”انسان اور حیوان“ 
11 اپریل 2021 2021-04-11

 انسانی تہذیب وتمدن کے ارتقائی عمل کا اگر گہرائی سے مطالعہ کرکے عمیق جائزہ لیا جائے، تو ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ موجودہ دور کے رہنے والے انسان اس بات پہ نازاں ہیں کہ وہ ایجادات، علم وفنون، اور فکروآگہی کے کمال پہ پہنچے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی میں سمجھتا ہوں، کہ اخلاقی، معاشرتی، معاشی لحاظ سے ہم ابھی بھی پستیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں دھنسے ہوئے ہیں، ظلم وجبر کی ریاستوں کے قانون طوالت اقتدار کے مدنظر وضع کئے جاتے ہیں، جس کے لیے کسی اصول ، ضابطے، کسی قاعدے کی ضرورت نہیں ہوتی ، حتیٰ کہ حال میں، ہم یہ دیکھ کرحیران، بلکہ مبہوت ہوگئے کہ وہ ریاست جوکہ دنیا بھر کے سیاحوں کی جنت ہے، اور اس اسلامی ریاست کے قوانین بھی ، بظاہر تو اسلامی ہیں، مگر پھر کیا وجہ ہے کہ اس ریاست کا ولی عہد کثرت شراب نوشی سے دیار غیر میں موت کے منہ میں چلا گیا، اور ان کی اہلیہ نے رات کی تاریکی میں کشتی پہ سوار ہوکر برطانیہ بھاگ جانے میں اپنی عافیت سمجھی، کیونکہ روزاول سے حکم اس طاقت کا چلتا ہے، جس دن سے قبیلے یا خاندان کی بنیاد پڑی، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نعرہ تو زیادہ دورکی بات نہیں، اپنی سلطنت کے استحکام اور بقاءکے لیے ہمیشہ سے ٹیکس لگتے آرہے ہیں، سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے، کہ فرانس کے زمانہ جاہلیت وبادشاہت میں پلوں پہ ٹیکس لگتے تھے، سمجھنے کے لیے قارئین عرض ہے کہ جیسے ہمارے ہاں آج تک ٹول ٹیکس کی شکل میں لاگو ہیں، وہاں نمک کھانے پہ بھی ٹیکس تھا، حتیٰ کہ گھروں میں روشن دان رکھنے پہ بھی ٹیکس تھا اور یہی انسانوں اور حیوانوں میں فرق ہوتا ہے۔ ایران میں اسلامی فتوحات سے پہلے بادشاہوں نے اپنی رعایا پہ اس قدر ٹیکس لگائے تھے کہ لوگوں نے کھیتی باڑی ہی چھوڑ دی تھی، جیسا کہ بھارت میں آج کل کسانوں کے لاکھوں کروڑوں کے احتجاجی مظاہرے ٹیکس کے خلاف روزانہ کی بنیاد پہ کئی مہینوں سے جاری وساری ہیں، اور کسانوں نے وہاں بھی دھمکی دی ہے کہ وہ کھیتی باڑی ہی چھوڑ دیں گے میں ذکرکررہا تھا کہ ایران کے بادشاہوں کے ٹیکسوں کی، مگر بادشاہوں کی عیاشی کا یہ عالم تھا، کہ ایران میں انقلاب آنے کی صورت میں فرار کے وقت بھی، بادشاہ اپنے ساتھ ہزار ہزار باورچی، اور ہزار ہزار گلوکاران کے ساتھ ہوتے تھے۔ 

مگر اس بات کا کیا کیا جائے، کہ اب بھی اسلامی مملکت خداداد میں بھی دینی مگر سیاسی جماعتوں نے بھی ایک، ایک، دو،دوگلوکار رکھے ہوئے ہیں۔ کیا ٹرمپ اور بش کی پسندیدہ بلکہ مثالی ریاست جمہوریہ بھارت میں انسانوں کو درجات میں نہیں بانٹ دیا گیا ؟ اور صرف برہمنوں کو حکومت کے منصب کے لیے مختص کردیا گیا۔ برہمن کے ہاتھوں اگر کوئی گناہ سرزد ہو جائے، تو اس کے گناہ سارے کے سارے معاف کردیئے جاتے تھے، اور ابھی بھی وہاں یہی حال ہے، کہ پہلے تو باقاعدہ قانون موجود تھا، کہ اگر کسی برہمن کے ہاتھوں کسی کا قتل بھی ہوجاتا تھا، تو اس کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی تھی۔ مگر کیا یہ بھی ایک حقیقت زمینی نہیں،کہ ان ساری بدعتوں، توہمات ،کم ظرفی، جہالت اور نخوت وغرور کے بت محض اور محض اسلامی احکامات وتعلیمات نے ہی آکرتوڑے ہیں کہ جس نے اسلامی فلاحی مملکت کا تصور دیا، اور عملی طورپر اس کا شان دار مظاہرہ کیا، کہ دنیا یہ دیکھ کر انگشت بدندان ہوگئی، کہ اس قدر وسیع وعریض اسلامی ملک میں زکوٰة لینے والا کوئی بھی نہیں تھا، جبکہ ہمارے ہاں بائیس کروڑ کے ملک میں مسلمان ہونے کے باوجود زکوٰةدینے والے خال خال ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ فلاحی کاموں، آسمانی آفتوں، اور خصوصاً رمضان المبارک میں ہم لوگ دل کھول کر عطیات دیتے ہیں، اور اس طرح سے پاکستان کا ایک اعزاز وقار ہے، کہ ہم تو کیا کوئی بھی اسے جھٹلا نہیں سکتا، مگر دل میں عجیب ایک قلق، صدمہ اور افسوس ہوتا ہے کہ واحد اسلامی ایٹمی ملک کسی دوسری مملکت کے آگے دست دراز کرے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں غربت وافلاس کے ہاتھوں تنگ آکر شرفاءسفید پوش طبقے نے صرف ایک وقت کی روٹی کھانی شروع کردی ہے اور یہ صرف آج کل کی بات نہیں، بلکہ دورگزشتہ کی دونوں تینوں حکومتوں میں غرباءکا یہی حال تھا، اور خودکشیوں اور نہروں میں بچوں کو پھینکنا اپنے بچوں کو بیچ دینا، بھی اب ہماری روایت بنتی جارہی ہے، قارئین آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ خبریں دنیا کے دوسرے باشعور ملکوں میں نہیں جاتی ہوں گی، مگر ہمارا اب تک یہی حال ہے، کہ کبھی تو گاڑیوں کے سیل ٹیکس پہ بات بگڑجاتی ہے، کبھی گریڈ 22کے افسروں کی تنخواہوں میں اضافہ، کبھی ارکان پارلیمان کی مراعات ومشاہیر میں اضافہ اور کبھی وزیراعظم ہاﺅس اور ایوان صدر میں اضافہ کرکے غریبوں اور مفلسوں کا منہ چڑایا جاتا ہے ٹیمیں بنالینے کے باوجود اور مہنگائی کا نوٹس لینے کے باوجود گندم دیگر اجناس موجود ہمارے ملک میں پیدا ہوتی ہیں، اور دوائیوں کی قیمتوں میں کئی سو گنا زیادتی کے بجائے انہیں اعتدال میں رکھنے کی کیا سعی کی گئی ہے، ایک اسلامی فلاحی مملکت اور کلمے کے نام پہ بننے والے ملک میں سودسے پاک قرضہ جات کے حصول کیلئے کوئی نظام وضع کیا گیا ہے؟ غریبوں ، لاوارثوں، بیواﺅں، یتیموں، لاچاروں، مسکینوں کو کس کے رحم وکرم پہ چھوڑدیا گیا ہے، کیا یہ صرف ڈاکٹر امجد ثاقب اور ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی ذمہ داری ہے اگر لاہور اسلام آباد کے موٹرویز کے علاوہ دوسرے موٹرویز میں آنے والے اخراجات پورے ہوگئے ہیں تو پھر اس کو کیوں ختم نہیں کردیا جاتا، تاکہ استطاعت نہ رکھنے والوں کو کچھ سکون ملے، کیونکہ ہمارے ہادی برحق کا فرمان عالی شان ہے کہ مجھے غریبوں میں تلاش کرو، کیونکہ غریبوں کی مدد کرنے کی وجہ سے ہی تمہیں مدد اور روزی ملتی ہے، اس لیے ہمیشہ غریبوں سے دوستی رکھو ، اگر ملک میں غریبوں کی مشکلات میں کمی کرنے کے بجائے، ان کی مشکلات میں روزبروز اضافہ کرنے کے منصوبے بنائے جائیں، تو پھر ہمارا نہیں خیال کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے حبیب خوش ہوں گے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنی ناراضگی سے رعایا اور حکمرانوں کو محفوظ رکھے، آمین اور انسانیت کے سردارکا دل ہم سے خوش ہوجائے ۔


ای پیپر