کیمیائی حملہ۔۔۔ شام ایک ٹائم بم
11 اپریل 2018 2018-04-11

شام میں جاری خانہ جنگی، انتہائی خطر ناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اس ہفتے باغی علاقے دو ما میں کیمیائی حملے کی اطلاعات ملی ہیں جس میں 100 سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق کلورین گیس پر مشتمل بمبوں کی وجہ سے متاثرین کے منہ سے جھاگ بہہ رہی تھی اور وہ نہایت تکلیف میں مبتلا رہنے کے بعد خون کی قے کرتے کرتے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ یہ عالمی ضمیر کے لیے بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ جنگ میں انسانیت سوز طریقے سے دشمن کو مارا جائے۔
شام کے سربراہ بشار الاسد نے اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ہی شہریوں کے خلاف یہ ظلم نہیں کر سکتے لیکن امریکہ نے اس کا الزام بشار الاسد پر لگایا ہے۔ انہوں نے لاطینی امریکہ کا اپنا دورہ ملتوی کر دیا ہے تاکہ اس پر امریکہ کی طرف سے ردعمل بلکہ جنگی جواب دیا جا سکے۔ دوسری طرف شام نے اپنے فوجیوں کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ شام کی صورت حال کسی بھی وقت آتش فشاں کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ بشار الاسد کا کہنا ہے کہ یہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ شام پر حملے کا جواز پیدا کیا جا سکے۔
شام کے حالات کا اسرائیل کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو اس منشور پر اسرائیل کا الیکشن جیتے تھے کہ انہوں نے یہودی عوام کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آ کر خطے میں ایران کا اثرو رسوخ ختم کر دیں گے جو کہ اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔ اسرائیل کے پریشر کی وجہ سے ہی ڈونالڈ ٹرمپ نے بر سراقتدار آ کر ایران کے ساتھ 2015ء والے نیو کلیائی معاہدے اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے والا معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ لیکن اسرائیل اور امریکہ کی سر توڑ کوشش کے باوجود شام سے ایران کا اثر ختم نہیں ہو سکا بلکہ یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ ایرانی فوجی ماہرین براہ راست شامی فوج کی کارروائی کو مانیٹر
کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طور پر سعودی عرب کو ایرانی مداخلت پر زبردست تشویش ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب نے امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات بڑھا کر خطے میں ایک نیا فوجی بلاک قائم کر دیا ہے جو کہ ناقابل یقین ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے فلسطینی کازکو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور وہ مکمل طور پر اسرائیل کے رحم و کرم پر ہیں جس کی وجہ سے اس وقت فلسطین میں بھی کشمیر والی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ فلسطینیوں کو روزانہ کی بنیاد پر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ مگر مظلوموں کی حمایت میں کوئی آواز اٹھانے والا نہیں۔ شام کے بحران میں جب سے روس داخل ہوا ہے صورت حال بہت زیادہ سنگین ہو چکی ہے۔ اگر روس بشار الاسد کی حمایت میں اس جنگ میں نہ کودتا تو شام میں بشار الاسد کا کب کا تختہ الٹ چکا ہوتا بلکہ بشار الاسد اب تک صدام حسین اور کرنل قذافی والے انجام تک پہنچ چکے ہوتے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام پر پیش ہونے والی اس قرارداد کو دیٹو کر دیا ہے جس کی رو سے کیمیائی حملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی جانی تھی۔ روس کو یہ اعتراض تھا کہ اس کی کمیٹی کے ارکان کا تعین امریکہ کے کہنے پر نہیں ہو گا۔ روس کو خطرہ ہے کہ یہ تحقیقات غیر جانبدار نہیں ہو گی۔
اس وقت امریکہ اقوام متحدہ کی مدد سے زیادہ شام پر حملے کے آپشن پر زیادہ غور کر رہا ہے اور اس میں فرانس اور برطانیہ کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے یہ وہی صورت حال ہے جو عراق پر حملے کے وقت پیدا کی گئی تھی اور عراق پر حملے کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی تھی کہ صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیار ہیں جو دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ یہ تمام الزامات غلط ثابت ہوئے۔ امریکی اتحادی برطانوی وزیر اعظم (سابق) ٹونی بلیئر نے پوری دنیا کے سامنے اعتراف کیا کہ عراق میں کیمیائی ہتھیار موجود نہیں تھے۔ جس پر مغربی پریس میں ٹونی بلیئر کو جارج بش کا poodle یعنی پالتو کتا کہا گیا۔
گزشتہ سال اپریل ہی میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام پر ڈونالڈ ٹرمپ نے شام پر ٹام مارک میزائلوں سے حملہ کیا اور 60 سے زیادہ میزائل داغے گئے۔ اس وقت صورت حال اس سے آگے جا چکی ہے امریکہ چاہتا ہے کہ وہ large scale جنگ شروع کر دے لیکن برطانیہ اور فرانس اس پر راضی نہیں ہیں۔ اگلے چند دنوں میں امریکہ اپنے بحری بیڑے سے شام پر میزائل حملہ کر سکتا ہے لیکن یہ اتنا کارگر ثابت نہیں ہو گا۔ ڈونالڈ ٹرمپ اس آپشن پر غور کر رہے ہیں کہ B52 بمبار طیاروں کا حملہ کیا جائے مگر یہ بہت بڑا رسک ہے کیونکہ وہاں روس اور ایران کی فورسز موجود ہیں اور اگر امریکہ کا ایک بھی طیارہ مارگرا دیا گیا تو یہ امریکہ کے لیے فوجی طور پر ڈوب مرنے کا مقام ہو گا۔
امریکہ عام طور پر ہوائی حملہ وہاں کرتا ہے جہاں اسے مزاحمت کا خوف نہ ہو۔ اس کی مثال عراق اور افغانستان ہیں لیکن اگر وہ شام پر بمباری کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہو گا جہاں اصل طاقت اس وقت روس ہے۔ روس کی وجہ سے ہی بشار الاسد کا اقتدار قائم ہے۔
سعودی عرب اس صورت حال سے لطف اندوز ہو رہا ہے کہ جو کام وہ امریکہ سے آج تک نہ کرواسکا وہ امریکہ بہ رضاورغبت خود کر رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ سعودی عرب سے ملنے والے سینکڑوں ارب ڈالر کے وہ اسلحہ خریداری کے آرڈر ہیں جو ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ سال امریکہ کو دیئے ہیں۔ جس کے بعد سعودی عرب کا کلچر تبدیل ہونے لگا ہے جو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا واضح نتیجہ ہے۔ سعودی عرب میں پردے پر پابندی کا خاتمہ، خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت۔ فٹ بال میچ دیکھنے کی اجازت اور اب سینما گھروں کی بندش کا خاتمہ جیسے اقدامات کر دیے گئے ہیں۔ سعودی عرب میں پہلی بار casino (جوئے خانے) کے طرز پر ان ڈور گیمز کمپلیکس کا افتتاح ہو چکا ہے جس میں تاش اور اس طرح کے دیگر کھیل شامل ہیں۔


ای پیپر