آپ کو کرونا ہےیا نہیں؟حکومت نے پائلٹ ٹیسٹ شروع کر دئیے?
11 اپریل 2020 (21:06) 2020-04-11

اسلام آباد:وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے نظام کو وسیع کرتے ہوئے علامات ظاہر نہ ہونے والے افراد کے ٹیسٹ کے لیے پائلٹ ٹیسٹ پروجیکٹ شروع کر دیا گیا ہے۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے اور ہم ایک لاکھ 20 ہزار خاندانوں تک امداد پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں، اور اب تک 11 لاکھ لوگوں کو پیسہ دے دیا گیا اس کے لیے13 ارب روپے بانٹے جاچکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بدنظمی کے حوالے سے خدشہ تھا اور اب بھی ہے لیکن زیادہ تر جگہوں میں اچھے طریقے سے انتظام کیا گیا ہے کچھ جگہ مسائل بھی آئے ہیں۔

کورونا وائرس کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ این ڈی ایم اے اب تک 17 لاکھ سرجیکل ماسک تقسیم کرچکی ہے اسی طرح این 95 ماسک 75 ہزار تقسیم ہوچکے ہیں جو ہمارے فرنٹ لائن ورکرز کیلئے ہیں اس لیے دیگر افراد استعمال نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ حفاظتی لباس 73 ہزار، گلوز ساڑھے 6 لاکھ، سرجیکل کیپس ایک لاکھ 37 ہزار تقسیم کرچکے ہیں اور وینٹی لیٹر پر کھڑے ہو کر کام کرنے والے عملے کو 10 ہزار فیس شیلڈز فراہم کردی گئی ہیںانہوںنے کہاکہ تشخیص کیلئے پی سی آر مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے 14 مشینی لائی گئی ہیں، اب 26 سے 27 لیبارٹریاں فعال ہوچکی ہیں جہاں رکھنے کیلئے 14 نئی مشینیں لائی گئیں اور تمام صوبوں کو دے دی گئی ہیں۔

حفاظتی اقدامات کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تشخیصی کٹس پر مشتمل ایک لاکھ ٹیسٹ کا سامان آگیا ہے جس میں سے 50 ہزار سندھ، 25 ہزار بلوچستان اور اسی طرح مزید کٹس آرہی ہیں جو دیگر علاقوں تک پہنچائی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کمانڈ سینٹر کے اندر ایک ٹیم بنائی گئی ہے جو لیبارٹری جہاں ٹیسٹ ہونے ہیں اور صوبوں سے رابطے اور دیگر معاملات پر کام کرے گی۔ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپریل کے آخر تک ٹیسٹ کی تعداد 20 سے 25 ہزار ٹیسٹ تک پہنچانے کا ہدف ہے اور اس میں کامیاب ہوئے تو ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت میں 30 فیصد اضافہ ہوگا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے متاثرین کا سراغ لگانے کے لیے اقدامات کو وسیع کرنے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ہم ٹیسٹ کرنے کے طریقہ کار کو وسیع کر رہے ہیں اس کے لیے پائلٹ ٹیسٹ شروع کردیا گیا ہے جو پورے صوبوں کے لیے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہر صوبے میں ایک اور کچھ صوبوں کے دو اضلاع میں اسی طرح اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ہر علا قے میں یہ پائلٹ پروجیکٹ شروع ہوا ہے۔

پائلٹ پروجیکٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کے نتائج آنے میں 3 سے چار دن لگیں گے اور وہ نتائج ہمارے پاس آئیں گے تو ہم اس نظام کو بہتر انداز میں چلانے اور تبدیلیوں کے حوالے سے بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اب تک علامات ظاہر ہونے پر ٹیسٹ کرتے تھے لیکن ہم تحقیق کی بنیاد پرکام کرناچاہتے ہیں جس کے لیے وسیع پیمانے پر ٹیسٹ کررہے ہیں اور آبادی کے اندر جا کر اندازہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ وبا پاکستان میں کس حد تک پھیلی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ خصوصی طور پر وہ ٹارگٹ گروپ جن پر ہم نے فیصلہ کرنا ہے جس میں صنعتوں میں کام کرنے والے افراد ہیں کیونکہ ہمیں آگے جا کر فیصلے کرنے ہیں کہ کن صنعتوں، شعبوں اور کاروبار کو کھولا جائے اور کس کو نہیں کھولنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس عملی طور پر تحقیق کی بنیاد پر دستاویزات موجود ہوں جس کی بنیاد پر ہم فیصلے کریں اور کس شعبے کو کھولنے سے کتنا خطرہ ہے یہ معلوم ہونا چاہیے۔

کورونا وائرس سے معیشت پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو وبا شروع ہونے سے ٹیکس وصولی میں ایک تہائی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک تہائی کو پورے سال پر پھیلا دیا جائے تو تقریباً 1400 یا 1500 ارب روپے کے اثرات کی بات ہوگی اور ہم اس کو ملک بھر میں دیکھ رہے ہیں اور بندشیں لگانے سے عوام کو انفرادی طور پر روزگار اور آمدنی پر بوجھ پڑ رہا ہے جس کو ہم نے دیکھنا ہے۔


ای پیپر