کرونا :امریکی دوا ساز کمپنی نے بڑی خوشخبری سنادی
11 اپریل 2020 (18:04) 2020-04-11

واشنگٹن:نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق نوول کرونا وائرس کے مریضوں کے ایک چھوٹے سے گروپ کوتجرباتی میڈیسن ریمڈیسیویر کا استعمال کرایا گیا جس کے بعد ان کی حالت میں بہتری آگئی۔

امریکی دوا ساز کمپنی گلیڈ سائنسزکی تیار کردہ ریمڈیسویر ، ابھی تک عالمی سطح پر کہیں بھی لائسنس یافتہ یا منظور شدہ نہیں ہے اور ابھی تک اس کو کوویڈ- 19 کے محفوظ اور موثر علاج کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیاگیا۔نوول کرونا وائرس کی شدید پیچیدگیوں کے ساتھ اسپتال میں داخل مجموعی طور پر 53 مریضوں کا انفرادی ہمدردی کی بنیاد پر اینٹی ویرل دوائی سے علاج کرایا گیا جس کا مقصد طبی آزمائش نہیں تھی۔

گیلیاڈ نے ایک بیان میں کہا کہ گروہ کے زیادہ تر مریضوں نے طبی طور پر بہتری کا مظاہرہ کیا اور رمڈیسویر کے علاج سے کسی قسم کے منفی اثرات سامنے نہیں آئے۔مطالعہ میں شامل کیے گیے مریضوں میں سے تقریبا دو تہائی ابتدا میں مکینیکل وینٹیلیشن پر تھے ریمڈیسویر کے ساتھ علاج سے ریمیڈیشویر کی پہلی خوراک سے 18 دن تک میڈین فالو اپ کرنے والے 68 فیصد مریضوں میں آکسیجن سپورٹ کلاس میں بہتری واقع ہوئی ۔

مکینیکل وینٹیلیشن والے مریضوں میں سے نصف سے زیادہ مریضوں سے مصنوعی سانس کی نالی کو ہٹا دیا گیا اور تقریبا نصف مریضوں کو ریمڈیسیویر کے ساتھ علاج کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا۔گیلڈ نے کہا کہ ہمدردانہ بنیاد پر میڈیسن کے استعمال کے اعداد و شمار مریضوں کی تعداد کم ہونے،نسبتا مختصر دورانیہ کے فالو اپ، پروگرام کی نوعیت کے باعث امکانی طور پرمکمل اعدادوشمار نہ ہونے کے باعث محدود نوعیت کے ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف ،لاس اینجلس کے سیڈارزسینائی میڈیکل سینٹر کے متعدی امراض اسپتال کے ڈائریکٹر جوناتھن گرین کا کہنا ہے کہ فی الحال کوویڈ19 کا کوئی ثابت شدہ علاج موجود نہیں ہے ہم ان اعداد و شمار سے قطعی نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے ہیں ، لیکن اسپتال میں داخل مریضوں کے اس گروپ پر اس میڈیسن کے استعمال سے ہونے والے مشاہدات سے پر امید ہیں۔


ای پیپر