Amira Ehsan, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
11 اپریل 2021 (12:04) 2021-04-11

کورونا وائرس کی تیسری لہر اٹھی، چھا گئی۔ ہمارا حال ہر اعتبار سے جوں کا توں ہے۔ رجوع الی اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہیں۔ نہیں خبر کہ یہ بلا کہاں سے آئی ہے، کیوں آئی ہے۔ سیکولر، بے دین تعلیمی نظام کی بنا پر تعلق باللہ نوجوان نسل میں مجروح ہو چکا۔ سبھی معلومات کا منبع سوشل میڈیا ہے۔ کیفیت یہ ہے کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ افراط و تفریط ہے۔ یا نرے سائنسی رویے ہیں، جہاں خالقِ سائنس، خالقِ کائنات رب کا کوئی تذکرہ نہیں۔ صرف طبی معلومات، تجزیے، اعداد و شمار کی دنیا ہے۔ دوسری طرف ’’کورونا کچھ نہیں ہے۔ پروپیگنڈا ہے، سازش ہے!‘‘ کی خیالی دنیا ہے۔ ایک 'State of Denial'l'   ہے بلا دلیل۔ حقائق سے نظریں چرانے کا رویہ۔ سوشل میڈیا پرحقائق سے آگاہی دینے کے نام پر نت نئے شگوفے چھوڑنے والوں کی بہتات ہے۔ یہ حدیث میں مذکور ’’رویبضہ گفتگو کریں گے‘‘ کے مصداق ہیں۔ (الا ما شاء اللہ) بغیر علم (فاسق و فاجر) یہ وہ لوگ ہیں جو اہم معاملات پر رائے زنی کریں گے، مسندِ احمد کی حدیث کے مطابق۔ سوہر آڈیو، وڈیو کلپ کے لیے اپنے دل دماغ کو پیش کر دینا خطرے سے خالی نہیں۔ ان کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ یہ ذہن کو الجھا دیتے ہیں، کنفیوز کر دیتے ہیں۔ بات سمجھنے کی صلاحیت سلب ہو جاتی ہے۔ شفاف، لا ریب(بلا شک و شبہ) حتمی یقینی علم کا منبع قرآن و حدیث ہے یا علمائے حق۔ لا علمی کی صورت میں انہی سے رجوع کا حکم بھی ہے:  ’’اہلِ علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔ ‘‘(النحل: 43)کورونا کی حقیقت جاننے کے لیے بالخصوص وہ عالم جو شریعت اور سائنسی حقائق دونوں پر دسترس رکھتے ہوں، حقائق سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ایسے علماء کی عالمِ اسلام میں کمی نہیں ہے۔ علمائے حق کی جانب سے اس بارے رہنمائی دی جاتی رہی ہے۔ (یہ کالی اسکرینوں پر شاذ ہی ملیں گے!)

حقائق کا خلاصہ : کوروناوائرس، ہر وائرس، بیکٹیریاکی طرح اللہ کی تخلیق ہے۔ آج کا انسان خدا سے منہ موڑے، سائنس و ٹیکنالوجی کی خدائی سے مرعوب، تکبر کی انتہاؤں پر تھا۔ سائنسی خدائی کی حقیقت اللہ نے حقیر ترین نیم جان، نظر نہ آنے والے جرثومے کے ذریعے کھول کر رکھ دی۔ پوری دنیا تہہ و بالا ہو گئی۔ سائنس اللہ کی تخلیقات اور ان کی کارفرمائیوں کا علم ہے۔ انسان نے تو صرف اللہ کے بنائے قوانین، اصول، ضوابط کو محنت اور تحقیق سے سمجھا اور برتا ہے۔ اس ننھے جرثومے نے دنیا بھر کے سائنس دانوں، طبی ماہرین کے دماغوں کی دہی بنا دی۔ مسلسل پینترے، حلیے، عادات و اطوار بدل بدل کر(Mutations) غچے دے رہا ہے۔ سو جتنے گمراہ سورج، چاند، ستاروں کو خدابنا کر پوجنے والے تھے، اتنے ہی گمراہ خود سائنس کو الٰہ بنا کر اس کے پوجنے والے ہیں! سورج عظیم الشان ہے، مگر اللہ کی مخلوق ہے۔ سائنس شعبدوں کی حیران کن دنیا ہے، مگر یہ بھی اشیاء میں رکھی (اللہ کی جانب سے) خصوصیات جانچ پرکھ کر رو بہ عمل لانے کا علم ہے اور بس ۔ اللہ کے تابع ہے۔ جو آگ کو ابرہیم علیہ السلام خلیل اللہ پر ٹھنڈا کرتا اور موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ کی لاٹھی سے اژدھا بنا سکتا ہے! اسی لاٹھی سے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں لحظہ بھر میں خشک شاہراہ بنا دیتا ہے اور فرعون اور اس کے لشکر کو ڈبونے کے لئے اسی لاٹھی کی ضرب سے دوبارہ سمندری لہریں بپھر اٹھتی ہیں! 

 ’’یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے۔ آخر تم کدھر پھرائے جا رہے ہو؟‘‘ (یونس: 32)

سو کورونا اسی رب کی تخلیق ہے، کسی لیبارٹری، سائنس دان، امریکا چین کی نہیں ۔ ’’ان لوگوں نے اللہ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو ذرا ان کے نام تو لو!‘‘ (الرعد: 33) اصول یہ ہے: ’’ہم نے ہرچیزایک تقدیر کے ساتھ پیدا کیہے۔‘‘    (القمر:49) کورونا وائرس اللہ نے پیدا کیاہے۔تقدیر اس کی طے شدہ ہے۔مقررہ وقت پر نازل کیا گیا۔ایک طے شدہ حدتک یہ بڑھے پھیلے گا، باقی رہے گا جس کا تعین خالق(اللہ) نے کر دیا۔اس کا دنیا سے خاتمے کا وقت بھی متعین  ہے۔اور پھر اسے بھی اللہ کے حکم سے فنا کے گھاٹ اتر جاناہے۔ 

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح رہنمائی فرما دی ہے۔ ارشادِ نبوی ہے: ’’اللہ نے ہر بیماری کی شفا ( اور علاج، دوا) نازل فرمائی ہے۔‘‘ (بخاری) بیماری کی صورت میں علاج کروانا آپ کے فرمان کے مطابق ’’اونٹنی باندھ کر توکل کرنا ہے۔‘‘ (ترمذی) یہی سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ’’ہر بیماری کی دوا ہے۔ جب بیماری کے موافق دوا مریض کو مل جائے تو وہ اللہ کے حکم سے صحت یاب ہو جاتا ہے۔‘‘ (مسلم) بیماری کی نوعیت کے مطابق مناسب دوا تجربہ کار، عقلمند، با علم، اہل طبیب (ڈاکٹر) ہی کر سکتا ہے۔ وہ جو بیماری کی نوعیت اور سبب کو سمجھ کر علاج کرے۔ آج تیز رفتار علمی تبادلہ دنیا بھر میں ممکن ہے جس سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ کیا جا سکتا ہے۔ حدیث میں کالے دانے،  کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کی شفا ہے۔( ابن ماجہ) اور شہد کا استعمال مفید فرمایا گیا۔ یہ قوتِ مدافعت بڑھانے اور شفا میں مددگار ثابت رہا ہے، باذن اللہ۔ دو شفا دینے والی چیزیں اختیار کرو، شہد اور قرآن۔ قرآن روحانی اور جسمانی شفا کا خزانہ ہے۔ سانپ کے ڈسے مریض کا سورہ فاتحہ سے شفا کا تذکرہ صحیح بخاری کی حدیث میں موجود ہے۔ بحمدللہ صاحبِ ایمان مریضوں نے وائرس کے حملے میں قرآن کو سببِ شفا، سکینت اور ڈپریشن سے بچاؤ میں نہایت مؤثر پایاہے۔ علاج کے ساتھ قرآن پڑھنے اور سننے کا مسلسل اہتمام رہے۔ 

بیماری کا انکار: کوئی کورونا نہیں ہے! یہ واضح رہے کہ بیماری کا انکار، حقائق کا انکار اور نا سمجھی کی دلیل تو ہو سکتی ہے، ایمان کی مضبوطی کی علامت بہر طور نہیں ہے۔ یہ عذاب کی کیفیت لئے وبائی مرض ہے۔ اس کا انکار اللہ کی کبریائی سے لاعلم ہونے کی علامت ہے۔ دینی جہل کی بنا پر ہے۔ ہر دور میں عذاب نے متکبر قوموں کی سونڈ پر داغ لگایا۔ نمرود کی بڑائی کا زعم توڑنے کو حقیر مچھر کافی ہوا۔ قومِ ثمود اپنی مضبوط ترین چٹانوں میں تراشی تعمیرات پر نازاں تھی۔ عذاب آواز کی کڑک دار لہروں (Sound Waves) کی صورت آ کر کلیجے شق کر گیا۔ نہایت قد آور اونچے ستونوں والے عاد طوفانی تھپیڑوں سے پچھاڑے گئے۔ آج طبی سائنس کی خدائی کو مچھر سے بھی حقیر ترین کورونا نے چکرا دیا ہے۔ الٹی پڑ گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا! اسے دجالی فتنہ کہہ کر رد نہیں کر سکتے۔ دجالیے تو خود اس کی بدترین لپیٹ میں ہیں ۔ لہر در لہر۔ مارچ کے اواخر تک صرف برطانیہ میں ایک لاکھ 26 ہزار اموات ہو چکیں۔ امریکا میں 5 لاکھ 62 ہزار سے زائد موت کے گھاٹ اترے۔ یہ ضرور ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام انسانوں کے دکھ تکالیف بھی کیش کرتا، پیسا بنانے کی راہیں تلاش کرتا ہے۔ ادویہ، ماسک، ویکسین سبھی کے لئے اشتہار بازی، کمپنیوں میں مسابقت، ملکوں ملکوں منڈیوں کی تلاش جاری ہے۔ امریکا یورپ بمقابلہ چین اور گھن کی طرح پستے تیسری دنیا کے غریب مریض۔ ادویہ آزمانے کے سستے شکار ان کی حکو متیں بڑی طاقتوں کو فراہم کرتی ہیں۔ یہ ضرور دجالی فتنہ ہے!میسر علاج تو کروانا لازم ہے۔ توکل اللہ پر ہوگا۔ غذا خوراک کا خصوصی خیال رکھا جائے حتی الوسع۔ (اللہ نے غرباء کو نسبتاً محفوظ ہی رکھا ہے!) قوتِ مدافعت جسمانی اور روحانی جتنی مضبوط ہوگی، صحت یابی ان شاء اللہ جلد ہوجائے گی۔ تعلق باللہ میں جلد شفا کا راز مضمر ہے۔مریضوں کی بالمشافہ عیادت ممکن نہ ہو تو غذا، یخنی، ادویہ کی فراہمی، رہنمائی ان شائاللہ زیادہ مؤثر خبر گیری ہو گی۔ فون کے ذریعے ہمت بندھانی، دعائیں دینی، سکھانی باعثِ شفا و تقویت ہونگی۔ مریض کو قریب ترین عزیز احتیاط سے دعاؤں کے حصار میں خدمات بہم پہنچائیں۔ باذن اللہ محفوظ رہیں گے۔ اجر (مشکل نیکی ہونے پر ) بے پناہ ہو گا۔ ان شاء اللہ!

یہ طے شدہ امر ہے کہ وائرس مؤثر بالذات نہیں ہے۔ کسے پکڑے گا ، کسے چھوڑے گا، یہ صرف اللہ کا فیصلہ ہے۔ سو رجوع اللہ ہی سے ہو گا۔ یہ بھی طے شدہ امر ہے، ایمان اور تجربے کا حاصل ہے (ایک سالہ کوروناحملے کے دوران) کہ محفوظ ترین پناہ گاہ مسجد ہے۔ نماز باجماعت (ماسک پہن کر) کسی صورت نہ چھوڑیں۔ مسجد سے کورونا کسی پر حملہ آور نہیں ہوا۔ دیگر من موجی اکٹھ یقینا غیر محفوظ ہیں۔ دعا ہماری مؤثر ترین سیکورٹی ہے۔ آپس میںایک د وسرے کو سلام کہنا۔ السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ۔ ۔ ایک دوسرے کے کورونائی حملے سے بچنے کی فطری دعا ہے جسے سن کر جرثومہ چپکا بیٹھ رہتا ہے۔ کوئی دعا یاد نہ ہو تو کلمہ طیبہ افضل الذکر اور سب دعاؤں پر حاوی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ایک دعا جامع ترین ہے۔ اس میں بیماری کے ما بعد اثرات کے بھی مکمل خاتمے کی دعا شامل ہے جو کورونا کا خاص نقصان ہے۔ اسے ضرور پڑھئیے: اَللَّھْمَّ رَبَّ النَّاسِ اَذھِبَ البَاسِ وَاشفِ اَنتَ الشَّافِی، لَا شِفَاء اِلَّا شِفَاؤُشِفَاء لایغَادِرْ سَقَمًا۔ ’’اے اللہ! اے لوگوں کے رب! عذاب و تکلیف کو دور کر دے اور شفاء عطافرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیری دی ہوئی شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں ہے، ایسی شفاء دے کہ بیماری کچھ بھی باقی نہ رہے۔ ‘‘ (رواہ ترمذی) ہم اللہ سے ایمان، عافیت، صحت و سلامتی کے طلبگار ہیں۔ آمین


ای پیپر