نشے سے پاک پنجاب
11 اگست 2018 2018-08-11

پاکستان میں نشہ کرنے والے افراد کی تعداد بدقسمتی سے بڑھتی جا رہی ہے ۔ اقوام متحدہ کی عالمی سطح پر منشیات کے استعمال پر تحقیق کے مطابق ہمارے ملک میں نشہ کرنے والے افراد کی تعداد 89لاکھ ہے جو انفرادی اور اجتماعی طور پر خطرے کی علامت ہے ۔ ان نشہ کرنے والوں میں نشے کے عادی افراد کی تعداد چالیس لاکھ ہے ۔یہ نشے بھنگ ، چرس ، افیون ، ہیروین ، گٹکا، سکون آور اور درد دور کرنے والی ادویات پر مشتمل ہیں ۔منشیات کے استعمال کرنے والوں کی عمریں 15تا 64سال ہیں ۔ گزشتہ چند سالوں سے پنجاب میں سرنج کے ذریعے نشے آور اشیا /ادویات لینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔اس نشے سے خاص طور پر ایچ آئی وی اور ہیپا ٹایٹس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ چونکہ یہ نشہ سرنج کے ذریعے لیا جاتا ہے اور نشہ کرنے والے ایک دوسرے کی استعمال کردہ سرنجیں استعمال میں لاتے ہیں جس سے ایڈز اور دماغی امراض کے لاحق ہونے کے زیادہ خطرات موجود ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی 11فیصد تعداد ایڈز میں بھی مبتلا ہے ۔ منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور علاج کے لیے کئے جانے والے اقدامات بہت ناکافی ہیں ۔ فی الوقت منشیات کے عادی 30ہزار افراد کے لیے ہی علاج معالجہ کی سہولیات دستیاب ہیں ۔اسی طرح نفسیاتی علاج کے معاملے میں بھی توجہ درکار ہے ۔
بڑے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ منشیات کی لت کالج اور یونیورسٹی کے طالب علموں کو پڑ تی جا رہی ہے ۔ منشیات فراہم کرنے میں اکثر ان اداروں کے چوکیدار ، گارڈ اور نائب قاصد وغیرہ ملوث پائے گئے ہیں ۔ والدین کو اپنے بڑھتے ہو ئے بچوں اور نوجوانوں کی صحبت اور عادات پر کڑ ی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں گھر ، کنبے اور معاشرتی 
طور پر ایسا ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ذہنی و جسمانی طور پر صحت مند رہیں اور منشیات سے دور ہوں ۔
منشیات کے استعمال کے خاتمے کے لیے ہمیں ہر سطح پر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنما، ذرائع ابلاغ، ہیلتھ ورکرز ، فلاحی تنظیمیں ، شوبز کی نامور شخصیات اور کھلاڑی ، منشیات سے پاک پاکستان کو ممکن بنانے میں اپنی اپنی حیثیت اور اپنے اپنے محاذسے موثر خدمات سر انجام دے سکتے ہیں ۔
منشیات کے استعمال کی وجوہات کو معاشی اور معاشرتی حقائق اور حالات کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ عام طور سے غریب اور بے توجہی کا شکار منشیات کا سہارا لیتے ہیں ۔ معاشرہ بھی ان افراد کو ایک مریض کی بجائے نشئی کا لیبل لگا کر دھتکار دیتا ہے ۔کنبے کے افراد ، خاندان، رشتہ دار اور محلے دار ایسے لوگوں کی بحالی کی بجائے انہیں لعن تعن کر کے معاشرے سے الگ تھلگ کر دیتے ہیں ۔ اسی طرح سرکاری طور پر بھی ان کے علاج اور بحالی کے انتظامات بہت کم اور محدود ہیں ۔ غیر سرکاری طور پر ان کا علاج بہت مہنگا اور طویل ہے جس کا بعد میں فالواپ بھی کرنا ہوتا ہے ۔ایک سروے کے مطابق ایسے افراد کا 64فیصد علاج اور بحالی کے حصول میں مشکلات کی وجہ سے اس مسئلے سے باہر نہیں آپاتے۔ جبکہ منشیات کے عادی 80فیصد افراد علاج کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
نفسیات کے مریضوں کا علاج دیگر مریضوں کی طرح عام طور پر گھر پر نہیں ہو سکتا ۔ اس مقصد کے لیے انہیں منشیات و نفسیات کے علاج اور بحالی کے کسی ہسپتال یا کلینک میں باقاعدہ داخل ہونا پڑتا ہے ۔ تا وقتکہ وہ مکمل طور پر صحت مند اور بحال ہو جا ئیں ۔ 
صوبہ پنجاب میں منشیات کے عادی اور نفسیاتی مریضوں کی بحالی اور علاج کے لیے سرکاری سطح پر سہولتیں بہت ناکافی ہیں جبکہ غیر سرکاری طور پر یہ علاج مہنگا ، پچیدہ اور طویل ہے ۔یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ نجی طور پر ترک منشیات اور بحالی کی علاج گاہوں کے حالات قابل تشویش ہیں ۔یہاں علاج کے غیر معیاری اور غیر پیشہ وارانہ طریقے رائج ہیں ۔ نشے کے مریضوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک بھی روا رکھا جاتا ہے ۔ انہیں ایک مریض کی بجائے مجرم تصور کیا جاتا ہے ۔
گزشتہ چند ماہ سے پنجاب ہیلتھ کےئر کمیشن نے غیر سرکاری سطح پر چلنے والی منشیات کی علاج گاہوں اور بحالی کے سنٹرز کا معائنہ کیا ۔ لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ ، سیالکوٹ ، کھاریاں اور راولپنڈی میں واقع منشیاتی و نفسیاتی امراض کی علاج گاہوں اور بحالی کے مراکز پر چھاپے مارے ۔ ان میں سے31مراکز کو ناکافی سہولیات ، رہائش ، خوراک ، بدانتظامی ، طبی عملہ اور علاج کی دیگر معیاری و مستند سہولیات 
کا نہ ہونا ، مریضوں کے ضروری کوائف کی عدم دستیابی اور پنجاب ہیلتھ کےئر کمیشن سے رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ نہ ہونے کے باعث سیل کر دیا گیا ۔ علاوہ ازیں 26اداروں کے مالکان کو اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کیے گئے ۔منشیات کے علاج اور بحالی کے بعض مراکز میں مریضوں سے اس قدر غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا تھا کہ انہیں ان مراکز سے آزاد کروا کر سرکاری ہسپتالوں اور علاج گاہوں میں منتقل کر کے ان کی علاج گاہوں کو سر بمہر کر دیا گیا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری و غیر سرکاری سطحوں پر منشیات و نفسیات کے علاج اور بحالی کے مراکز پر خدمات کا معیاری اور مستند ہوناممکن بنایا جائے ۔یہاں باقاعدہ سند یافتہ معالجین ، ڈاکٹرز ، ماہر نفسیات اور دیگر طبی عملہ ہونا ضروری ہے ۔ پنجاب ہیلتھ کےئر کمیشن نے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ان مراکز کے معائنے شروع کر دیے ہیں اور غیر معیاری خدمات و دیگر غیر قانونی سر گر میوں میں ملوث اداروں کے خلاف سخت قانونی ایکشن لینا شروع کر دیا ہے ۔
اس کے علاوہ کمیشن کے صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے کم سے کم معیارات (MSDS) منشیات ونفسیات کے علاج اور بحالی کے مراکز ، ہسپتال اور کلینکس کے لیے تیار کیے ہیں ۔ جن سے متعلق باقاعدہ تربیت فراہم کر کے ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاتا ہے ۔ ان معیارات میں مریضوں کی علاج کی سہولتوں تک آسان رسائی ، مریضوں کی دیکھ بال ، ادویات کی فراہمی ، مریضوں کے حقوق سے ان کی آگاہی اور حقوق کا احترام ، علاج گاہ میں انفکشن کنٹرول کا موثر نظام ، علاج کے معیار میں بہتری ، درکار سہولیات کی فراہمی ، ضروری انسانی وسائل کی دستیابی اور مریضوں سے متعلق مکمل معلومات کا ڈیٹا شامل ہیں ۔


ای پیپر