ڈپریشن، خراب آپشن۔۔۔
11 اپریل 2018



دوستو، ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر تیسرا شخص ڈپریشن کا شکارہے۔رپورٹ کے مطابق چونتیس فیصد آبادی ڈپریشن میں مبتلا ہے، اس رپورٹ میں مردوں سے زیادہ خواتین کو ڈپریشن کا شکار بتایاگیا ہے۔رپورٹ میں پانچ کروڑ پاکستانیوں کو عمومی ذہنی امراض میں مبتلابتایاگیا ہے، جس میں ستاون فیصد خواتین شامل ہیں۔حیرت انگیز طور پر ملک میں ماہرین نفسیات صرف آٹھ سو کی تعداد میں ہیں، جہاں تک بچوں کی نفسیات کا تعلق ہے تو 40 لاکھ بچوں کے علاج کے لئے ایک سائیکاٹریسٹ موجود ہے اور پاکستان میں پوری آبادی کے لیے 4 ہسپتال نفسیات کے علاج کی سہولت مہیا کر رہے ہیں۔ ڈپریشن کی بڑی وجوہ میں بیروزگاری، بیماری، غربت، بے گھر ہونا اور خاندانی تنازعات ہیں۔سال بھر میں پاکستان کے 35 شہروں میں 3 سو لوگوں کی خود کشی کا جائزہ لیا گیا تو پتا چلا کہ اکثریت کی عمریں 30 سال سے کم تھیں جبکہ مرنے والوں میں غیر شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورتوں کی تعداد زیادہ تھی۔
رپورٹ میں جو کچھ بتایاگیا ہے اس میں ہمارے کالم کے لئے موضوعات تو بہت ہیں، جیساکہ ستاون فیصد خواتین ذہنی امراض کا شکار ہیں،خودکشی کرنے والوں میں زیادہ تر غیرشادی شدہ مرد اورخواتین زیادہ تر شادی شدہ ہوتی ہیں۔ لیکن ہم بات کریں گے ڈپریشن کی۔جب ہم نے اپنے پیارے دوست سے اس خبر کو ڈسکس کیاتو انہوں نے اپنی منطق جھاڑی، کہنے لگے، اگر میاں بیوی کی ایک اولاد ہوگی تو اس کا مطلب ہے رپورٹ کے مطابق وہ ڈپریشن کا شکار ہوگا۔پیارے دوست نے ہرتیسرے پاکستانی کواپنے معنوں میں ہمیں سمجھانے کی کوشش کی۔ڈپریشن کو ہم دماغی فتور بھی کہتے ہیں، کسی بھی ایسی چیز کو جو ابھی ہوئی نہیں ہم پہلے سے اسے دماغ پہ سوار کرلیتے ہیں اور اس سے متعلق سوچ سوچ کے ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ویسے تو کھچڑی ایک ایسی ڈش ہے جو فی زمانہ کچن میں کم لیکن لوگوں کے دماغوں میں زیادہ پکتی ہے۔۔۔جب اس نے کہا تمہارے سارے غم،پریشانیاں میں دورکردوں گی،ہم نے اپنے کریڈٹ کارڈ اور یوٹیلیٹی بلز اسے تھمادیئے۔شوہر جب گھر پہنچاتو کہنے لگا۔ بیگم کھانا لگاؤ سخت بھوک لگی ہے۔ بیگم نے کہا، گیس نہیں ہے اور کھانا نہیں پک سکا۔شوہرنے کہا، تو ہیٹر پر پکا لیتیں۔بیگم نے جواب دیا، بجلی ہی نہیں ہے ۔شوہر بولا، اچھا بیٹا گاڑی کی چابی لو اور ہوٹل سے کھانا لے آؤ۔ بیٹے نے کہا، پاپا گاڑی میں سی این جی نہیں ہے۔شوہرنے حیرت سے بیٹے کو دیکھا پھر کہا، اچھا تو پھر میرے ساتھ موٹر سائیکل پر چلو۔بیٹا پھر بولا، پاپا ڈبل سواری کی پابندی ہے۔ چلو فون پر آرڈر دے دو۔بیٹے نے کہا، پاپا آج فون سروس بند ہے، بیٹے کا یہ جواب سن کرشوہر بولا۔ حد ہو گئی پاکستان میں سب کچھ ختم ہے تو پھر باقی کیا ہے۔ بیگم بڑی معصومیت سے بولیں،ہاں جی ہے کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے۔یہ واقعہ کراچی کے ایک پوش علاقے کا ہے، اور بالکل سچا ہے اسے کہیں لطیفہ نہ سمجھ لیجئے گا۔۔۔
کچھ لوگ حکومت کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں، ارے آپ حکمرانوں کے ’’مامے‘‘ لگتے ہو جواُن کے فیصلوں پر اپنا خون اور دل جلاتے رہتے ہو۔ایک صاحب جو حکومت کے شدید ناقد ہیں ہم سے پوچھنے لگے، کیا سینیٹ کے کاموں کو ’’سینیٹری ورک‘‘ کہاجاسکتا ہے۔؟؟ ۔ حکومت کے ایک حامی نے ہمیں بتایا کہ۔اورنج ٹرین کا سب سے بڑا کمال یہ ہوگا کہ انجن لاہور میں سٹارٹ ہوگا اور دھواں بنی گالہ سے نکلے گا۔۔۔آپ نے شاید کبھی مشاہدہ کیاہوکہ ہماری قوم اب انجوائے منٹ بھول گئی ہے، کسی بھی انجوائے منٹ کے موقع پر اسے اپنی پریشانیاں یاد آجاتی ہیں، جیسا کہ ۔دنیا میں جب بھی بارش ہوتی ہے تو آواز آتی ہے ، واٹ آ رومانٹک ویدر۔ لیکن پاکستان میں بارش ہوتی ہے تو مختلف اقسام کی آوازیں آتی ہیں، اٹھو منڈیو منجے اندر کرلو۔موٹر تے تسلا رکھ وے بے ہدایتا۔تندور بچھ گیا سارا بے شرمو، بکری اندر کرلیؤ۔اوئے ویکھ پرنالہ چلدا کہ نہیں۔کسی کو اس بات کا ڈپریشن ہوتا ہے کہ وہ کالا کیوں ہے۔ اب انہیں کالا ہونے کے فائدے تک نہیں معلوم، بھائی کالا ہونے کے بہت فائدے ہیں، سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ روز منہ نہیں دھونا پڑتا۔کسی کی نظر نہیں لگتی۔ رنگ گورا کرنے والے کریموں پر ایک بار کے بعد دوبارہ پیسے خرچ نہیں کرنے پڑتے۔ لڑکی سیٹ نہیں ہوتی تو اس پہ خرچے کی ٹینشن نہیں ہوتی۔ کوئی در فٹے منہ کہہ بھی دے تو زیادہ افسوس نہیں ہوتا۔۔۔ہمیں حیرت تو ان لڑکیوں پر ہوتی ہے جو شادی سے پہلے اور شادی کے بعد روزانہ رنگ گورا کرنے والی کریمیں لگاتی رہتی ہیں لیکن اولاد پھر بھی ’’اصل رنگ‘‘ میں ہی جنم لیتی ہے۔۔۔ہمارا ایک دوست تو اتنا کالا ہے کہ وہ جس صابن سے نہاتا ہے، پانچ منٹ وہ صابن بھی کندھے پہ تولیہ ڈال کے نہانے چلاجاتا ہے۔
ویسے سوچنے کی بات ہے قوم ڈپریشن کا شکار کیوں نہ ہو۔ جو بیچاری اپنے آئینی حقوق نہ لے سکے کیونکہ رشوت دینے کی سکت نہیں رکھتی۔ کسی ناظم کی مدد نہیں مانگ سکتی کیوں کہ وہ اس کے ووٹ سے بناہی نہیں۔ لازمی اشیائے ضرورت کے روز بروز بڑھتے ہوئے نرخوں پر احتجاج نہیں کرسکتے کیوں کہ حکومت الیکشن میں مصروف ہے۔ سیاستدان مشرف فوبیا میں مبتلا ہیں وہ سپریم کورٹ کی نہیں مانتے تو عام غریبوں کی کیا سنیں گے۔اگر کسی غریب کا بچہ قتل ہوجائے تو وہ قاتلوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔کیوں کہ اس کے پاس پولیس اور عدالت کا خرچ نہیں۔وہ بیچارہ بس میں کھڑے ہو کر سفر کرتا ہے کیونکہ سیٹ چھین لینے کی اس میں طاقت نہیں،۔یہ سب تو عام عوام کے ساتھ ہورہا ہے۔لیڈروں کا کیا بگڑا؟؟۔ سبھی آزادی سے اندرون و بیرون ملک مزے کر رہے ہیں اورغریب بیچارہ آزاد ہوتے ہوئے بھی ایک قیدی کی زندگی گزار رہا ہے۔جوتا پڑنے سے فرق نہیں پڑتا ،سیاہی سے منہ کالا ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔کرپٹ معاشرے کا منہ پہلے ہی کالا ہے اور اس عوام کو جوتے تو روز پڑتے ہیں۔ حالات ایسے نہیں بدلتے نہ حالات ایسے بدلے ہیں۔جب تک ہم لوٹ کھسوٹ کی بجائے پوری دیانتداری سے اس قوم اور اس ملک کے لیے کام نہیں کریں گے اس وقت تک ہم یونہی در در کے گداگر رہیں گے۔ ہم کبھی بجلی کے اجالوں سے محروم رہیں گے۔ ہم کبھی گیس کی قلت کا شکار رہیں گے۔ کبھی پانی کا بحران سر اٹھائے گا، کبھی گندم، کبھی چینی، کبھی ٹماٹر، کبھی پیاز اور کبھی تیل کے عذاب میں جکڑے رہیں گے۔ قدرت کا یہ اصول ہے وہ انسان کو ہاتھ اور اس کے ہاتھ میں پانچ انگلیاں عطا کرتی ہے ، لیکن ان ہاتھوں اور ان انگلیوں سے نوالہ خود توڑکر منہ میں ڈالنا پڑتا ہے۔ قدرت نوالے توڑ توڑ کر منہ میں ڈالنے پر پہلے مہربان ہوئی ہے اور نہ اب ہو گی۔ ہمیں اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کو استعمال کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے وسائل پر انحصار کرنا ہوگا۔
اف یاد آیا، آج آخری تاریخ ہے ہمیں بھی بجلی کا بل ادا کرنا ہے، اگر آج ادا نہ ہوا توہمارے گھر کا بجلی کا میٹر کاٹ دیا جائے گا پھر واپڈا کے دھکے کھانے پڑیں گے،اور ہمارے پاس تو تگڑی سفارش بھی نہیں۔اچھا تو پھر ملتے ہیں۔


ای پیپر