھر پور مظاہرہ کیا ہے اس لیے تحریک انصا ف کے چیئر مین عمران خان کیلئے یہ ایک سبق ہے آج اکتالیس سال کے طویل عرصہ کے بعد ایک بار پھر ویسی ہی صورتحال نظر آ رہی ہے ۔عمران خان نے جب اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا تو ان کی سوچ آئیڈیل ازم کی غمازی کرتی تھی روایتی سیاست کے خاتمہ کے لیے پرعزم نئی نسل میں عملی سیاست متعارف کروانے کے بلند بانگ دعوے کیے تھے انہی دعووں کی کشش نے نوجوان نسل کو عمران خان کا گرویدہ کر دیا ، نوجوان نسل کا عمران خان کو اپنا لیڈر تسلیم کرنے کی دیر تھی کہ ملک بھر میں شہر شہر گاؤں گاؤں تحریک انصاف اور عمران خان کے نعرے گونجنے لگے اور چند سالوں میں ہی تحریک انصاف کے اندر ایک نئی روح پھونک دی وہ پارٹی جس کو کبھی شیخ رشید جیسے سیاستدان عمران صاحب کے سامنے بیٹھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ تحریک انصاف تو تانگہ پارٹی ہے اور تم ایک معمولی کپتان ہو ۔ نوجوان نسل نے ان سب باتوں کوپس پشت ڈال کر تبدیلی کی ایک تحریک پیدا کر کے تحریک انصاف کو زمین سے اٹھاکر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان کو آج جو مقام عطا ہوا ہے وہ روایتی سیاستدانوں کی وجہ سے نہیں بلکہ نوجوان نسل کی بدولت ہوا ہے اگر نوجوان نسل اپنے توانا کندھے فراہم نہ کرتی تو پھر تحریک انصاف تمام عمر تانگہ پارٹی ہی رہتی یا پھر اے این پی اور ایم کیو ایم کی طرح ایک صوبہ کی حد تک محدود ہو کر رہ جاتی اس لیے اب تحریک انصاف کی قیادت کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی تباہی کی طرف لے جائے گی ۔بہرحال ایک غلطی تو سرزد ہو چکی ہے لیکن اب ان کے پاس دوسری غلطی کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے عمران خان کو چاہیے کہ وہ اب پارٹی کی باگ ڈور کارکنوں کے ہاتھوں میں ہی دیئے رکھے تا کہ اس کے بہتر نتائج برآمد ہو سکیں بصورت دیگر ہر چیز دم توڑ جائے گی۔گو کہ تحریک انصاف کی قیادت نے ان روایتی سیاستدانوں کی بدولت اپنی منزل تو پا لی ہے تا ہم منزل پانے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل کرنے سے قاصر رہے گی کیونکہ منزل تک رسائی ہی ان روایتی سیاستدانوں کے مرہون منت ہوئی ہے جن کا نظریہ تحریک انصاف کے نظریہ کی کلی نفی کرتا ہے ۔آج عمران خان صاحب نے جس سوچ کی بنیاد پر عوام دوست سیاسی کلچراور نظریاتی نوجوان نسل کی کاوشوں کو نظر انداز کر کے جو کچھ حاصل کیا ہے اس کے آنے والے وقت میں ملک و قوم اور سیاست پر مضر اثرات مرتب ہونے کے خدشات موجود 

رہیں گے ۔یہ سوچنا کہ اگر لیڈر اچھا ہو ،قیادت بے باک ہو تو پارٹی میں کوئی بھی شامل ہو جائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ماضی میں یہی غلطی ذوالفقار علی بھٹو شہید نے کی تھی بعد میں بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی کو اس غلطی کی بھاری قیمت چکانی پڑی تھی اس لیے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اب تبدیلی کا آنا ٹھہر چکا ہے یہ محض ان کی خوش فہمی ہے محض جذبائیت کی رو میں بہہ کر کہا جا رہا ہے زبانی کلامی اور عملی اقدام میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔جو غلطی بھٹو شہید نے 1977ء میں کی تھی وہی غلطی عمران خان نے اقتدار میں آنے کیلئے کی ہے جس کے باعث انتخابات میں نہ صرف تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے بلکہ وہ نوجوان نسل جو یہ خیال کرنے لگی تھی کہ شاید عمران خان کی شکل میں دوسرابھٹو مل جائے گا ان کا یہ خواب پورا نہیں ہو سکا۔حبس زدہ ماحول میں شعراء نے ہمیشہ اشاروں کناؤں میں وہ سب باتیں کہی ہیں جو ہم نثر میں کہتے ہیں ۔آفرین گلنارصاحبہ کا یہ شعر بھی اسی کا اعادہ کرتا ہے :۔

سودا ہے ضمیروں کا ہر گام تجارت ہے 

چپ ہوں تو قیامت ہے بولوں تو بغاوت ہے 


ای پیپر