موسمی پرندوں کی اڑانیں
11 اپریل 2018

عجیب بات ہے۔کھیل بھی وہی ہے سکرپٹ بھی وہی عشروں پرانا۔ہدایت کار اورکہانی کاربھی وہی جانے پہچانے۔ کبھی کبھار ایساہوتا تھا۔کسی دیوار پر اشتہار نظر آتا۔کسی پرانے مقبول عام ڈرامے کے متعلق اطلاع دی جاتی۔پرانا ڈرامہ نئی کاسٹ کے ساتھ۔ شائقین کی دلچسپی ذرا بڑھ جاتی۔تاہم اب کی باراتنی بھی زحمت نہیں کی گئی۔ڈرامہ کے کردار پرانے ہیں تو پرفارمر بھی وہی پرانے۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ ڈرامہ عام انتخابات کے باکس آفس پر کتنا کامیاب رہتا ہے۔کتنا ناکام۔
سوموار کے روز جنوبی پنجاب سے تعلق والے 8ارکان اسمبلی کے اند ر بغاوت کے جرثومے نے سر اٹھایا اور ان کو ایک عدد پر یس کانفرنس کھڑکانے پر اکسایا۔سہ پہر کے وقت ملک بھر سے آئے ہوئے میڈیا ورکرز کے ہمراہ، ہم سب بطور میزبان نیشنل پریس کلب میں موجود تھے۔ہم سب ویج بور ڈ ایوارڈ کے نفاذ کے لئے تاریخی جدوجہد کی غرض سے دھرنادینے کے لئے تیا ر تھے۔سو اس روز ٹی وی دیکھنے کی فرصت تھی ہرلمحہ ہاتھ کی مٹھی میں بند، سوشل میڈیا کی جادونگری میں جھانکنے کا وقت۔ اچانک خبرملی کہ مسلم لیگ (ن)کو کوئی سیاسی جھٹکا لگنے والا ہے۔کچھ کریدکی تو پتا چلا کہ لاہور کے کسی فائیو سٹا ر ہوٹل میں کئی روز سے بند کمروں میں تیاریاں جاری تھیں۔ ترغیبات، تحر یص مستقبل کے سہانے خواب نامہ عمال کی جھلک اوربہت کچھ۔ آخر کار سب کچھ طے ہوگیا۔اور باقاعدہ اناؤنس منٹ کا وقت آگیا۔ویج بورڈ ایوار ڈ پر مذاکرات کیلئے کئی سرکاری اہلکار این پی سی میں موجود تھے۔ خاکسار کو باخبر سمجھتے ہوئے سرکاری افسرنے متوقع لوٹو ں کے نام پوچھ لیے۔ بخدا تب تک ہر گز معلوم نہ تھا کہ آج کو ن سے موسمی پرندے اڑان ہونے کے لئے تیار ہیں۔ بہرحال محض اندازے سے چند نا م بتا دیئے۔ظاہر ہے اپنی باخبری کا بھی تو بھرم رکھنا تھا۔ شومئ قست پریس کانفرنس کے بعد پتہ چلا کہ 90فیصد اندازہ درست نکلا۔پریس کانفرنس میں شریک ویہاڑی سے تعلق رکھنے والے ایک سابق آزاد حال مقیم مسلم لیگ (ن)رکن قومی اسمبلی جوچوتھی دفعہ اپنی جماعت کو چھوڑ نے کا اعلان فرمارہے تھے۔ شایدابھی تک کسی نے قابل توجہ نہیں سمجھا ہوگا۔ جو باربار اعلان کررہے ہیں کہ ہم تو پڑے ہیں راہوں میں۔جنوبی پنجاب کی اچانک محبت میں مبتلا موصوف آزاد امیدوار کے طور پر مسلم لیگ (ن) کی امیدوار تہمینہ دولتانہ کو ہر اکر اسمبلی پہنچے۔ وہ تو اتفاق ہو ا کہ تہمینہ دولتانہ مخصوص نشست پر ممبر بن گئیں۔ بہر حال موصوف قانونی تقاضے کے تحت آزاد نہ رہے۔(ن)لیگ میں چلے گئے۔ تہمینہ دولتا نہ پس منظر میں چلی گئی۔ جنوبی پنجاب کی محبت میں مبتلا روایتی خاندانوں کے چشم وچراغ نوجوانوں اور بزرگ
سیاستدانوں نے وسیب سے محبت کا اظہار کیا بھی تو لاہور میں بیٹھ کر تخت لاہور کی دھرتی پر بیٹھ کر، جد وجہد دیدنی ہوگی۔اب بڑے بڑے گدی نشین صاحبان جبہ ودستار سینکڑوں نہیں ہزاروں ایکڑجاگیروں کے مالک جنوب پنجاب کے پسے ہوئے درماند ہ عوام کے حقوق کے لئے لڑیں گے۔ اس با ت میں کوئی شک نہیں کہ ووٹ ان کی مٹھی میں بند ہیں۔ ان میں سے اکثراپنی نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہیں۔آنے والی حکومت میں اکثریتی پارٹی کے ساتھ ہوں گے۔ وزارتیں، منصب،عہدے اور اعزازات پائیں گے۔ ایسے ہی جیسے ان زمینی خداؤں کے اجداد بلکہ برطانیہ سے وفاداری کے عوض پاتے تھے۔یہی صدیوں سے ہوتا آیا ہے اور ابھی شایدایک طویل عرصے تک یہی روش جاری وساری رہے گی۔ کب تک؟جب تک ووٹر نہیں جاگ جاتا۔پیر ی، مریدی، ذات، برادری، قبیلہ، نام و نصب کی زنجیریں اتار نہیں پھینکتے۔مسلم لیگ (ن)کے بدلتے موسموں کے ساتھ رخ بدلنے والے ان ارکان اسمبلی میں شاید ہی کوئی ایسا ہو۔ جس کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہو کہ وہ آندھیوں کے سامنے کھڑا ہوسکے گا۔ بزرگ سیاستدان9دہائیوں کی عمر کوچھوتے ہوئے جناب میر بلخ شیر مزاری 1993ء میں نگران وزیر اعظم بنے تو پہلی ملاقات اپنی تحصیل کے اے سی صاحب سے کی ۔ ان کی چند روزہ وزارت عظمیٰ کو سپریم کور ٹ نے غیر آئینی قراردے دیا۔ اے سی کے ساتھ بھی تعلقات بناکر رکھنے والے اس عظیم راہنماکی بشار ت میں کونسا انقلاب آئے گا۔ اس کے لئے زیا دہ سوچ بچار نہیں کرنی پڑے گی۔نئے قائم محاذکے دوسرے جید لیڈر جناب خسرو بختیار 1997ء میں مسلم لیگ (ن)کے ٹکٹ پر ایم پی اے بنے۔ 2002ء میں حالات کا رخ دیکھ کر مسلم لیگ (ق)میں چلے گئے۔ خارجہ امور کی وزارت کے مزے لوٹے۔2008ء میں پیپلز پارٹی کی جوکھٹ پر سجد ہ کیا۔5سال پورے کئے۔2013ء میں اچانک موڑ کاٹا اور شہباز شریف کے ساتھ پرانے تعلقات کو استعمال کرتے برسراقتدار پارٹی میں شامل ہوئے۔ شجاع آباد سے ن لیگ چھوڑ دینے والے نون کا ریکارڈ تواور بھی منفرد ہے۔ماضی کو چھوڑ یں۔ 2013ء کے بعد چار سال 10مہینے کے مختصر عرصہ میں چار مرتبہ پارٹیاں بدل چکے ہیں۔ابھی چند ماہ پہلے جادو کی چھڑی کے زورسے بلوچستان میں سب کچھ راتوں رات بدل گیا۔نیا وزیر اعلیٰ پرانی کابینہ کے ساتھ نیا نکورہوگیا۔ نیا چیئرمین سینیٹ بلوچستا ن سے آیا۔جو ہوا آئین اورقانون کے تقاضوں کے مطابق ہوا۔اس خوبی کے ساتھ کہ کوئی اعتراض بھی نہیں اٹھایا جاسکتا۔ اگلی قسط میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے چار ارکا ن اسمبلی چپ چاپ استعفیٰ دے گئے۔ان میں سے اکثر وزارتوں پر فائز تھے۔اس بات کا بھی عندیہ دیا جارہا ہے اگلے چند روز میں مزید یہ پرند ے اُڑیں گے۔ آزاد گروپ جائن کرنے کے لئے۔مسلم لیگ (ق)کے چوہدری ظہیر الدین پی ٹی آئی جائن کرکے چوہدریوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجاگئے ہیں۔ایک یلغارہے ہرطرف۔یہ کھیل عشروں سے جاری ہے۔ کبھی آئی جے آئی،کبھی مسلم لیگ (ج)، کبھی آزاد گروپ، کبھی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، کبھی پیٹریاٹس اور کبھی صوبہ محاذ۔سب کچھ وہی پرانا ہے۔ بس عوامی ردعمل ذرا مختلف ہے۔ سوشل میڈیا نے بہت کچھ بدلا ہے۔
ماضی کے تین انتخابات ثابت کرتے ہیں کہ ووٹر لوٹا کریسی کو پسند نہیں کرتا۔ان تینوں انتخابات میں ووٹر نے شعور کا مظاہر ہ کیا۔ اکثر عادی لوٹے اپنی نشستیں ہارے لیکن بمشکل کامیاب ہوئے۔فیصلہ عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ لیکن ایک کام سیاسی جماعتوں کو کرنا ہوگا۔ خاص طورپر مسلم لیگ(ن) کو۔وہ قابل انتخاب شخصیات کا بوجھ اتار پھینکے۔اپنے کارکنوں کو ٹکٹ دے، کیا ہوگا۔شکست بھی اپنی ہو گی اور جیت بھی اپنی۔ مستعار لی ہوئی جیت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ لو ٹا کر یسی تب ختم ہوگی جب سیاسی جماعتیں اپنے دروازے موسمی پرند وں کے لئے بند کریں گی۔


ای پیپر