تماشا میرے آگے
11 اپریل 2018

1956ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے آئین نے اپنے نفاذ کے ساتھ گورنر جنرل سکندر مرزا کو صدر مملکت کے منصب پر فائز کر دیا۔۔۔ لیکن ہماری مقتدر قوتوں کے اس نمائندے کو یہ آئین پسند نہیں تھا نہ اسے منصب کی حرمت و وقار کی پروا تھی۔۔۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی کے ساتھ اس جمہوری اور اسلامی آئین کو ختم کر کے رکھ دینا چاہتا تھا یا اس کا حلیہ اس طرح بگاڑ کر رکھ دینے کے در پے تھا تاکہ قومی دستاویز کے ڈھانچے سے جمہوریت کی روح کھینچ کر رکھ دی جائے۔۔۔ اپنی اسی سوچ کو وہ کنٹرولڈ جمہوریت سے تعبیر کرتا تھا۔۔۔ کمانڈر انچیف جنرل ایوب قدم قدم پر اس کا ساتھ دینے کے لیے آمادہ تھا۔۔۔ آئین نافذ ہو چکا تھا۔۔۔ اس کے تحت پہلے عام انتخابات کے انعقاد کا مرحلہ در پیش تھا۔۔۔ ان کی تاریخ کا اعلان کیے جانے سے پہلے قائداعظم اور لیاقت علی کی وارث مسلم لیگ کے اندر نقب زنی کی ٹھان لی گئی۔۔۔ راتوں رات ری پبلیکن پارٹی بنی۔۔۔ کئی نام نہاد مسلم لیگی جو قیام مملکت سے پہلے انگریزی راج کی ساختہ یونینسٹ پارٹی کے رکن تھے اور پاکستان کی حقیقت کی تاب نہ لاتے ہوئے اقتدار پرستی کے جذبے بلکہ ہوس کے جذبے سے مغلوب ہو کر مسلم لیگ میں آ گئے تھے۔۔۔ وہ سب راتوں رات وقت کی کنگز پارٹی میں شامل ہو گئے۔۔۔ یوں پاکستان میں مقبول عوامی جماعتوں کو بے اثر کر کے رکھ دینے کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کی خانہ ساز سیاسی جماعتیں وجود میں لانے کے عمل کا آغاز ہوا۔۔۔ اسی اثناء میں پہلے عام انتخابات فروری 1959 ء میں ہونا طے پا گئے۔۔۔ لیکن ری پبلیکن پارٹی کو اس وقت کی مسلم لیگ کے مقابلے میں عوامی سطح پر اٹھان نہ مل سکی۔۔۔ لوگ اٹھتے بیٹھتے اسے یونینسٹ پارٹی کی وارث قرار دیتے تھے۔ استہزا اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔۔۔ میڈیا کی دنیا روزانہ چھپنے والے چند اخبارات، ہفت روزہ اور ماہانہ جرائد تک محدود تھی۔۔۔ ریڈیو پاکستان کی نشریات خبروں کے بلیٹن سمیت حکومت وقت کی کنٹرول میں تھیں۔۔۔ ٹیلی ویژن سرکاری یا نجی نام کی کوئی چیز اپنا وجود نہیں رکھتی تھی۔۔۔ سوشل میڈیا کے جس روگ نے موجودہ دور میں ہمارے اذہان کو دبوچ رکھا ہے پاکستان کیا دنیا بھر میں کوئی اس کے تصور سے بھی آشنا نہ تھا۔۔۔ اس کے باوجود لوگوں کے شعور کا یہ عالم تھا کہ سکندر مرزا کی ری پبلیکن پارٹی کو ماسوائے اس کے کہ مقتدر حلقوں کی خانہ ساز ہے۔۔۔ عوام کے اندر کوئی پذیرائی نہ ملی۔۔۔ یہ بات ہر ایک کی زبان پر تھی کہ اسے مسلم لیگ کو زیر کر کے رکھ دینے کی خاطر بنایا گیا ہے۔۔۔ پنجاب اور اس وقت کے صوبہ سرحد کے اندر مسلم لیگ کو نئی عوامی زندگی مل رہی تھی۔۔۔ انتخابات کی تیاریاں زور پر تھیں۔۔۔ ہمارے بالائی طبقوں ، سکندر مرزا اور ایوب خان کی قیادت کو احساس ہو گیا ری پبلیکن پارٹی ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی۔۔۔ چنانچہ انتخابات کے انعقاد سے پانچ ماہ قبل صدر اور کمانڈر انچیف دونوں نے مل کر آئین و جمہوریت، سیاسی جماعتوں اور ملک میں ہونے والے پہلے عام انتخابات ہر ایک کی بساط لپیٹ کر رکھ دی۔۔۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔۔۔ ری پبلیکن پارٹی کا غبارہ بھی پھٹ گیا۔۔۔ اس کا نام ونشان باقی نہ رہا۔۔۔ مارشل لاء لگا تو ایوب خان نے کنگز پارٹی کے بانی اور دماغ سکندر مرزا کو ذلیل کر کے ایوان صدر اور ملک دونوں سے باہر نکال پھینکا۔۔۔ وہ اپنی کنگز پارٹی بنانا چاہتے تھے۔۔۔ جس کا موقع چار سال بعد 1962ء میں جب کمانڈر انچیف اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے فوجی حکمران کے ذریعے جکڑ بندی میں لے رکھی پاکستانی قوم پر ذاتی مرضی کا دستور مملکت مسلط کر دیا۔۔۔
سکندر مرزا اور ایوب خان دونوں کب کے اس دنیا سے چلے گئے ہیں۔۔۔ لیکن اپنے پیچھے ترکے کے طور پر دو مکروہات چھوڑ گئے۔۔۔ جنہیں ان کے وارثوں نے اب تک حرز جان بنا کر رکھا ہوا ہے۔۔۔ جمہوریت پنپ رہی ہے۔۔۔ نہ عوام کو حق حکمرانی مل پا رہا ہے، نہ یہ مملکت خدا داد معاشی اور اقتصادی ترقی کر کے اور اپنے پاؤں پر کھڑی ہو کر غیروں کی مالی امداد اور قرضوں کے
چنگل سے نجات پا رہی ہے۔ ان مکروہات میں سے پہلی قوم کے متفق علیہ آئین یا دستور مملکت کے ساتھ انقباض اور مغائرت کا رویہ ہے۔۔۔ دوسری ہر اہم موڑ پر روایتی لوٹوں کے ذریعے منتخب اور مقبول سیاسی جماعت کے اندر دراڑیں پیدا کرنا اور متبادل کے طور پر گھر کی لونڈی کا درجہ رکھنے والی سیاسی تنظیم کو سامنے لا کھڑا کرنا ہے۔۔۔ قومی آئین کے ساتھ جو مخاصمت سکندر مرزا اور ایوب خان کے اندر پائی جاتی تھی۔۔۔ وہ آج کی مقتدر قوتوں کو بھی ہے۔۔۔ اس کے تسلسل میں کمی نہیں آئی یہ وہ واحد منفی عامل ہے جس نے ہمارے جسد قومی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔۔۔ اگر 1956ء کے آئین کو ملیا میٹ نہ کیا جاتا اور اعلان شدہ پروگرام کے تحت فروری 1959ء کو اس کے تحت عام انتخابات ہو جاتے۔۔۔ انتقال اقتدار کی کڑوی گولی بھی نگل لی جاتی تو امکان غالب ہے بعد میں شیخ مجیب کے چھ نکات کی نوبت نہ آتی۔۔۔ جن کا خمیازہ ہمیں 1970ء کے چناؤ کے ساتھ بھگتنا پڑا۔۔۔ اور جسد قومی کو ایسے کاری زخم لگے کہ آج تک چاٹ رہے ہیں۔۔۔ اڑتالیس برس گزر چکے ہیں کوئی دن نہیں جاتا کہ قومی زندگی کی کسی نہ کسی سطح پر اتنے بڑے المیے کا گہرے دکھ کے ساتھ ذکر نہ کیا جاتا ہو۔۔۔ درجنوں سے زائد کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔۔۔ ہر سال 16 دسمبر 1971ء کے موقع پر مضامین اور تجزیوں کا ابنار لگا دیا جاتا ہے بھارت کے اندر اس دن کا تذکرہ ہوتا ہے تو وہاں کے سیاستدان اور میڈیا کے لوگ خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ بیرسٹر محمد علی جناح جیسے آئین دوست رہنما کی قیادت میں قائم شدہ پاکستان کو آئین مخالف قوتوں کے دور میں دولخت جو کر دیا تھا۔۔۔ اس کا آدھا بازو کاٹ کر رکھ دیا گیا تھا۔۔۔ ہمارے بہادر اور محب وطن کو اتنی زیادہ تعداد میں دشمن کے آگے ہتھیار پھینکنا پڑے۔۔۔ لیکن اس قوم کی حرماں نصیبی ملاحظہ کیجیے آئین کے ساتھ انقباض رکھنے والی جو طاقتیں ہیں ان کے اندر مغائرت کا جو جذبہ روز اول سے چلا جا رہا ہے اب بھی باقی ہے خواہ زبانی کلامی کتنا یقین دلائیں۔۔۔ 1973ء کا متفق علیہ آئین 1971ء کے تلخ ترین تجربے کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا۔۔۔ بچے کھچے پاکستان کے اندر قوم کے تمام منتخب نمائندوں نے اس پر صاد کیا تھا۔۔۔ اس کے اندر دفعہ 6 کے تحت طے پایا آئندہ جو بھی آئین کے ساتھ کھلواڑ کرے گا غاصب ہو گا۔۔۔ سنگین غداری کا مرتکب قرار پائے گا۔۔۔ قرار واقعی سزا کا حق دار ہو گا۔۔۔ یہ سب کچھ کتاب آئین کے اندر درج تو کر دیا گیا۔۔۔ آج بھی موجود ہے۔۔۔ لیکن 1979ء کے مارشل لاء کے تحت اسی آئین کا بانی قتل کے الزام میں تخت�ۂ دار پر لٹک گیا جبکہ 2013ء میں منتخب ہونے والی حکومت نے چوتھے فوجی ڈکٹیٹر پر اس دفعہ کے اطلاق کی عدالتی شروعات کیں تو پہلے دھرنوں کے ذریعے اسے ادھ موا کر کے رکھ دیا گیا پھر مجبور کر دیا گیا کہ مشرف کو بیماری کے بہانے عدالتی حکم کے ذریعے باہر چلے جانے کی سہولت فراہم کرے۔۔۔ ریٹائرڈ جنرل مشرف کا دیار غیر میں دیا ہوا انٹرویو ریکارڈ پر ہے کہ اسے ملک سے نکل آنے میں جنرل راحیل شریف نے ججوں سے کہہ کر مدد کی تھی۔۔۔ لمبی کہانی مختصر کرتے ہیں۔۔۔ اس وقت بھی ملک کے اندر جو کشمکش ہے اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتی وہ جوہری طور پر ایک منتخب وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان نہیں جیسا کہ بظاہر نظر آتا ہے۔۔۔ اصل تناؤ متفق علیہ آئین اور مقتدر قوتوں کے درمیان پایا جاتا ہے جو سکندر مرزا اور ایوب عہد سے چلا آ رہا ہے ، ختم ہونے کو نہیں آتا۔
دوسری مکروہ روایت جو مندرجہ بالا دونوں افراد اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں وہ خانہ ساز سیاسی جماعتوں کی تشکیل کا سلسلہ ہے۔۔۔ ری پبلیکن پارٹی کا احوال اوپر بیان ہو چکا ہے۔۔۔ ایوب خان نے کنونشن لیگ بنائی۔۔۔ تمام لوٹے اور پشتینی وفادار اس کی چھتری تلے آن جمع ہوئے۔۔۔ نام نہاد فیلڈ مارشل نے قائداعظم کی ہمشیرہ اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں جنوری 1965ء کا صدارتی انتخاب اسی کے پلیٹ فارم پر لڑا۔۔۔ شکست ہو رہی تھی۔۔۔ مشرقی پاکستان ڈٹ گیا تھا۔۔۔ اب ناقابل تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں جی بھر کر دھاندلی کی گئی۔۔۔ مگر ایوب کے زوال کے ساتھ کنونشن لیگ بھی بغیر کسی کفن اور نماز جنازہ کے قبر کے اندھیروں میں مر کھپ کر رہ گئی۔۔۔ آج اس کے وارثوں کو نام لیتے شرم محسوس ہوتی ہے۔۔۔ روایت مگر زندہ رہی۔۔۔ ضیاء الحق آمریت کے زیرسایہ جونیجو لیگ بنی۔۔۔اس سے نبھ نہ سکی۔۔۔ اسی کی کوکھ سے ن لیگ برآمد ہوئی۔۔۔ اس نے جھرجھری لی اور آئین و جمہوریت کے حق میں اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ عوامی مقبولیت ملی۔۔۔ اسے ملک عدم کا راستہ دکھانے کی خاطر پرویز مشرف کے فوجی راج کے دوران ق لیگ کو ری پبلیکن پارٹی کی کڑی کے طور پر سامنے لایا گیا۔۔۔ 2002ء کے فوجی سرپرستی والے انتخابات کے بعد اقتدار بھی سپرد کر دیا گیا مگر 2008ء کے چناؤ میں اسے 45 نشستوں کے قابل سمجھا گیا۔۔۔ وہ بے چاری اتنی بھی حاصل نہ کر سکی۔۔۔ آج چودھری شجاعت اسی کا رونا رو رہے ہیں۔۔۔ ن لیگ کو عوامی مقبولیت کی وجہ سے باردگر عروج ملا۔۔۔ اس کے اقتدار کے خاتمے کی خاطر خانہ سازی کی فیکٹری اب ایک مرتبہ پھر چل پڑی ہے۔۔۔ قومی کی جگہ صوبائی سطحوں پر من مرضی کی تنظیموں کو جنم دینے پر زور ہے۔۔۔ پہلے کوئٹہ میں بلوچستان کی سطح پر ایک جماعت کا اعلان ہوا۔۔۔ صوبائی حکومت پارٹی کے وجود میں آنے سے پہلے اس کے عہدیداروں کے سپرد کی جا چکی تھی۔۔۔ اب پنجاب حکومت پر شب خون مارا جا رہا ہے۔۔۔ جنوبی صوبہ محاذ کے نام پر مسلم لیگ (ن) سے باغی عناصر کو ابھار کر بڑے کروفر کے ساتھ سامنے لایا گیا ہے۔۔۔ یہ سب لوگ پہلے ق لیگ کے چٹے بٹے تھے۔۔۔ چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہوئے ن لیگ میں شامل ہو گئے۔۔۔ اب اصلی آقاؤں کے اشارے پر اڑنچھو ہو گئے ہیں۔۔۔ ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے ۔۔۔ اسی کی آڑ میں ملک وقوم اور آئین و جمہوریت کی جو درگت بن رہی ہے اس کی 1958ء اور 1971ء میں کسی کو پروا تھی نہ آج ہے۔


ای پیپر