Shafiq Awan, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
11 اپریل 2021 (11:58) 2021-04-11

گزشتہ دنوں شہباز شریف سے احتساب عدالت میں ملاقات ہوئی جس میں ان سے سیاسی و دیگر معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شہباز شریف کے حوصلے ضمیر کے قیدی کی طرح بلند تھے۔ پی ڈی ایم کی ٹوٹ پھوٹ پر افسردہ تھے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد قائم رہنا چاہیے۔ پھر موجودہ حالات پر بات ہوئی تو مہنگائی اور عوامی مسائل کو لے کر رنجیدہ تھے۔  میں نے حکومت کے خلاف ان کی جماعت کے کردار کے بارے میں بات کی اور پوچھا کہ آپ عملی اقدامات کیوں نہیں اٹھاتے۔ میں نے انہیں آصف زرداری کی طرف سے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر عدم اعتماد کی تجویز کی طرف توجہ دلائی۔

آپ تو تمام معاملات میں آئینی رستہ اپنانے کی بات کرتے ہیں پھر عدم اعتماد بھی ایک آئینی آپشن ہے اس کی طرف کیوں سنجیدہ نہیں۔ ان کا جواب تھا کہ وہ عدم اعتماد کے لیے تیار ہیں لیکن کوئی عملی صورت نظر آئے تب ہی وہ آگے بڑھیں گے۔ حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے جہانگیر ترین کی رائی کا پہاڑ بنانے پر راضی نہ تھے بلکہ ایک مستند سیاستدان کی طرح ان کا تجزیہ تھا کہ ابھی اس معاملے نے کافی کروٹیں لینی ہیں پھر ترین صاحب اور انکے گروپ کی استقامت بھی دیکھنی ہے کہ یہ ناراضگی کا وقتی ابال نہ ہو۔ لیکن پی ٹی آئی کے 35 کے قریب اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی کا پارٹی پالیسی سے ہٹ کر جہانگیر ترین کے ساتھ ہونا بھی اہم واقع ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انکا تجزیہ تھا کہ جہانگیر ترین کو مایوسی ہی ہو گی۔ پھر بات ہوئی کہ آخر ایسا کیا معاملہ ہوا کہ کل کے گلے کے ہار آج کے گلے کے پھندے بن گئے میں نے کہا یہ عمران خان کی فطرت ہے جمائمہ خان سے لے کر ترین تک جو اس کے قریب تھے آج نہیں ہیں۔ بلکہ ایک وفاقی وزیر کی بات سنائی جس نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہم عمران خان کی اتنی قربت کی دعا نہیں کرتے کہ کل تھو دیے جائیں۔بہر حال میری رائے تھی جہانگیر ترین بھی عمران خان کے لیے قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔

پنجاب میں عدم اعتماد پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ترین گروپ سے ہٹ کر سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے اور ان کو ساتھ ملا کر عدم اعتماد کامیاب بنائی جا سکتی ہے۔ 

پھر پیپلز پارٹی اور  ناراض اراکین بھی ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی طرف سے پرویز الٰہی کی قبولیت کے کتنے چانسز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ مسلم لیگ ن کرے گی۔ لیکن یہ بات اہم ہے کہ انہوں نے پرویز الٰہی کی مخالفت نہیں کی۔ سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے۔   

 اس پر لکھنے سے پہلے ٹی وی پر نظر پڑی تو جہانگیر خان ترین کو فریاد کناں دیکھا۔ 

سیاست بھی عجیب گورکھ دھندا ہے پل میں انسان کو شاہ سے گدا بنا دیتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہر ایک کو مکافات عمل کی چکی سے پس کر گزرنا ہوتا ہے پھر بھی جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو فرعون بن جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ یہ اقتدار آنی جانی چیز ہے۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری  پڑی ہے آج کے دور کی طرف آئیں تو جہانگیر خان ترین اس کی زندہ مثال ہیں۔ کل کا بادشاہ گر آج اسی بادشاہ کے سامنے فریادی بنا کھڑا تھا جسے پتھر سے اس نے دیوتا کا روپ دیا۔ جو کبھی انصاف کی مسند سے بھی اونچا بیٹھتا تھا  وہ آج زمین پر انصاف کی دہائی دے رہاتھا۔ ان کا کہنا تھا کے ان خلاف مقدمہ اسلام آباد میں ’’کسی‘‘ کی ڈکٹیشن  پر تیار کیا گیا، یو ایس بی میں ایف آئی آر لاہور لائی گئی اور پھر اس ریڈی میڈ ایف آئی آر پر بادشاہ کے حکم پر بابو لوگوں نے دستخط ثبت کر دیے۔ بات یہیں نہیں رکی بلکہ ایک فون کال پر اپنی پسند کی جانبدارانہ تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی جس کا مقصد ہی مجھے اور میرے خاندان کو ٹارگٹ کرنا تھا۔ اور جو ٹیم تحقیقات کر رہی ہے اس نے پہلے ہی بادشاہ کی خوشنودی کے لیے ذہن بنایا ہوا ہے۔ مجھ پر احسان نہ کرو لیکن تحقیقات کے لیے شفاف ٹیم تو بنا دو۔

اب اگر ماضی قریب میں جایا جائے تو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف بھی تمام تحقیقات اسی طرح کی گئی اسی طرح وٹس ایپ اور فون کالز پر سب کچھ کیا گیا۔ اسی طرح جے آئی ٹی بھی کسی کی ڈکٹیشن پر بنائی گئی تھی جس کا گلہ آج جہانگیر ترین کر رہے ہیں۔لیکن اس وقت ترین صاحب اس سارے عمل کی حمایت کر رہے تھے۔ یاد رکھیے اگر آج آپ کسی کے ساتھ زیادتی کریں گے تو کل یہی آپ کے گلے کا طوق بنے گی۔ اس لیے جب وقت اچھا ہو تو کوشش کیا کیجیے کہ اچھا نہ کر سکیں تو برا بھی نہ ہو کیونکہ ظلم بوم رینگ (Boomrang) کی طرح کا ہوتا ہے واپس پلٹتا ضرور ہے۔۔ 

البتہ ان کی یہ بات معنی خیز تھی کہ پی ٹی آئی میری پارٹی ہے، ہم پارٹی میں ہیں اور رہیں گے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی بنی گالہ گروپ اور جہانگیر ترین گروپ میں بٹ چکی ہے۔ قومی اسمبلی اور پنجاب پارلیمانی پارٹی کی اکثریت جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑی ہے۔ گو کہ ترین گروپ کا دعوی ہے کہ یہ تقسیم آئندہ انتخابات تک جائے گی لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ 

البتہ 30 کے قریب اراکین پنجاب اسمبلی و ممبران قومی اسمبلی نے وزیر اعظم سے جہانگیر ترین کے مسئلے پر ملاقات کے لیے وقت مانگا ہے۔ اور تو اور جہانگیر ترین کے پارٹی میں شدید مخالف شاہ محمود قریشی نے بھی ترین صاحب کو عمران خان سے ملاقات کا مشورہ دے دیا ہے اور شنید ہے کہ یہ پیشکش ’’صاحب بہادر‘‘ کی رضامندی کے بعد کی گئی ہے۔ لیکن اگر جہانگیر ترین کی عمران خان سے ملاقات ہو جاتی ہے اور معاملات طے پا جاتے ہیں تو پھر مزید سوالات سر اٹھائیں گے اور ان میں سر فہرست کسی ممکنہ ’’ڈیل‘‘ کا ہو گا۔ میری رائے میں اس معاملے میں عمران خان جس حد تک آ چکے ہیں ان کی واپسی مشکل لگتی ہے لیکن وہ یو ٹرن کے بھی ماسٹر ہیں اس لیے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔   

جہانگیر ترین کے خلاف ایکشن کے بعد  ہر سینئر بندہ خوفزدہ ہے کہ نجانے اس کی باری کب آ جائے۔ بہر حال ترین صاحب ایک بات پلے باندھ لیں کل کا کیا آج بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کے ماضی کے حکمرانوں کی طرف دیکھیں تو مجھے یقین ہے عمران خان صاحب کو بھی مکافات عمل سے گزرتے ہوئے ایک دن یہ سب بھگتنا ہو گا قانون قدرت ہے یہ۔ 

حکومتی حلقے یہ بھی دعوی کر رہے ہیں کہ ترین گروپ کے کسی رکن کو وزارت سمیت اہم عہدوں سے فارغ کر دیا جائے گا اور ان کو آئندہ انتخابات میں انہی پارٹی ٹکٹ بھی نہ دینے کی سفارش ہے۔ اس پر میری دو وزیروں سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ اختیارات تو سارے بیوروکریسی کے پاس ہیں اور ترین صاحب حکم کریں ہم آج وزارت چھوڑنے کو تیار ہیں۔ پھر پارٹی ٹکٹ کی بات ہوئی تو کہنے لگے یہ تو وقت بتائے گا کہ کون کس کو ٹکٹ دیتا ہے۔ 

قارئین اپنی رائے کے اظہار کے لیے اس نمبر 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل ، بی آئی پی یا ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔


ای پیپر