PTI government, food, poor people, Pakistan, PM Imran Khan
11 اپریل 2021 (15:42) 2021-04-11

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے پسماندہ طبقے تک کھانا ان کے گھر کی دہلیز پر پہنچائیں ، چاہتا ہوں وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ اور اعلیٰ افسران سمیت سب کو غریب طبقے کا احساس ہو ۔

کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے سینیٹر ثانیہ نشتر کو خصوصی طور پر مبارکباد پیش کی ، کہا ثانیہ نشتر کو کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کی تجویز دی تھی جس سے مستحق اور پسماندہ طبقہ مستفید ہوسکے گا ، انہوں نے کہا کہ لوگوں کو روٹی ملے گی تو ملک میں برکت آئے گی ، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقے کو اوپر اٹھائے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کے تحت فوڈ ٹرکس چلائے جائیں گے ۔ لاہور ، پشاور اور فیصل آباد میں بھی کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے جن لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی انہوں نے چند سالوں میں دنیا کی امامت کی ، نبی پاک ﷺ نے مدینہ کی ریاست کا جو راستہ دکھایا وہ سب سے عظیم تھا ۔ پاکستان واحد ملک تھا جو اسلام کے نعرے پر معرض وجود میں آیا تھا ۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس پر قرضے چڑھے ہوئے ہیں ، کم پیسے بچتے ہیں ، اس لیے ہمارا فرض ہے ہم اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لیں ۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ محمود خان کو مبارکباد دیتا ہوں ، پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو پروگرام شروع کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں جبکہ فیصل آباد میں فرخ حبیب کو پروگرام شروع کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں ۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیلانی ٹرسٹ کا قوم کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، سیلانی ٹرسٹ والے بہت عظیم لوگ ہیں جو ایسے نیک کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیلانی ٹرسٹ حکومت کے ساتھ مل کر لوگوں کو دو وقت کا کھانا دینے جا رہے ہیں ۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں لوگ بہت زیادہ خیرات دیتے ہیں ۔ جب کینسر ہسپتال شروع کیا تو لوگوں کا خیال تھا اتنے زیادہ پیسے کیسے آئیں گے؟ اس ہسپتال میں کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کیسے ہوگا ؟ کینسر کے مریضوں کو ادویات اور کھانا بھی کیسے فراہم ہوگا یہ بہت مشکل کام ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کینسر ہسپتال بنا اور اس میں 75 فیصد مریضوں کا مفت علاج ہو رہا ہے ۔ اب پشاور اور کراچی میں بھی کینسر ہسپتال بننے جا رہے ہیں ۔ وزیراعظم نے بتایا کہ شوکت خانم ہسپتال نے 25 سال میں کینسر کے مریضوں پر 50 ارب روپے خرچ کئے ہیں کیونکہ کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے اس کی ادویات بہت مہنگی ہیں ۔ پاکستانی قوم نے کینسر کے علاج میں بھرپور مدد فراہم کی ہے ۔

عمران خان نے کہا کہ جتنے بھی عوام کیلئے فلاحی پروگرام شروع ہوئے ہیں یہ پہلی بار ہوئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مزدوروں کیلئے پناہ گاہیں بن چکی ہیں جہاں وہ رہتے ہیں اور کھانا بھی کھاتے ہیں ، یہ مزدور اب پیسے کما کر اپنے گھروں کو بھی بھیجتے ہیں ۔ ملک کے 2 صوبوں میں اسلام آباد سمیت عوام کو ہیلتھ انشورنس کارڈ دینے جا رہے ہیں ۔

اس کے علاوہ حکومت قانون کی بالادستی کیلئے تاریخی جنگ لڑ رہی ہے ۔


ای پیپر