یہ ملاقات اِک بہانہ ہے!
11 اپریل 2020 2020-04-11

جمعرات کو میرا کالم شائع نہیں ہوا، مجھے یقین ہے جمعرات کو میرے قارئین کا وقت بہت اچھا گزرا ہوگا۔ خصوصاً پی ٹی آئی کے ”ٹائیگرز“ کا وقت تو بہت ہی اچھا گزرا ہوگا، کیونکہ آج کل میں اپنے تقریباً ہرکالم میں اُن پر دوستانہ تنقید کررہا ہوں، میں سمجھتا ہوں یہ میرا حق ہے، ہمارے محترم بھائی اجمل نیازی کہا کرتے ہیں جو اتفاق کرتا ہے اُسے اختلاف کرنے کا حق بھی حاصل ہوتا ہے اصل دوستی یہی ہے آپ دوست کو سیدھی راہ پر رکھنے کی کوشش کریں، اور خودبھی سیدھی راہ پر رہیں، کالم کے لیے میں نے ہفتے میں تین روز مقرر کیے ہوئے ہیں، ایک اُن میں جمعرات ہے، گزشتہ بدھ کو مجھے وزیراعظم عمران خان کی پُرزور بلاوے پر اچانک اسلام آباد جانا پڑا، سو جو کالم جمعرات کو شائع ہونا تھا وہ بدھ کو میں نہیں لکھ سکا، خان صاحب جب سے وزیراعظم بنے میرا اُن سے مسلسل رابطہ ہے، ضروری نہیں ہربات کے لیے اُن سے ملاقات کی جائے، کوئی بھی خرابی جو میں محسوس کرتا ہوں اُنہیں واٹس ایپ پر مسیج کردیتا ہوں، اُس پر عمل نہ ہو اُس پر کالم بھی لکھ دیتا ہوں، کچھ قومی معاملات میں خرابیاں میری نظر میں اب بڑھتی جارہی تھیں، سو اس بار یہ سوچ کر اُن کی محبت بھری بلکہ کسی حدتک غصے بھری دعوت میں نے قبول کرلی اُن سے مل کر حقائق سے اُنہیں آگاہ کرنا چاہیے، جو، اب شاید کوئی نہ کررہا ہو، جب کوئی شخص کسی اہم عہدے پر پہنچ جاتا ہے اُس کے اردگرد اُس کا ڈھول بجانے والے، اُس کے گُن گانے والے، اُس کے ہر صحیح غلط کام پر اُس کے لیے تالیاں بجانے والے اور بغلیں بجانے والوں کی تعداد یکدم بڑھ جاتی ہے، اِن حالات میں بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اِس یقین میں مبتلا ہوجاتا ہے میری غیرضروری طورپر جو خوشامد کی جارہی ہے، مجھے جو فرشتہ قرار دیا جارہاہے، وہ بالکل جائز اور درست ہے، بلکہ لوگوں کو چاہیے وہ مجھے فرشتے سے بھی بڑھ کر کوئی درجہ دیں، ....میں تو خیر حکمران بننے کا اہل نہیں، اور اِسی وجہ سے مجھے یقین بھی ہے میں بھی اِک دن ضرور حکمران بن جاﺅں گا، ایسی صورت میں خوشامد پسندی میں میرا رویہ بھی وہی ہوگا جو سب حکمرانوں کا ہوتا ہے، خوشامد پسندی ہمارے ہاں حکمرانی کا ایک لازمی حصہ ہے، شریف برادران اِس معاملے میں اول درجے پر فائز تھے، اس حوالے سے اُن کے بڑے بڑے یاد گار قصے ہیں جن پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، وہ اپنے ”پھٹے“ اُٹھوانے سے زیادہ ”پھٹے“ چٹوانے پر یقین رکھتے تھے، ....ویسے میں نے اپنے حکمران بننے کی بات ایسے ہی کردی، میں اپنے گھر کا حکمران آج تک نہیں بن سکا ملک کی حکمرانی میں نے کیا کرنی ہے؟۔ گھر کا مکمل کنٹرول پہلے والدین، خصوصاً والد محترم کے پاس تھا، اب بیگم کے پاس ہے، کیونکہ میں سمجھتا ہوں گھر کی حکمرانی وہ مجھ سے بہتر کرسکتی ہیں، حالانکہ اکثر بزرگوں سے ہم نے سن رکھا ہے جس گھر کا کنٹرول عورت کے ہاتھ میں ہو وہ گھر برباد ہو جاتا ہے، میرا تجربہ ذرا مختلف ہے، جیسے اکثر لوگ دوسری شادی اس لیے کرتے ہیں اُن کی پہلی شادی کا تجربہ ناکام رہتا ہے، میں دوسری شادی اِس لیے کرنا چاہتا ہوں میری پہلی شادی کا تجربہ کامیاب رہا ہے،.... ویسے اب دوسری شادی کا رسک کم لوگ ہی لیتے ہیں، خصوصاً پاکستان میں تو بہت ہی کم لوگ لیتے ہیں جس قسم کی ہماری ”ملاوٹی خوراکیں“ ہیں، جس قسم کا مختلف معاملات میں سڑیس ہے اُس میں دوسری شادی کی اجازت بیگم دے بھی دے صحت نہیں دیتی ،....جیسے ہمارے مرحوم دوست دلدار پرویز بھٹی سے اُن کی بیگم نے پوچھا ” مجھے پتہ چلا ہے آپ دوسری شادی کررہے ہو؟ ، وہ بولا ” بیگم تم خود بتاﺅ میں بھلا اِس قابل ہوں ؟ تم سے بڑھ کر کس کو پتہ ہوگا؟ ، میں اکثر ملک سے باہر جاتا ہوں، اکثر ممالک میں بیگم اور بچے بھی ساتھ ہوتے ہیں، 2016ءتک کبھی ایسے نہیں ہوا بیگم ساتھ نہ ہو اور وہ غیر ضروری طورپر دن میں کئی کئی بار مجھے فون اور میسجزکرکرکے اپنے بیوی ہونے کے حق کو ناحق استعمال کرے۔ 2016ءمیں میرے والد محترم انتقال فرما گئے، اُس کے بعد میں لندن گیا میں نے محسوس کیا اپنی عادت اور روایت کے بالکل برعکس دن میں کئی کئی بار بیگم کے مسیجزاور کالز آتی ہیں جو بعض اوقات مختلف مٹینگز اور تقریبات میں ہونے کی وجہ سے میں اٹینڈنہیں کرپاتا، میں اِس وجہ سے ڈسٹرب ہو رہا تھا، میں نے اُس سے

پوچھا ”تم تو کبھی مجھے فون یا مسیجز نہیں کیا کرتی تھی یہ اچانک تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ وہ بولی ” پہلے ابوجی زندہ تھے اُن کی موجودگی میں آپ سے کسی معاملے میں مشورے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی، اب وہ نہیں ہیں تو بے شمار معاملات میں آپ کے مشوروں اور گائیڈنس کی ضرورت ہوتی ہے، .... میری بیگم میں بے شمار خوبیاں ہیں، اُس کی ان ہی خوبیوں کی بنیاد پر کبھی کبھی میرا جی چاہتا ہے اُس کی جگہ میں ”بیگم“ ہوتی، پر مجھ میں جو خامیاں ہیں مجھے یقین ہے اُس کی بنیاد پر اُس کا جی کبھی نہیں چاہا ہوگا میری جگہ وہ ”شوہر“ ہوتی۔ اُس نے غیرضروری طورپر کیا، ضروری طورپر بھی کبھی نہیں پوچھا ”کہاں جارہے ہو ؟ کہاں سے آرہے ہو؟ کب سے جارہے ہو؟، کب تک جاتے رہو گے؟ یا واپس کب آﺅ گے؟ وغیرہ وغیرہ ....میں نے اکثر اپنے دوستوں کی بیگمات کو دیکھا ہے وہ بے چارے جب گھر سے یا ملک سے باہر جاتے ہیں اُن کی بیگمات کالز اور مسیجز کرکرکے اُن کا جینا حرام کردیتی ہیں۔ ایسے مظلوم شوہر بالآخر اس احساس میں مبتلا ہو جاتے ہیں اُنہوں نے شادی کا پنگا کیوں لیا؟ کام تو اُس کے بغیر بھی چل ہی رہا تھا، ہمارے کچھ خواتین، خصوصاً ”میرا جسم میری مرضی“ جیسے ” پلیدقول یا نعرے کی قائل خواتین شادی کے بعد اپنے شوہروں کا جینا حرام کردیتی ہیں، بلکہ اُن بے چاروں کی مسلسل نگرانی کرکے اُنہیں خودکشی کا موقع نہ دے کر اُن کا مرنا بھی حرام کردیتی ہیں، مجھے یقین ہے ”کورونا“ ایسے شوہروں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، کیونکہ کورونا سے بڑے عذاب کا تو پہلے ہی وہ بے چارے شکار ہیں، .... میرا جسم میری مرضی جیسی سوچ کی حامل خواتین مردوں کے مقابلے پر اُترنے کو باقاعدہ اپنی شان سمجھتی ہیں، عورت کو عورت ہی رہنا چاہیے، عورت جب مرد بننے کی کوشش کرتی ہے، یا کوئی مرد عورت بننے کی کوشش کرتا ہے تو زیادہ سے زیادہ وہ ”کھسرے“ ہی بن سکتے ہیں، کل میں اپنے بھائی شاندار پولیس افسر ڈاکٹر طارق رستم چوہان سے کہہ رہا تھا کورونا کی وجہ سے ہمارے بے شمار شادی شدہ دوستوں کو مسلسل اپنے گھروں میں بیٹھنا پڑرہا ہے تو قیامت کی دیگر نشانیوں میں ایک نشانی وہ اب یہ بھی تصور کرنے لگے ہیں اب اپنی ہی بیویاں اُنہیں اچھی لگنے لگی ہیں، .... خیر بات میں نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اپنی طویل ملاقات کی کرنی تھی عورتوں کا ذکر بیچ میں پتہ ہی نہیں چلا کیسے آگیا؟ کوشش کروں گا اگلے کالم میں صرف میں اور خان صاحب ہوں۔ عورت بیچ میں نہ آئے !!

(جاری ہے)


ای پیپر