تبدیلی کی ہوا
11 اپریل 2018 2018-04-11

آج کل تبدیلی کی ہوا کا بہت چرچا ہے۔ تحریک انصاف بہت خوش ہے کیونکہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے بااثر، مضبوط اور جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدوار تیزی سے اس کا رخ کر رہے ہیں۔ عمران خان کا زیادہ وقت آج کل انہی مضبوط امیدواروں کو تحریک انصاف میں شامل کرنے اور انہیں خوش آمدید کہنے میں گزر رہا ہے۔ تحریک انصاف اسے تبدیلی کی ہوا قرار دے رہی ہے جو بتدریج اسے اقتدار کی منزل کے قریب لے جا رہی ہے۔ اقتدار حاصل کرنا ہی دراصل ہر سیاسی جماعت کے قیام کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کے پیچھے دو ہی مقاصد ہوتے ہیں ایک مقصد تو ہوتا ہے کہ اقتدار حاصل کر کے جماعت کے بنیادی نظریات ، پروگرام ، اصولوں اور منشور پر عمل کرتے ہوئے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔ سیاسی جماعت اور قیادت عوام کو بتائے گئے وژن اور سمت کے مطابق معیشت، سیاست، خارجہ پالیسی ، سلامتی پالیسی اور داخلی پالیسی کی تشکیل کرے اپنے وژن اور پروگرام کے مطابق ملک کو چلایا جائے۔ دوسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنے سیاسی نظریات ، اصولوں ، منشور اور پروگرام کو پس پشت ڈالتے ہوئے مصالحت اور موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی قیادت اور ان کے گرد موجود لوگوں کے مفادات کو حاصل کرنے کے لئے اقتدار میں آیا جائے۔ نظریاتی سیاست تو اس ملک میں کب کی دفن ہو چکی ۔ ہماری سیاست کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ ایک نجی ٹی وی چینل کے ہلکے پھلکے طنز و مزاح کے پروگرام میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے جو رہنماء شرکت کرتے ہیں وہ اکثر اپنی جماعت کے پروگرام یا منشور کے چند بنیادی نکات بتانے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے منشور ، نظریات اور پروگرام محض ایک رسمی کارروائی کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ سیاسی جماعتیں رسمی کارروائی کو پورا کرتے ہوئے ایک منشور کا اعلان کرتی ہیں مگر یہ منشور کبھی ووٹرز میں تقسیم نہیں ہوتا اور نہ ہی قیادت اس منشور پر عوام سے ووٹ مانگتے ہیں۔ جب سیاسی جماعتیں اپنے بنیادی نظریات ، پروگرام اور منشور کا سہارا نہ لیں اور نہ ہی نچلی سطح پر تنظیم سازی کریں تو پھر اقتدار حاصل کرنے کا راستہ مقتدر قوتوں اور بار بار جماعتیں بدلنے والے بااثر امیدواروں کی دہلیز سے ہو کر گزرتا ہے۔ اقتدار کے حصول کی خواہش مند ہر سیاسی جماعت کو مقتدر قوتوں اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے مضبوط امیدواروں کی چوکھٹ پر سلامی دینی پڑتی ہے۔

اقتدار حاصل کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ اقتدار یا تو عوامی تائید ،حمایت اور طاقت سے حاصل ہوتا ہے یا پھر مقتدر قوتوں کی اشیرباد اور اشرافیائی سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں۔ پاکستان میں اس وقت اقتدار حاصل کرنے کی جنگ ، لڑائی اور کشمکش اشرافیائی جوڑ توڑ اور مقتدر قوتوں کی حمایت ، تائید اور اشیرباد کے اردگرد گھومتی ہے۔ اس وقت کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کے پاس عوامی مسائل کے حل کا پروگرام اور وژن ہی موجود نہیں ۔ اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ جب بلاول بھٹو زرداری عوام کے مسائل کا ذکر اپنی تقریر میں کرتے ہیں تو کئی دن اسی بات کی خوشی رہتی کہ کسی نے تو عوام کے دکھوں،غموں اور تکالیف کا بھی ذکر کیا مگر بلاول بھٹو بھی ابھی تک کھل کر ان مسائل کی بات نہیں کر رہے۔ وہ کوئی ایسا پروگرام اور وژن سامنے لانے سے قاصر ہیں جو ان مسائل کے حل کا واضح اور غیر مبہم خاکہ پیش کرتا ہو۔

اس وقت ہمارے ملک کی سیاست اشرافیہ کے مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ اس وقت سیاست کا بنیادی محور یہ ہے کہ کس طرح اشرافیہ کا ایک حصہ برسراقتدار دوسرے حصے کو ہٹا کر خود اقتدار میں آتا ہے۔ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں اشرافیہ کے تسلط اور غلبے میں ہیں۔ ان انتخابات میں اتنی ہی تبدیلی آئے گی کہ چند چہرے تبدیل ہو جائیں گے۔ پارٹی کا نشان اور وزیر اعظم تبدیل ہو جائے گا اور اشرافیہ ایک نئے نام سے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان رہے گی۔ موجودہ انتخابات اور جمہوریت بس اتنی تبدیلی کی ہی سکت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔

راتوں رات جماعت اور سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کی جس روایت کا آغاز پنجاب میں یونینسٹ پارٹی کے جاگیرداروں اور زمینداروں نے کیا تھا اسے اب تک جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے برقرار رکھا ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف جس تبدیلی کی ہوا پر بہت خوش ہیں اور انتخابی پرندوں کی اپنی منڈیر پر لگی لائن دیکھ کر پھولے نہیں سما رہے۔ یہ انتخابی پرندے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ اڑان بھر چکے ہیں۔ کئی چھتوں ، دیواروں اور منڈیروں کو رونق بخش چکے ہیں۔ کئی گھر جو ان انتخابی پرندوں کی شوخیوں اور چہچہوں سے گونجتے تھے اب ویران ہو چکے ہیں۔

مسلم لیگ (ق) اس کی سب سے اچھی مثال ہے۔ جب مقتدر قوتوں نے اپنے سیاسی مفادات کے تحت یہ جماعت تشکیل دی تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے کئی رہنماؤں نے اس جماعت کو رونق بخشی۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کے دل و دماغ میں کوئی کا یا پلٹ ہو گئی تھی بلکہ احتساب کے خوف اور اقتدار کے لالچ نے انہیں مسلم لیگ (ق) کا مہمان بنا دیا۔ جنرل (ر) مشرف اس جماعت کے خالق ، رہنما اور سب کچھ تھے۔ 2002ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ق) سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ جب حکومت بنانے کے لئے درکار مطلوبہ تعداد پوری نہ ہوئی تو پیپلز پارٹی کے چند ’’محب وطن‘‘ رہنما سامنے آئے اور یوں قومی سلامتی کے ایک اہم فریضے کی تکمیل ہوئی۔ چوہدری پرویز الٰہی کا خیال تھا کہ پنجاب کا جو انتخابی قلعہ انہوں نے فتح کیا ہے تو اس پر ان کا جھنڈ لہراتا رہے گا۔ مگر پانچ سالوں کے بعد جب شریف خاندان اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو واپس آ گئیں اور وکلاء تحریک اپنے عروج پر تھی تو مسلم لیگ (ق) انتخابات ہار گئی۔ مسلم لیگ (ق) کے کئی رہنماؤں نے مسلم لیگ (ن) میں واپسی کا راستہ لیا۔ مسلم لیگ (ق) 2008ء کے انتخابات میں تیسری بڑی قوت کے طور پر موجود رہی مگراس کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری رہا۔ 2013ء کے عام انتخابات میں یہ جماعت محض دو نشستوں تک محدود ہو گئی۔ 2013ء کے عام انتخابات میں تو اس کے پاس کئی حلقوں میں مضبوط امیدوار موجود تھے۔ مگر اب یہ جماعت مکمل طور پر تحلیل ہو چکی ہے۔ بلوچستان میں یہ جماعت عوامی پارٹی میں ضم ہو گئی۔ پنجاب میں چند ایک مسلم لیگ کے رہنماؤں کو چھوڑ کر باقی سب لوگ تحریک انصاف کو پیارے ہو گئے۔ یہ جماعت تیزی سے اپنے منطقی انجام کی جانب گامزن ہے۔

2013ء کے عام انتخابات سے پہلے یہ انتخابی پرندے مسلم لیگ (ن) کی منڈیر پر جا بیٹھے تھے۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) ان موسمی انتخابی پرندوں کی پسندیدہ جماعت تھی۔ کیونکہ ان کو یقین تھا کہ اگلی حکومت مسلم لیگ (ن) بنائے گی لہٰذا اقتدار کے پیچھے یہ مسلم لیگ (ن) میں جا پہنچے۔ اس وقت (ن) لیگ خوش تھی کہ اس کی اقتدار کی منزل قریب آ رہی ہے۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف ان کا پسندیدہ انتخاب بنتی جا رہی ہے۔ بہت جلد تحریک انصاف میں تبدیلی کا عمل مکمل ہو جائے گا اور یہ انتخابی سیاست کی ایک مکمل روایتی جماعت تو پہلے ہی بن چکی ہے اب اسے محض انتخابی پرندوں کی سب سے بڑی آماجگاہ بننا ہے۔

تبدیلی کی اس ہوا کی اہم بات یہ ہے کہ جب بھی چلتی ہے تو صرف بڑے محل، فارم ہاؤس ، بڑے گھر اور مہنگے اپارٹمنٹس ہی اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ غریب علاقوں کے تنگ و تاریک مکانات ، گلیاں ، جھونپڑیاں اور کچے پکے مکان اس ہوا سے محروم ہی رہتے ہیں۔ تبدیلی کی اس ہوا سے صرف اشرافیہ کے ہی چہرے کھلتے ہیں جبکہ غریب عوام کے بجھے اور زرد چہرے لالی کے انتظار میں اور بھی بے رونق ہو جاتے ہیں۔ تبدیلی کی یہ ہوا صرف اشرافیہ کے لئے خوشگوار ٹھنڈک کا احساس پیدا کرتی ہے جبکہ غریب عوام کے لئے تو یہ گرم لو کے جھلستے تھپیڑوں کی طرح ہی رہتی ہے۔


ای پیپر